(Current Episode 1 to 27)
Rah e ishq mein by Esha Asif complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Esha Asif is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Rah e ishq mein by Esha Asif complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Esha Asif All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"صاحب ہم نے کام شروع نہیں کیا پھر آپ کیوں آئے ہیں؟"
ان میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر اپنی صفائی دی تھی۔
"ہم نے کچھ نہیں کیا۔"
دوسرے آدمی نے بھی فوراً کہا تھا۔
" کس سے پوچھ کر کام روکا ہے تم سب نے۔"
اس کی ایک ہی دھاڈ پر سب کے سب جو
بولنے لگے تھے خاموش ہو گئے ۔
"ایک وکیلنی نے آکر کام رکاوادیا ہے۔"
ٹھیکے دار نے کہا تھا۔
" اور یہ کارڈ دے کر گئی تھی کہ اگر کسی نے یہاں دو بارہ کام کرنے
کی کوشش کی تو اس نمبر پر ربطہ کروائیں مجھ سے۔"
اس نے ایک کارڈ ایس پی کی طرف بڑھا دیا ۔
" بلاؤ ذرا اس کالے کوٹ
والی کو "
ایس پی نے حکم دینے والے انداز میں
کہا تھا۔
" اور تم سب اپنا اپنا کام
کرو میرا منہ کے دیکھ رہے ہو؟ "
تمام مزدوروں کو اس نے
حکم سنایا تھا ۔
ان کے نہ جانے پر ایس پی نے دھمکی دی تھی۔
"اگر تم سب نے کام نہ شروع کیا تو اندر کر دوں گا۔"
اس کی دھمکی سے ڈر کر سب نے اپنا کام شروع کر دیا۔
اور ٹھیکے دار نے اپنے فون پر کارڈ سے دیکھ کر ایک نمبر ڈائل
کیا۔
اتنے میں ایس پی ایک
طرف موجود میز اور کرسی کی طرف بڑھ گیا ۔کرسی پر بیٹھ کر اس نے اپنی ٹانگیں میز پر رکھ کر سر کرسی کی پشت سے لگا دیا۔
کچھ دیر بعد ایک سیاہ گاڈی وہاں پر پہنچ چکی تھی ۔
ایس پی کے چہرے پر دل فریب مسکراہٹ آئی تھی ۔ جس کو وہ فوراً
چھپا گیا تھا ۔
وہ اس کے بیٹھنے کے انداز سے سمجھی کہ وہ اون ڈیوٹی سو رہا ہے
اس لیے غصے میں واپس گاڑی کی طرف گئی اور پانی کی بوتل لے کر اس کے پاس آئی اور وہ
اس کی سب حرکتیں دیکھ رہا تھا۔
مگر اس کو سمجھ نہیں آئی کے وہ پانی کی بوتل کیوں لائی ہے سمجھ
تو اس کو تب آئی تھی جب اس نے پانی اُس نے منہ پر پھینکا تھا۔
" ابے تیری تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
اس نے غصے سے کھڑے ہوتے ہوئے گلاسز اتارے تھے ۔
" ہاں ۔۔۔۔۔۔۔ہاں بولو کیا بکواس کر رہے تھے تم۔"
وہ بھی سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کینہ توز نظروں سے گھورتے
ہوئے بولی تھی۔
"او۔۔۔۔تو تم ہو وہ وکیلنی صاحبہ جو بڑے دھڑلے سے ان سب کو دھمکی
دے کر گئی ہو۔؟؟"
اس نے طنزیہ انداز میں کہا تھا ۔اس نے بھی ایٹیٹیوڈ میں جواب
دیا تھا۔
" ہاں "
"تم ہوتی کون ہو ان کو روکنے والی"
اس کے ایٹیٹیوڈ پر طش سے پوچھا تھا۔
"دی ایڈوکیٹ غزال ابرہیم خان۔"
اس نے اپنے اسی ایٹیٹیوڈ
میں جواب دیا تھا۔
وہ اس کے ایٹیٹیوڈ پر دانت پیس کر رہ گیا۔
"اچھے سے جانتا ہوں تم جیسے رشوت خور وکیلوں کو۔"
اس نے سر سے پیر تک غزال کو دیکھتے ہوئے غصے میں کہا تھا۔ جس
پر وہ تلملا کر رہ گئی۔
وہ بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے کہاں تھی۔ اس لیے غصے سے بولی۔
" میں بھی تم جیسے دوٹکے کے پولیس والوں کو جانتی ہوں ۔ جو اپنی
ڈیوٹی کے ٹائم پر سو رہے ہوتے ہیں۔"
" تمہاری ہمیت بھی کیسے ہوئی مجھے..... ازمار شاہ کو دوٹکے کا کہنے کی؟؟ "
ازمار غصے سے اپنے اس کے درمیان موجود میز کو بائیں طرف الٹتے
ہوئے بولا تھا ۔
" منہ سے "
غزال نے جسے پر سکون انداز میں کہا تھا۔ازمار کو مزد آگ لگا
گیا۔
" بکواس بند کرو تمہارا میں وہ حال کروں گا کہ دوباہ
کسی کو دوٹکے کا کہنے کی ہمت نہیں ہو گی۔"
"اور میں تم جیسے دو ٹکے کے کتوں کا وہ حال کرتی ہوں کہ دوبارہ
میرے سامنے بھونکے کی ہمت نہیں کرتے ۔"
وہ دوبدو بولی تھی۔
" یو بلڈی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
اس سے پہلے کہ ازمار کچھ کہتا اس کا فون بجا تھا۔
اس نے فون اٹھا کر کان کے ساتھ لگایا۔ چند لمحے خاموش رہ کر
دوسری طرف کی بات سنی۔
"يس آئی ایم کمینگ۔"
کہہ کر وہ جانے ہی لگا تھا کہ غزال کی آواز پر رک گیا۔
"جاؤ اپنے سینسرز کے پیچھے
دم ہلاتے ہوئے ۔"
"یو ہیو ٹو پے فار دس۔"
کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
" چلا گیا ہے تم لوگوں کا دوٹکے کا ایس پی."
غزال نے طیش میں کرسی کو ٹانگ مار کر کہا تھا۔
" اور اگر کام نہیں روکا تو سب پر ایسے ایسے کیس کروں گی کہ ساری
زندگی ایسی ایس پی کی جیل میں چکی پیسو گے۔"
ان کو نہ رکتے دیکھ
کر کہا وہ سب رک گئے تو غزال بھی وہاں سے چلی گئی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

No comments:
Post a Comment