(Current Part 5)
Zakham e iltafat novel by Saba Gulzar complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which She pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around love story. It is very famous, social, romantic Urdu novel that is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Saba Gulzar is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Zakham e iltafat novel by Saba Gulzar complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Saba Gulzar All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
2. You will see an advertisement and a popup notification of allow or block.
3. Click on block and wait for 5 second. A count down will appear on top from 5 to 0. Meanwhile ignore any kind of advertisement or warning you will see on your screen.
4. After 5 second you will see skip add and click on this skip add button.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Sneaks
"ماں
!!" ریگستان کی تپتی ریت پر آگ برساتی گرمی میں ننگے پاؤں چلتے بچے نے ماں کو
پکارا ۔
ماں
جو سامنے دیکھنے میں مصروف تھی اس کی آواز سن نہ سکی ۔
"مااااں"
اس بار لفظ کھینچ کر بلند آواز میں ادا کیا گیا۔
وہ
جو پہلے ہی ساکت کھڑی تھی بچے کی آواز پہ چونکی پھر اس کی جانب پلٹی۔
گندمی
رنگت، عام سی صورت، پسینے سے شرابور چہرہ ، ریت کے ٹیلوں کے بیچوں بیچ کھڑی وہ بہت
بیزار سی نظر آ رہی تھی۔
"ہاں؟؟"
ماں نے ابرو اچکائے۔
"ماں
یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ۔" بچے نے سامنے اشارہ کرتے ہوئے سوال داغا ۔ جہاں چند
کیمرہ مین اور صحافی سوٹڈ بوٹڈ آدمی کے اردگرد جمع تھے ۔
ماں
نے نظر سامنے گھمائی جہاں وہ آدمی صحافیوں کے سوالات کا جواب دے رہا تھا اور
پھر گہرا سانس لیا ۔
بچہ
ماں کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا جو دونوں ہاتھوں میں پانی کا چھوٹا سا مٹکا لیے
اب تھکا تھکا سا نظر آ رہا تھا ۔
"یہ
یہاں فاتحہ پڑھنے آئے ہیں۔" ماں نے آنکھوں میں تپش لیے لب ہلائے ۔
کافی
دیر سے پکڑا مٹکا اب بھاری محسوس ہوا۔ بچے نے مٹکا نیچے رکھ دیا پھر ماں سے مخاطب ہوا
۔
"ماں
فاتحہ کیوں پڑھ رہے ہیں؟ "
"آدم
بیٹا !! قبرستان دیکھا ہےکبھی ؟؟ "ماں نے پوچھا ۔
"ہاں
چاچا کبھی کبھی جاتے ہیں دادا کی قبر پہ فاتحہ پڑھنے اونہہہ! اب میں سمجھا کیا ان کا
بھی کوئی مر گیا ہے ؟؟ فاتحہ تو تبھی پڑھی جاتی ہے نا؟؟ " بچے نے اپنی عقل کے
مطابق جواز پیش کیا اور تصدیق بھی چاہی۔
وہ
نارنجی رنگ کی پھٹی پرانی ساڑھی میں ملبوس تھی جس پہ سنہری رنگ کے پھولوں
کا پرنٹ نہ ہونے کے برابر تھا۔
ماں
نے پانی سے بھرا بھاری مٹکا زمین پر رکھا ۔ پھر بچے کی جانب رخ کیا ۔
اب
وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔
ماں
نے اُس جانب اشارہ کیا جہاں رپوٹر اُس با اثر آدمی کے منصوبے سن رہے تھے جو اس دشت
و بیاباں میں اس نے کبھی شروع ہی نہیں کرنے تھے ۔ ہر بار کی طرح یہاں کچھ دیر
یہی تماشا لگے گا اور پھر سال دو سال تک یہاں کوئی نہیں آئے گا ۔
"آدم
یہ جس بستی میں کھڑے ہیں یہ قبرستان ہی تو ہے ۔"
یہاں
مردے ہی تو ریتے ہیں۔ ایسے مردے جو بس سانس لے رہے ہیں، نہ پانی ہے اور نہ ہی کھانے
کیلئے کچھ ، پانی چاہیے تو پتہ نہیں کتنی دیر پیدل اس تپتی ریت پہ چل کر جانا پڑتا
ہے۔"
"یہ
ہم پہ ہی فاتحہ پڑھنے آتے ہیں آدم!" ۔ آخر میں ماں تلخی سے مسکرا دی۔۔
ماں
چلیں !! ہم انہیں کہتے ہیں آپ جب بھی ہم پہ فاتحہ پڑھنے آئیں ، پانی کی کچھ بوتلیں
لے آیا کریں چاہے پانی گرم ہی کیوں نہ ہو ۔ "بچے نے سامنے آدمی کی طرف اشارہ کرتے
ہوئے کہا جو منرل واٹر کی بوتل کو ہاتھ میں پکڑے پانی پینے میں مصروف تھا ۔
ماں
کی آنکھوں میں کرب ابھرا۔
"
پانی لے آئیں اونہہہ ان کا بس چلے تو ہمارے منہ سے نوالا تک چھین لیں۔"
ماں زیرِ لب بڑبڑائیں۔
ماں
نے جھک کر مٹکا پکڑا اور قدم آگے بڑھا دیے۔ چال میں غصہ تھا اور کچھ بے بسی ۔
"ہم
بھی ایک دن ان کے بڑی عمارتوں والے قبرستان جائیں گے اور ان پہ فاتحہ پڑھیں گے۔"
بچے نے اپنا مٹکا اٹھاتے ہوۓ
استفسار کیا ۔
ماں
نے مڑ کر تعجب سے بچے کی طرف دیکھا اور پھر مسکرا دی۔
اب
دونوں ماں بیٹا اپنا اپنا مٹکا کمر پہ ٹکائے اپنی کچی بستی کی جانب چل دیے۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment