Mr & mrs beast novel by Mariam Fayyaz (Updated) Complete novel



Mr & mrs beast novel by Mariam Fayyaz complete novel.

Do soteli behnon par hai Jin mein sy aik ka qatal ho jata hai usi ky husband ky hathon aur phir woh dusri behn revenge leti hai us shakhs sy do dushman family based hai, multiple couples based hai, suspense hai sari story mein end mein sab ko bara surprise Mily ga

The novel is based on romantic Urdu novels in which She pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around love story. It is very famous, social, romantic Urdu novel that is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Mariam Fayyaz is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Mr & mrs beast novel by Mariam Fayyaz complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Mariam Fayyaz All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

2.    You will see an advertisement and a popup notification of allow or block.

3.    Click on block and wait for 5 second. A count down will appear on top from 5 to 0. Meanwhile ignore any kind of advertisement or warning you will see on your screen.

4.    After 5 second you will see skip add and click on this skip add button.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

"تم پھر آگئے؟ کہا تھا نا، یہ فیکٹری۔!" مراد نے خاموشی سے ایک قدم آگے بڑھا، اور اس کے جملے مکمل ہونے سے پہلے ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پر پڑا۔ لمحے بھر کو وہاں سناٹا چھا گیا۔ "ہاں ہاں، پتہ ہے۔اس خبیث ولید کی فیکٹری ہے سالے آ!" مراد نے غصے سے کہا اور فوراً سپاہیوں کو اشارہ دیا۔ "اٹھاؤ ڈالو گاڑی میں، ایک ایک کو!" چند لمحوں بعد درجن بھر افراد کو ہتھکڑیاں پہنائی جا چکی تھیں، اور مراد اپنی نگرانی میں اندرونی لیب کو سیل کروا رہا تھا۔ زہریلی اور جعلی ادویات کے ڈبے، مشینیں، اور خام مال سب تحویل میں لے لیا گیا۔

اچانک ہی شور اورگہما گہمی میں، فیکٹری کے سامنے نیوز چینلز کی گاڑیاں آ چکی تھیں۔ رپورٹرز مائیک تھامے لائیو جا چکے تھے۔

"ناظرین! ہم اس وقت اس فیکٹری کے باہر موجود ہیں جہاں برسوں سے جعلی ادویات کا دھندہ چل رہا تھا، سننے میں آرہا ہے کہ ان سب غیر قانونی دھندوں کے پیچھے چیف منسٹر پنجاب ولید رندھاوا کا ہاتھ ہے!"

مراد نے ایک مختصر بیان دیا،"یہ صرف آغاز ہے۔ انشاللہ ہم ایک ایک کو بے نقاب کریں گے، چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں۔ عوام کی صحت سے کھیلنے والے اب نہیں بچیں گے، اب عوام سے اپیل ہے کہ اپنے اثر کا استعمال کرتے ہوئے نکلیں اور ان جیسے غنڈوں جو عوام پر زبردستی مسلط کیے گئے ہیں ان کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔"

مراد کی باقی ٹیمز کا بھی یہی حال تھا مراد نے سب کو ان کے اہداف سونپے تھے بہت سے پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے، فیکٹری کے بعد مراد ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اگلی جگہ روانہ ہوا پرانا گودام، جو انسانوں کی اسمگلنگ کا اڈہ بن چکا تھا۔ وہاں سے لڑکیوں اور کم عمر بچوں کو ملک سے باہر بھیجا جاتا، اور کئی کو مخصوص پارٹیوں میں خدمات کے لیے بیچا جاتا۔

یہ چھاپہ پہلے سے بھی حساس تھا۔ فورس کو خبردار کیا گیا کہ اندر ممکنہ طور پر اسلحہ اور مزاحمت ہو سکتی ہے۔ لیکن مراد تیار تھا۔

داخلی راستے سے فورس اندر گھسی، اور اچانک کی گئی یلغار نے اندر موجود افراد کو بھاگنے کا موقع ہی نہ دیا۔ کچھ فائرنگ بھی ہوئی، مگر جلد ہی قابو پا لیا گیا۔ وہاں سے چھ لڑکیاں اور چار بچے بازیاب کروائے گئے سب کے چہرے پر خوف، آنکھوں میں سوال۔

مراد باہر نکلا، آسمان کی طرف دیکھا، سورج اب اونچائی پر تھا، اور ہواؤں میں ایک تازگی تھی۔ میڈیا ایک بار پھر وہاں موجود تھا۔

"کمشنر مراد کا یہ آپریشن اس وقت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق ولید رندھاوا کے دیگر غیر قانونی کاروبار بھی جلد بے نقاب کیے جا رہے ہیں۔"

ہر جگہ ہل چل مچ چکی تھی، پورے ملک میں غصے اور بربریت کا عالم تھا عوام اور اپوزیشن جماعتوں کا سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ ادھر ولید رندھاوا اپنے کمرے میں چھپ کر بیٹھا تھا اور اس کے گھر کے باہر میڈیا اور عوام سخت ردعمل کے ساتھ موجود تھے۔

دوسری طرف سے وزیر اعظم پر ہر طرف سے دباؤ آرہا تھا۔ جب اس نے ولید رندھاوا کو فون کیا۔

"سر میں کچھ نہیں جانتا اس سب کے پیچھے کون ہے؟" رندھاوا فون چھوٹتے ہی بولا۔

"تمہاری وجہ سے پارٹی کی ساری ریپوٹیشن کا ستیاناس ہو کر رہ گیا ہے، فوراً پاڑٹی آفس پہنچو اور استعفیٰ جمع کرواؤ جب تک انکوائری کمیشن اپنی انکوائری مکمل نہ کر لے تم اس عہدے کے اہل نہیں، اور یاد رکھنا اس سب کے پیچھے اگر تم ہوئے تو تمہارا حشر میرے ہاتھوں ہوگا "

ولید نے فون بند کیا اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ عوام اور میڈیا سے بڑی مشکلوں سے بچ کر وہ پاڑٹی آفس پہنچا اور استعفیٰ جمع کروایا۔ اس پر انکوائری بیٹھ چکی تھی۔

"اوئے سالے تو نے نیوز دیکھی؟" حنان بھاگتا ہوا بالاج کے پاس آیا جو موبائل میں مصروف تھا۔

"ہاں وہی دیکھ رہا ہوں۔" بالاج مسکراتے ہوئے بولا۔

"کیا مست تباہی مچی ہوئی ہے قسم سے کمال کر دیا مراد نے۔"حنان بولا تو بالاج کا بےساختہ قہقہہ نکلا اور وہ دونوں ہنس دیے۔ پرسوں کا دن سب کے لیے اہم ہونے والا تھا ولید کو ہائی کورٹ میں طلب کیا گیا تھا۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK



Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment