( کہانی خواہشات کی دھن کی،
جو انسان کو آسائشوں اور خواہشات کی جستجو میں نیکی اور بدی بھلا دیتی ہے۔)
(Current Episode 13)
Ahang-e-Khawbeedah novel by Areeza Batool complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which She pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around love story. It is very famous, social, romantic Urdu novel that is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Areeza Batool is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Ahang-e-Khawbeedah novel by Areeza Batool complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Areeza Batool All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
2. You will see an advertisement and a popup notification of allow or block.
3. Click on block and wait for 5 second. A count down will appear on top from 5 to 0. Meanwhile ignore any kind of advertisement or warning you will see on your screen.
4. After 5 second you will see skip add and click on this skip add button.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Sneaks
” یہاں کیا کر رہی ہو؟ “ وہ بھی اسے دیکھتی کھڑی ہوچکی تھی۔
” آپ ہی سے بات کرنے آئی ہوں
پر شاید آپ آج بھی کافی بزی تھے۔۔“ عناب کے عام سے لہجے میں کہے جانے والے لفظوں"
آج بھی" پر اس کی آنکھیں گہری ہوئیں۔
” کب آئیں؟ “ اس کے انداز اور لفظوں کے اتار چڑھاؤ پر گہری سانس لیتا
گہری بھوری آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
” مدعے پر آتے ہیں۔“ مقابل اس کی بات کو اگنور کرتی اپنی بات پر آئی۔
اسی کے انداز میں اسے نظر انداز کرتا ریسیپشنسٹ کی طرف گھوما۔
” کب سے آئی ہوئی ہیں یہ محترمہ۔“ عناب نے بھی چند قدم آگے بڑھاتے سننا چاہا کہ کیا کہہ رہا ہے۔
” سر! وہ میم آدھے گھنٹے پہلے آئی تھیں، آپ میٹنگ میں تھے تو اس لیے
بھیجا نہیں۔ “ ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی کو شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
” آئندہ اگر یہ ویٹنگ ایریا میں نظر آئیں تو آپ یہاں نظر نہیں آئیں
گی۔۔مائنڈ اٹ، یہ جب آئیں، آپ انہیں سیدھا میرے آفس میں بھیجے گی۔۔چاہے میں کتنی ہی
ضروری میٹنگ میں کیوں نہ ہوں۔۔??understand “
اپنی گہری ہوتی بھوری آنکھوں سے سامنے کھڑی لڑکی کا حلق خشک
کرتا، اب عناب کی سمت مڑا۔
” اور آپ؟ آئندہ اس طرح کی حرکت کرکے اپنی کم عقلی کا ثبوت نہیں دیجیے
گا۔ چلیں اب۔۔!! “ اسے بھی ایک تیز گھوری سے نوازتا آگے بڑھ گیا۔
” نہیں یہیں بات کرنی ہے مجھے۔“ اس کی نظروں میں عدم یقین کی جھلکیاں
دیکھتے وہ اپنے لب بھینچ گیا۔
” محترمہ!! “ اپنے آپ کو کچھ سخت کہنے سے روکا۔
” یہاں کیسے بات ہوسکتی ہے؟ کیوں تماشہ چاہتی ہو تم۔۔!!“ لمحے میں آپ
سے تم پر آتے آس پاس نظریں دوڑاتے اسے سمجھانا چاہا۔
” ٹھیک ہے، پھر کیفے ٹیریا چلیں بٹ آپ کے آفس میں نہیں جاؤں گی میں
یوں اکیل۔۔۔“ کہتے کہتے ایکدم اپنے الفاظ پر غور کرتی احتیاط برت گئی۔
” کیا؟ کیا مطلب؟؟ بات مکمل کرو اپنی۔۔“ اس کے قریب قدم بڑھاتا، زرا
فاصلے پر رکتے، آئی برو سمیٹیں اور اسے دیکھا۔ چہرے پر ایک سایہ سا آکر گزرا تھا۔ مقابل
کے آخری نا مکمل لفظ پر۔ اس قدر عدم اعتماد۔ ایک بات تو وہ مان گیا تھا کہ یہ لڑکی
اتنی طاقت رکھتی تھی کہ لمحے میں اسے جلتے انگاروں پر لوٹا دیتی اور لمحے میں اس پر
ٹھنڈی پھوار برساتی اسے پرسکون کرسکتی تھی۔
” کچھ نہیں۔۔“ اِدھر اُدھر دیکھتی، اپنی انگلیاں مڑوڑنے لگی۔
” عناب حیدر!! تم میرے ضبط کا پہلے ہی بہت امتحان لے چکی ہو، اپنے لیے
اور مشکلات کھڑی نہیں کرو، اپنی بے وجہ کی نفرت میں ہم دونوں کے لیے زندگی مشکل بنارہی
ہو۔۔“ بھاری آواز میں کہتے وہ اسے قدم پیچھے لے جانے مجبور کرگیا۔
اس سے کہتے، وہاں بیٹھے ان دو نفوس کو سرد نظروں سے گھورا تھا
اور ایک سیکنڈ لگا تھا انہیں یہاں سے غائب ہونے میں۔
” ہم؟؟ واقعی؟ آپ اور میں؟؟ ہم کب سے ہوگئے مسٹر۔۔! میرے یہاں آنے کو کیا سمجھ بیٹھے ہیں آپ؟ آپ جیسوں۔۔“ اس کا جملہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ مقابل کی سرسراتی آواز اسے سہما کر رکھ گئی۔
” آئیے بیٹھیے یہاں۔۔“ اسے صوفے کی طرف اشارہ کرتے بیٹھنے کی پیشکش
کی۔
” کیا ہم، آاااا نچچچ نچھیییی!!! کیا ہم بات کرسکتے ہیں؟؟ “ دانت بھینچتے
اپنے آپ کو نارمل رکھنا چاہا۔ اسے شدید غصّہ آرہا تھا اپنی چھینکوں پر جو پھر سے اپنا
دورہ شروع کر چکی تھیں۔ یہ سب رات میں ٹھنڈی گھاس پر ننگے پاؤں چلنے کا انجام تھا۔
” ہم؟؟؟ واقعی؟ “ کچھ دیر پہلے اس کے "ہم " بولنے پر اس کا
اعتراض یاد دلاتا وہ قاتل مسکراہٹ چہرے پر سجاتا، اے سی بند کر چکا تھا۔
” دیکھیے مسٹر! میں۔۔“ آنکھیں بند کرتے وہ اس کے الفاظ اور انداز دونوں
کو نظر انداز کرتی اپنی یہاں آنے کی اصل وجہ پر آئی۔ وہ اس کا اے سی بند کرنا نوٹ کرگئی
تھی۔ وہ جانتی تھی کہ مقابل کھڑا مرد سردی میں اے سی چلانے کا عادی تھا پر اس کے لیے
نا صرف کم بلکہ بند ہی کرچکا تھا۔
” غزوان!! “ تنبیہ کی گئی۔ بہت وقت ہوچکا تھا وہ اس کا انداز اور طرزِ
تخاطب دونوں کافی نظر انداز کر چکا تھا پر اب نہیں۔ بس بہت ہوا تھا یہ اجنبیت کا دکھاوا۔
” جو بھی ہو۔۔مجھے بات کرنی ہے۔۔“ ناک سے مکھی کی طرح اڑایا اس کی بات
کو۔
” دو کافی بھیجو اور نزلے کی میڈیسن بھی۔۔ فوراً!! “ انٹرکام پر ہدایت
دیتا اس کی طرف گھوما۔
” جی تو کیا کہہ رہی تھیں۔۔“
” دیکھیں مسٹر غزوان عالم! مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے تو پلیز میں
امید کرتی ہوں کہ آپ میری بات غور سے سنیں گے۔ “ آنکھیں بند کرتے اپنے اندر امڈتے اشتعال
کو دبانا چاہا۔
”ویسے حیرت ہے مجھ جیسے شخص سے آپ امیدیں بھی وابستہ رکھتی ہیں، خیر!
میری پوری کوشش ہوگی کہ آپ کی امید پر پورا اتر سکوں۔ کہیے میں سن رہا ہوں۔۔“ وہ بھی
ویسے ہی کھڑا رہا تھا، کیونکہ وہ لڑکی بھی بیٹھنے پر راضی نظر نہیں آرہی تھی اور مقابل
کھڑی عورت کے کھڑے رہنے پر وہ کیسے بیٹھ سکتا تھا۔
” کیا حیدر کنسٹرکشن کے ساتھ آپ کی ڈیل کینسل کرنے کی وجہ جان سکتی
ہوں میں؟ “ آنکھیں چھوٹی کیے بولی۔
” آپ کچھ بھی جان سکتی ہیں، پر کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کو کیسے
پتہ اور آپ اس بارے میں کیوں جاننا چاہتی ہیں۔۔“ اس نے سامنے کھڑی اس عورت سے اس قسم
کے سوال کی امید ہرگز نہیں کی تھی۔
******************
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment