Horror Novels, Spiritual based novels.
Haddah novel by Noor Ul Ain Mustafa complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which She pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around love story. It is very famous, social, romantic Urdu novel that is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Noor Ul Ain Mustafa is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Haddah novel by Noor Ul Ain Mustafa complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Noor Ul Ain Mustafa All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
2. You will see an advertisement and a popup notification of allow or block.
3. Click on block and wait for 5 second. A count down will appear on top from 5 to 0. Meanwhile ignore any kind of advertisement or warning you will see on your screen.
4. After 5 second you will see skip add and click on this skip add button.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Sneaks
کیا مسئلہ ہے یار ؟ “ حمنہ نے اس کے ہاتھ ایک دوسرے سے
دور کیے اور اسے غصے سے گھورا۔ ایک تو بیٹھے بٹھائے اتنا ہینڈسم شوہر مل گیا تھا
اور ان محترمہ کے ڈرامے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
”حمنہ
! اگر میں اسے پسند نہیں آئی تو ؟ اگر میں اسے بدصورت لگی ؟ “ اس کا لہجہ تشویش
ناک تھا۔ حاتم نے تو اسے دیکھا بھی نہیں تھا۔ اگر نکاح کے بعد اس نے یہ کہہ دیا کہ
وہ اسے اچھی نہیں لگی تو ؟ اس نے زور سے
اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔ حمنہ نے اس کی بات پر اپنے ہاتھ پر سر دھر دیا۔ وہ اس لڑکی کے عدم اعتماد کا کیا کرتی؟
” حافہ
! اس نے نکاح سے پہلے کہا تھا نا کہ وہ تمہیں اپنی بیوی بنانا چاہتا ہے؟ “ اس سوال
پر حافہ کے سر میں جنبش ہوئی۔ حمنہ نے ایک لمبا دم تشکر بھرا ۔ شکر ہے اس نے یہ
بات تو تسلیم کی ۔
” پھر
وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا ۔۔ وہ اپنے الفاظ اور کردار کا کھرا ہے ۔ “ اس بات پر حافہ
نے اپنے لب کھولے اور کچھ کہنا چاہا۔ مگر پھر رک گئی۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ حاتم
نے تمہیں بھی تو چھوڑ دیا تھا ۔ حافہ کو لگتا تھا کہ وہ سب کچھ چھوڑ سکتا تھا۔ اس
نے حمنہ کو چھوڑ دیا تھا، اس نے یہ شہر چھوڑ دیا تھا، اس نے شاہ گڑھ کے لیے صوفیہ
بیگم کو بھی چھوڑ دیا تھا ۔ وہ سب کچھ چھوڑ سکتا تھا۔
” میں
اب یہ کپڑے تبدیل کر لوں ؟ “ اس کے معصومیت بھرے سوال پر حمنہ کا جی چاہا کہ وہ
اپنا سر دیوار میں دے مارے۔ اس نے بمشکل مسکراتے ہوئے حافہ کی جانب دیکھا ۔
” حافہ
میری پیاری بہن ! ابھی دولہے راجہ نے اپنی دلہن کا دیدار بھی تو کرنا ہے نا اور
۔۔۔“ ابھی اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی
تھی کہ حافہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ بغیر کسی حجاب کے حاتم سے
ملاقات ؟ نہیں!! اس سے نہیں ہوگا۔ وہ نہیں کرے گی۔ سنہری حجاب کے حالے میں موجود
چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں ۔ جبکہ رخسار سرخ ہو رہے تھے ۔ حمنہ اس کی حالت
دیکھ کر قہقہہ لگا کر ہنس دی ۔
” میں
نہیں ملوں گی۔ تم ان سے کہنا کہ انہیں رخصتی کے بعد ہی میرا چہرہ دیکھنا نصیب
ہوگا۔ “ اس کی بات پر حمنہ نے اسے ایسے
دیکھا گویا اس کے دماغ کا پرزہ ہل گیا ہو
۔
” حافہ
! اب میں اسے میں کیا؟ تم بھی نہیں روک سکتی۔ “ وہ اس کا ہاتھ تھپکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ اس کی بات
پر حافہ نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
” پلیز
۔۔۔۔۔ “ اور اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی اور حمنہ سمیت حافہ نے بھی دروازے کی جانب اپنی گردن
موڑی ۔ حمنہ نے بمشکل لبوں پر مچلتی
مسکراہٹ دبائی اور آنکھوں میں شرارت لیے حافہ کی جانب دیکھا۔ جو اسے التجائیہ
انداز سے دیکھ رہی تھی ۔ حمنہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کا چہرہ زمرد گھونگھٹ کے نیچے
چھپا دیا ۔
” دلہن صاحبہ! ساجن جی دروازے پر کھڑے آپ کا انتظار فرما رہے ہیں۔ کیا انہیں اندر تشریف لانے دوں؟ “ اس کی شرارت سے کھنکتی آواز پر حافہ نے اس کے ہاتھ پر چپت رسید کی۔ وہ اپنا ہاتھ سہلاتی سی کر کے رہ گئی۔
کون ؟ “ وہ اپنا گلا کھنکارتے ہوئے بولی ۔ لہجے کو بمشکل
بے تاثر رکھا۔
” میں۔۔“ حاتم کے یک لفظی جواب پر حمنہ نے جتاتی نگاہ
حافہ پر ڈالی۔ کہ دیکھو! وہی ہے۔ پھر وہ دروازے کی جانب مڑی اور آواز کو سنجیدہ
کیا ۔
” ہم
یہاں موجود ”میں“ نامی کسی انسان کو نہیں جانتے۔
براہِ کرم ! اپنا مکمل تعارف پیش کیجیے ۔ شکریہ ! “ حافہ نے حیرت سے اس کی
بات سنی تھی۔ جبکہ دروازے کے دوسری جانب موجود حاتم سر جھکا کر مسکرا دیا ۔ سالی
صاحبہ کو مسخری سوجھی تھی۔
” میں
حاتم ولد عبدالرحمٰن احمد ہوں۔ صوفیہ احمد کا بیٹا اور حافہ نعیم کا شوہر!! کیا
مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت مل سکتی ہے؟ “
اس کے سنجیدگی بھرے لہجے نے حافہ کے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھا دی۔ جبکہ
حمنہ نے اس جواب پر مسکراتے ہوئے دروازے کھول دیا تھا۔
” آپ کی بیگم کو بہت ٹرسٹ ایشوز ہیں۔ انہیں اچھے سے ہینڈل کیجیے گا۔ بیسٹ آف لک!!“ تھمز اپ کا اشارہ کرتی وہ باہر نکل گئی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment