Ehsas e mohabbat by Aiman Razzaq Complete novel


Ehsas e mohabbat by Aiman Razzaq complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Aiman Razzaq is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Ehsas e mohabbat by Aiman Razzaq complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Aiman Razzaq All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی دوپٹے کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی؟”

اس کی دھاڑ نے  شاہ ولا کے در و دیوار ہلا دیے۔

شور سن کر سب لوگ ناشتہ چھوڑ کر لاؤنج کی طرف دوڑے۔ سب کی نظریں حیرت میں جمی تھیں، اور ماہ روح آنسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ کانپتی ہوئی بولی،

“آپ غلط سمجھ رہے ہیں، سالار…”

“میرے ماتھے پر بے وقوف لکھا ہے کیا؟”

سالار نے شیشے کا ساز اٹھا کر دیوار پر دے مارا

نور، جو یہ منظر دیکھ رہی تھی، ماہ روح کی حالت پر اندر ہی اندر مسکرا اٹھی۔

“سالار، ہوا کیا ہے بیٹا؟” علینہ بیگم نے آگے بڑھ کر اُسے سنبھالنے کی کوشش کی۔

مگر وہ چپ رہا، صرف ساحل کی طرف مڑا اور بھڑکتے لہجے میں بولا،

“آج کے بعد تم میری بیوی سے سو فٹ کی دوری پر رہو گے، ساحل شاہ!”

یہ کہہ کر وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

 سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہی پلٹا،

“اور تم، ماہ روح سالار شاہ… کمرے میں آؤ۔ ابھی۔”

آواز میں وہی برف جیسی سختی تھی، جس نے سب کے دلوں میں لرزہ طاری کر دیا۔

طارق صاحب نے پریشانی سے ساحل کی طرف دیکھا،

“بیٹا، ہوا کیا ہے؟”

“بابا، کچھ نہیں… ہم بس بات کر رہے تھے کہ بھائی آ گئے۔ وہ پہلے ہی غصے میں تھے۔”

ساحل نے آہستہ سے جواب دیا اور وہاں سے چلا گیا۔

ماہ روح نے آنسو پونچھتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا،

“بابا، مجھے نہیں رہنا ان کے ساتھ… مجھے طلاق چاہیے۔”

اس کے لفظوں نے فضا میں بجلی دوڑا دی۔ سب کے چہرے جم گئے۔

اچانک لاؤنج میں چٹاخ کی تیز آواز گونجی —

ماہ روح نے بے یقینی سے مریم بیگم کی طرف دیکھا، ہاتھ اپنے رخسار پر رکھے۔

“ابھی اتنی بڑی نہیں ہوئی کہ اپنے فیصلے خود کرنے لگو!” مریم بیگم کا لہجہ زہر آلود تھا۔

“مما، کیا کر رہی ہیں آپ؟”

عالیان آگے بڑھا اور ماہ روح کو سینے سے لگا لیا۔ باقی سب خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہے۔

“فوراً کمرے میں جاؤ،” مریم بیگم نے سرد لہجے میں کہا۔

سالار جب کمرے میں داخل ہوا تو لمحہ بھر کو رُک گیا۔

کمرہ پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا، جگہ جگہ گلاب کی پتیاں بکھری تھیں، مگر ٹوٹے کانچ کے ذرے اس منظر کو ادھورا بنا رہے تھے۔ وہ نیچے گیا تھا کہ کسی ملازمک سے بول کر کمرہ صاف کروا سکے لیکن ماہ روح کے الفاظ سنتے ہی اس کی آنکھوں میں خون اترا تھا—

وہ تیزی سے سیڑھیاں اترا، آتے ہی ماہ روح کی کلائی جکڑ لی۔

“سالار! چھوڑو اُسے!” عالیان نے بیچ میں آ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔

“میں تمہارے اور تمہاری بیوی کے بیچ کبھی نہیں آیا، تو تم بھی مجھ سے اور میری بیوی سے دور رہو!”

سالار نے سپاٹ لہجے میں کہا اور ماہ روح کی کلائی پکڑ کر لمبے لمبے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Ehsas e mohabbat by Aiman Razzaq Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment