Aseer e ishqam by Arooshy Khan complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Arooshy Khan is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Aseer e ishqam by Arooshy Khan complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Arooshy Khan All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
اب
اگر تم نے شور مچایا تو میں تمہارا سر پھاڑ دوں گا جاہل انسان! لاشاری مینشن کے سامنے
گاڑی روکتے وہ بنا رکے ہارن پہ ہارن دیتا زوہیب لاشاری کو باہر نکلنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔۔
تو میں کون سا سر سے شور کر رہا ہوں انکل؟؟ سر پھاڑنے
سے کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔! پھاڑنا ہے تو ہاتھوں کو پھاڑیں! ڈھٹائی سے کندھے آچکا کر جواب
دیتا وہ زوہیب لاشاری کو بے حد برا لگا تھا!
تمہاری یہ زبان مجھے بلکل بھی پسند نہیں میرے ساتھ
نے لڑایا کرو! وہ ناگواری سے بولتے اسے اس کی اوور بولنے والی زبان کا طعنہ دے گئے!
اللہ
معاف کرے انکل! خدا نخواستہ میں کون سا ہجرا ہوں جو آپ کے ساتھ زبان لڑاوں گا۔۔۔! میں
کنوارہ اور اکیلا لڑکا ہوں گر تو میرے کنوارے اور اکیلے پن کا فائدہ مت اٹھائیں! اپنی
بیٹی کو بلائیں ورنہ مجھے لگ رہا آپ میری عزت پہ گھات لگانے والے ہیں! بے حد ڈرامائی
انداز میں بولتا وہ زوہیب لاشاری کی آنکھیں حیرت سے وا کروا گیا۔۔۔
اللہ
کی پناہ ناہنجار! کیسی نا زیبا گفتگو کر رہے ہو؟؟ وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے بے حد غصے
سے بولے جس پہ اورحان شاہ نے انہیں معصومیت سے دیکھا تھا۔۔۔
آپ نا زیبا نیتیں پال لیں تو کوئی مسئلہ نہیں میں
جا زیبا گفتگو کروں تو مسئلہ ہے؟ کیا آپ نہیں جانتے اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے؟؟
ان کو اپنے لفظوں کے جال میں پھنسانا وہ ساتھ ساتھ زرتاشہ لاشاری کو میسجز کرنے میں
مصروف تھا جو اس کو بلکل بھی رسپانس نہیں دے رہی تھی!
اتنے عبد الباری بننے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں! تمہاری
نیتوں اور کرتوتوں سے اچھے سے واقف ہوں! اب بتاؤ کیا کر رہے ہو یہاں اتنی صبح صبح ؟؟
اس کو اچھی طرح ذلیل کرنے کے بعد انہوں نے اس کے آنے کا مقصد پوچھا تھا جس پہ اورحان
شاہ نے اپنے دانت کچکچائے!
ظاہر ہے آپ کی اس حسین شکل کی خاطر تو میں آ نہیں
سکتا اور آپ کی صاحب زادی بھی اس لائق نہیں ہے کہ میں ان کے حسین مکھڑے کے دیدار کے
لیے آپ کے گھر کے باہر پہرہ دوں! مگر ہاں انہوں نے مفت کا ڈرائیور ضرور رکھا ہوا ہے
مجھے! بس اسی لیے یہاں موجود ہوں! اپنی بے عزتی کا بدلہ انہی کے لفظوں میں لیتا وہ
زوہیب لاشاری کا دل اندر تک جلا گیا۔۔۔۔
پتا نہیں کیا ہو گیا ہے میری بیٹی کی چوائس کو ڈرائیور
رکھا بھی تو تم جیسا! وہ بھی ز زرتاشہ لاشاری کے باپ تھے! مجال ہے جو دو انچ زبان کم
رکھ لیتے؟؟؟
واٹ دا! آپ نے مجھے ڈرائیور سمجھا ہوا ہے؟؟؟؟ اگر
مروت کے مارے اسے لے جاتا ہوں اپنے ساتھ تو میرے ساتھ زیادہ پرسنل نہ ہوں! یہیں چھوڑ
جاؤں گا میں اسے! ایک تو زرتاشہ نے اس کا موڈ آف کر رکھا تھا اس پہ تضاد زوہیب لاشاری
نے صبح صبح اس کی اوقات دیکھا دی تھی!
تو چھوڑ جاؤ! ویسے بھی خدمتِ خلق کا شوق تمہیں کی
چڑھا ہے! میری بیٹی کسی کے بھی ساتھ آ سکتی ہے! زوہیب لاشاری نے اس کی عزت کو دو کوڑی
کا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی جب ان کی بات پہ اورحان نے انہیں سنجیدہ نظروں
سے دیکھا۔۔۔
انکل عورتوں کی بھی اتنی زبان نہیں ہو گی جتنی آپ کی ہے! اس سے اچھا جواب کم از کم اورحان کو نہیں ملا تھا!
تمہارا
چہرہ بھی مجھے مردوں سے ملتا جلتا نہیں لگتا۔۔۔ آر یو رئیلی مین اور ناٹ؟ ( کیا تم
واقعی مرد ہو یا نہیں ) اب جب ان کی زبان کی تعریف کر ہی دی تھی تو وہ کیونکر پیچھے
رہتے؟؟ ان کی بات پہ اورحان شاہ بری طرح بلبلایا تھا۔۔۔
جو خود عورتوں جیسا ہو پھر اسے باقی سب بھی عورت
ہی لگتے ہیں انکل پلیز اپنی بیٹی کو بلوا دیں! اسے نہیں لگتا تھا کہ آج سے پہلے کبھی
وہ ان کے ہاتھوں بھی اتنا ذلیل ہوا ہو گا۔۔۔ اس کی اور زہیب لاشاری کی ہمیشہ سے ہی
نہیں بنتی تھی جب کہ زرتاشہ ساتھ بھی وہ کافی کم وقت میں ہی سکون کے ساتھ پایا جاتا
تھا ورنہ ہر وقت میں ان کی کتوں جیسی لڑایاں عروج پہ ہوتیں تھیں!
وہ نہیں جائے گی تم جاؤ! ایٹیٹیوڈ سے جواب دیتے وہ
دوبارہ سے اندر کی جانب بڑھ گئے جب کہ اورحان ان کا ایٹیوڈ دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Aseer e ishqam by Arooshy Khan Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment