Maahiyat by Sania Hussain download pdf


Maahiyat by Sania Hussain complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which She pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around love story. It is very famous, social, romantic Urdu novel that is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Sania Hussain is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Maahiyat by Sania Hussain complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Sania Hussain All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

” تم بہت اچھے اداکار ہو۔ “ شیری ہنوز اسی کو دیکھتے ہوئے بولا۔ ” میں کبھی سوچ بھی نہیں پایا کہ تمہیں یہ بات معلوم ہوسکتی ہے۔ “

جابر کی آنکھوں میں جہاں سرد تاثر تھا ، وہیں ہلکی سی درد کی لہر اٹھی۔

” مجھے میرے ایک عزیز سر کہا کرتے تھے کہ جابر! اداکاری سیکھو۔ کرنے کے لیے نہیں ،اپنے اردگرد موجود منافق لوگوں کی اداکاری سمجھنے کے لیے۔ اور تم جانتے ہو میں کتنا فرمانبردار آدمی ہوں۔ “

شیری نے تھکے سے انداز میں سر ایک طرف ڈھلکائے دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ جابر نے اگلے ہی پل اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کی گردن دبوچی۔

” تم بہت بڑے  کمینے نکلے ، شیری۔ “ جابر کا انداز جتنا سرد تھا، شیری کا اتنا ہی لاپرواہ۔ اسے موت کا خوف نہیں تھا۔ اسے بس امید تھی۔

” اور تم مجھ سے بھی بڑے کمینے نکلے، میجر۔ “ وہ کھانسا۔ پھر ہلکا سا مسکرایا ۔ ” میں جانتا ہوں تم مجھے نہیں مارو گے۔ اس لیے بہتر ہے پہلے مجھے سن لو۔ “

جابر چند پل اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا رہا۔ پھر تلخی سے مسکرا دیا۔

”تم میری سوچ سے بھی کہیں زیادہ کمینے ہو۔ “ جابر یوں ہی سر جھٹک کر پیچھے ہوا۔ پستول اس سے دور کر لی۔ ” مگر وہ کیا ہے نا۔ میں تمہارا ہی دوست ہوں۔ تم سے دس قدم آگے۔ اس لیے مجھےبس ایک سوال کا جواب دو۔“

اس نے بایاں ہاتھ اپنے بالوں میں پھیرا۔

” میں تمہارے ہر سوال کا جواب دینے کو تیار ہوں، میجر۔ مگر تمہیں مجھے سننا ہوگا۔ مجھ پر یقین کرنا ہوگا۔ “

” ابھی بھی؟ “ جابر نے برق رفتاری سے گردن موڑے اسے دیکھا۔ آنکھوں میں اس کی بے غیرتی اور ڈھٹائی دیکھ کر حیرت عود آئی تھی۔ ” تم چاہتے ہو میں اب بھی تم پر اعتبار کروں؟ “

شیری اپنی جگہ سیدھا ہوا۔ اپنی گردن کو چھوا۔ پھر ہاتھ پہلو میں گرا دیا۔

” میں تین سال تمہیں ڈھونڈتا رہا جابر۔ مجھے تمہیں وہ سب بتانا تھا جو…..“

” کیوں؟ “ جابر نے اس کی بات کاٹی۔ ” کیوں تم یشغٰی کے سامنے مجھے ڈھونڈنے کا ڈھونگ کرتے رہے جبکہ تمہیں اچھے سے معلوم تھا کہ میں کہاں ہوں۔ کس حال میں ہوں۔ “ جابر ایک دم دھاڑا تو شیری نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اسے ریلیکس کرنا چاہا۔

” میں واقعی نہیں جانتا تھا کہ تم کہاں ہو۔ “ شیری اس کے برعکس بڑے مدھم لہجے میں بولا۔

” ایسا کیسے ممکن ہے کہ تم خضرج کے آدمی ہوتے ہوئے بھی اس بات سے بےخبر رہو۔ “ جابر آگے بڑھا۔ اس پر جھک کر اس کا گریبان سختی سے اپنی مٹھی میں لیا۔ ” تم بھی ان سب میں تھے شیری ۔ “ اس نے گریبان سے اسے اپنی جانب کھینچا ۔ دونوں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے تھے۔ ہاں وہی جو کبھی ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہوتےتھے۔

” تم بھی ان لوگوں کے ساتھ تھے جنہوں نے مجھ پر حملہ کیا تھا۔ اس رات…. اس رات مجھے موت کے منہ میں دھکیلنے والوں میں تم بھی شامل تھے شیری۔ میرے بہترین دوست۔ “ اس کی آواز دردناک تھی۔ کھولتی ہوئی۔ ” تم سب جانتے تھے۔ تمہیں علم تھا کہ مجھ پر کیا گزری تھی۔ میری جاب داؤ پر لگی تھی۔ میری پہچان چھن چکی تھی۔ میری محبت ،میری بیوی میرے خلاف ہو چکی تھی۔ تب… تب تم نے میری پیٹھ پیچھے بغاوت کی تھی۔ میں تمہارا ہر دھوکا معاف کر سکتا ہوں مگر وہ نہیں جو مجھے اس رات ملا تھا۔ اس رات کا حساب میں سب سے لوں گا۔ کسی کو نہیں بخشوں گا۔ کسی کو بھی نہیں ۔ “ اس نے ایک جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑا اور چند قدم دور جاکر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے ۔ پھر بالوں میں۔ شیری چپ چاپ بس اسے دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں ، اس کے چہرے پر کچھ بھی نہیں تھا۔ کوئی تاثر تک نہیں ۔

” تمہیں لگتا ہے اس رات میں وہاں تھا؟ “ شیری نے سوال کیا۔ سپاٹ لہجے میں ۔ جیسے یقین ہی نہ آرہا ہو کہ جابر اس کے بارے میں یہ سوچتا تھا۔ مگر جابر نے جواب نہیں دیا۔ وہ جانتا تھا کہ شیری وضاحت دینے والا ہے۔ وہ مزید بولنے والا ہے۔ اس نے ریلنگ کے پاس جاکر اس پر اپنے ہاتھ رکھے۔ سختی سے۔ کاش ….کاش وہ انکار کر دے۔ کاش وہ کہہ دے کہ وہ وہاں نہیں تھا۔ جابر کا دل بری طرح دھک دھک کر رہا تھا۔ سانس اس لمحے جیسے رک گئی تھی۔ جیسے جیسے شیری اس کے قریب آتا گیا، جابر کی گرفت ریلنگ پر سخت ہوتی چلی گئی۔

” تمہیں واقعی لگتا ہے کہ میں وہاں تھا؟ “

کاش کہ وہ کہہ دے کہ وہ وہاں نہیں تھا۔ جابر نے سانس روک لیا تھا۔

” میں وہاں نہیں تھا جابر۔ “

عقب سے، بےحد قریب سے اس کی آواز سنائی دی اور جابر نے ایک دم آنکھیں بند کیں۔ غیر محسوس انداز میں گہرا سانس خارج کیا۔شک یقین میں بدلنے کی بجائے جھٹلا دیا گیا تھا۔ تب تک شیری اس کی دائیں طرف آکھڑا ہوا تھا۔ جابر نے آنکھیں کھولیں اور آسمان کو دیکھنے لگا۔ یعنی وہ شیری کو سن رہا تھا۔

” میں اتنا نہیں گر سکتا کہ اپنے ہی دوست کے قتل کے منصوبے میں شراکت دار بنوں۔ “

” مگر اتناگر سکتے ہو کہ اسے دھوکا دے سکو۔ اس سے دغا کر سکو۔ “ جابر کا لہجہ سپاٹ تھا۔ کوئی طنز نہیں ۔

” تم میں اتنا تو ظرف ہونا چاہیے میجر ۔کہ مجھے ایک بار سن لو۔ دوستی کا ہی بھرم رکھ لو۔ “ شیری بھی یوں ہی آسمان کو تکتے بولا۔ دونوں کی نگاہ سامنے تھی مگر سماعت ایک دوسرے سے جڑی تھی۔

” میرا ظرف مجھے بس اتنی اجازت دیتا ہے کہ تمہیں زندہ سلامت یہاں سے جانے دوں۔ تمہاری بکواس سنے بغیر۔ رہا دوستی کا بھرم ….“ جابر تلخی سے مسکرایا ۔” اس رات تمام دوستیاں مٹی کا ڈھیر ہوگئی تھیں جب جابر مرا تھا۔ “

” کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ؟ “ شیری کے چہرے پر اب کے پہلی بار فکر کی رمق نمایاں ہوئی۔

جابر نے گردن پھیر کر اسے دیکھا۔ چند پل دیکھتا رہا۔ شیری بھی۔ پھر دھیرے سے مسکرایا۔ کیا نہیں تھا اس مسکراہٹ میں ۔ ” احسان۔ تمہارے باس نے احسان کیا تھا مجھ پر۔  “ اور اگلے ہی پل وہ وہاں سے چل پڑا۔

” جابر!میری بات تو سنو….“ شیری پیچھے سے اسے پکارتا رہا مگر وہ شخص جاچکا تھا۔

اس نے تھکی سی سانس خارج کی۔ پھر پیشانی پر ہاتھ رکھا جہاں جابر نے پستول کی نال رکھی تھی۔ بےاختیار گہرا سانس لے کر وہ واپس اپنی جگہ پر بےدم ہوکر ڈھے سا گیا۔

یہ وہ جابر نہیں تھا جسے وہ جانتا تھا ۔ یہ تو کوئی اور تھا۔ بےرحم ۔ سفاک ۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment