Spectra 17 by Juhaina Arwish download pdf


Spectra 17 by Juhaina Arwish complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which She pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around Forbidden love, Psychological tension Secret agent (emotionless, dangerous) Bold heroine × stone-hearted hero, Unspoken possession, one-sided intensity...... 

Juhaina Arwish is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Spectra 17 by Juhaina Arwish complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Juhaina Arwish All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

ویسے شرم تو نہیں آئی نا، جس ملک میں رہ رہے ہو ، اس کی وردی کو پہنا ہوا ہے اور اسی سے غداری کر رہے ہو۔۔۔

وہ آگے بڑھا اس نے زور سے پیوست چھری کو اس گارڈ کے آنکھ سے نکال دیا ۔ ایک زوردار چیخ اسکے منہ سے نکلنے لگی ۔ دھب کی آواز سے وہ نیچے گرا اسکی آنکھیں پھر سے جنرل پر مرکوز ہوئی ۔۔۔۔۔

ہم بات کر سکتے ہیں ، دیکھو میری بات سنو ! وہ دونوں ہاتھ اٹھا چکا تھا ۔ اس نے اپنے گارڈ کو دیکھا جو زمین پر تڑپ رہا تھا۔۔۔۔

میں تمہیں پیسہ، طاقت ، بینک، بیلنس، رینک سب کچھ دے سکتا ہوں ۔ اس کے پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا۔۔۔۔

ٹھاہ۔۔۔۔دائیں طرف سے اس سائے پر دوسرے گارڈ نے گولی چلائی تھی مگر وہ جھک گیا تھا ۔ گولی دیوار میں سراخ کر گئی  ۔ اس نے گھوم کر پیچھے سے ایک طوفانی لات ماری اور گن اس کے ہاتھ سے اچھل کر ہوا میں اڑ کر اس کے ہاتھ میں گری۔۔۔۔

نائس گن فار یور ڈیتھ  ۔ اس نے اس گن  کو دیکھ کر کہا اور پھر  ٹھاہ کی آواز سے گولی سیدھا اس گارڈ کے ماتھے کے آر پار ہو گئی۔۔۔۔۔۔

 وہ جگہ ابھی خالی ہو گئی تھی ۔ صرف وہی سایہ اور جنرل کھڑے رہ گئے تھے ۔ سایہ گھوم کر جنرل کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔

دیکھو میری بات سنو تم جو چاہتے ہو میں تمہیں دینے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔۔

 میری تربیت میں مجھے صرف وطن کی محبت اور دشمن کی موت سکھائی گئی ہے ۔ وہ بہت ریلیکس انداز سے ایک ایک قدم اس کی طرف بڑھا رہا تھا. جنرل نے ایک خفیہ بٹن دبایا تھا لیکن سائے کو اس بارے میں پتہ نہیں چلا۔۔۔۔

تمہیں کس نے بھیجا ہے؟؟؟  آرمی نے یا آئی ایس آئی نے ؟؟؟ وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کر سکتے ۔ وہ تمہیں بھی استعمال کر رہا ہے میری بات مان لو ۔۔۔۔۔

باہر سے دو گارڈز اور بھی آ گئے تھے کیونکہ انہیں سگنل مل گیا تھا ۔ اس نے پیچھے دیکھا اس سے پہلے کہ وہ ٹریگر دباتے اس نے سلائیڈ کر کے تیزی سے آگے بڑھ کر ایک کے گلے کا نس کاٹ لیا اور دوسرے کو گھما کر بینڈ کر کے اس کے کمر کو توڑ دیا ۔ دونوں ایک ساتھ گرے اور دونوں کے زمین پر گرنے کی آواز پیدا ہوئی ۔۔۔۔۔۔

وہ تیزی سے واپس جنرل کی طرف بڑھ گیا ۔ اس بار کوئی مزاحمت اس تک پہنچنے کے لیے سائے کو نہیں روک سکتی تھی ۔ اپنے دفاع کے لیے جنرل نے گن نکال کر گولی چلائی ، مگر وہ پھر سے بچ گیا ۔ اس سے پہلے کہ وہ دوسری بار گولی چلاتا ۔ اس نے اس کے منہ پر ایک مکا مارا اور گردن پر ایک دھپ رسید کیا ۔ جنرل سیدھا زمین پر گر گیا ۔ اس کی گن اس سے تھوڑے فاصلے پر گرا ۔ سائے نے پاؤں کے ٹھوکر سے اس کو دور اچھال لیا ۔ وہ ابھی اس کے قریب کھڑا زمین پر اس کو پڑا دیکھ رہا تھا ۔ جیسے موت بے رحمی سے کسی کو دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔

مجھے معاف کر دو، میں نے جو کیا ہے لوگوں کے بھلے کے لیے کیا ہے  ۔۔۔۔

سائے نے ٹیبل پر پڑے لیپ ٹاپ سے یو ایس بی کو نکال لیا ۔ وہ ابھی پھر سے جنرل کو دیکھنے لگا۔ ابھی تک کسی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا جنرل نے بھی نہیں!!!!! وہ جھک کر ایک پاؤں اس کے سینے پر رکھ کے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔۔

تم نے صرف غداری کی ہے ۔ بہت سے جوانوں اور شہیدوں کے ماں باپ کو ، ان کے بچوں کی زندگیوں کے بدلے  پیسے دیے ہیں ۔ تمہارا کوئی حق نہیں ہے زندہ رہنے کی۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ پلیز مجھے مت۔۔۔۔۔ اس کی آواز منہ میں رہ گئی تھی ۔ ایک تیز بلیڈ نما چری جو اس نے اپنے پینٹ کے پاکٹ سے نکالی تھی ۔ اس نے اس کے دل میں پیوست کر دیا ۔ وہ ابھی بھی مرا نہیں تھا۔۔۔

 تمہارے لیے تو یہ موت بالکل آسان بن جائے گی ۔ مجھے کچھ اور سوچنا پڑے گا ۔ وہ اس کے اوپر سے اٹھنے لگا ۔ اس کی وہی گن جسکو اس نے ٹھوکر مارا تھا نظریں اسی پر ٹھہر گئی ۔ وہ اسے اٹھانے لگا۔

 کیا خیال ہے جنرل ! آج تمہاری گن سے تمہیں مزہ چکاتے ہیں ۔ وہ بے جان ہو رہا تھا ۔۔۔۔

  نہیں !!!!!!!  تم مر نہیں سکتے تمہیں یہ درد سہنا ہوگا ۔۔۔۔۔

ٹھاہ! ٹھاہ! ٹھاہ! گن کے تین گولیاں اس نے اس کے جسم میں اتار دیے ۔ اس سے پہلے کہ وہ مرتا اس نے موت کے درد سے اسکو روشناس کرایا تھا۔ اب  بچنے کی تو چانس نہیں بنتی تھی ۔ خون نے جیسے وہاں کے فرش کو نہلانے کا فیصلہ کر دیا تھا۔ وہ گن کو وہیں پر پھینک گیا ۔ اپنے کان میں لگے ڈیوائس کو ٹچ کرنے لگا ۔ دوسری طرف سگنل مل گئی تھی۔۔۔۔

سپیکٹرا 17 کیا رپورٹ ہے، ریڈیو پر آواز آئی ۔۔۔۔

دی میشن از اوور۔ روبوٹک انداز۔۔۔۔ 

جنرل ریاض از فنشڈ ۔ جیسے یہ اسکے لئے عام سی بات ہو۔۔۔۔۔

ڈیٹا محفوظ ہے۔خطرناک حد تک سرد لہجہ اور بات ختم ۔ دوسری جانب سننے والے کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی ،

تم نے اپنے کام کو رات کے خاموشی میں کر دیا مگر اس کی آوازیں بہت دور تک جائیں گی۔ وہ جو بھی تھا اس کی خوشی اس کے الفاظ سے جھلک رہی تھی۔۔۔۔۔

اٹس مائی ڈیوٹی سر! بغیر مزید کوئی اور بات کر کے وہ اپنی طرف سے ڈس کنیکٹ کرنے لگا۔ اس نے ایک نظر اس بینکر  میں دیکھا ۔ پانچ لاشیں زمین پر بے جان پڑی تھیں۔ وہ جیسے آیا تھا بالکل ویسے کسی سائے کی طرح اندھیرے میں گم ہو گیا۔۔۔۔۔۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK



Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment