The serpent queen by Kainat Tahir Complete novel

  


The serpent queen by Kainat Tahir Download pdf complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Kainat Tahir is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


The serpent queen by Kainat Tahir complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Kainat Tahir All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"زمل، تم نے خود پولیس کو فون کیا تھا۔ تم نے کہا تھا کہ تم نے چھ قتل کیے ہیں۔"

زمل نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔

"جی۔"

افسر نے پوچھا،

"ہم تمہارا باقاعدہ بیان ریکارڈ کر رہے ہیں۔ جو کچھ کہنا ہے، سچ سچ بتاؤ۔"

زمل نے چند لمحے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔

پھر دھیرے سے بولی،

"میں آج جھوٹ نہیں بولوں گی۔"

افسر نے ریکارڈر آن کر دیا۔

"بیان شروع کریں۔"

زمل نے گہری سانس لی۔

"میرا نام زمل سفیان ہے..."

اس کی آواز میں عجیب سا سکون تھا۔

"اور میں نے چھ قتل کیے ہیں۔"

افسر نے قلم اٹھا لیا۔

"قتل کی وجہ؟"

زمل کچھ دیر خاموش رہی۔

پھر اس کی آنکھوں میں تین سال پرانے مناظر اترنے لگے۔

"دھوکا۔"

افسر نے چونک کر اسے دیکھا۔

"کس نے دھوکا دیا؟"

زمل کی پلکیں جھک گئیں۔

"جس پر میں نے سب سے زیادہ یقین کیا تھا۔"

اس کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی۔

"شایان۔"

کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔

زمل نے کہنا شروع کیا۔

"میں کبھی ایسی نہیں تھی۔ مجھے بدلہ لینا نہیں آتا تھا۔ میں تو کسی کے اونچی آواز میں بات کرنے سے بھی ڈر جاتی تھی۔ میں لوگوں پر جلدی یقین کر لیتی تھی۔ رشتوں کو سچا سمجھتی تھی۔ محبت کو مقدس سمجھتی تھی۔"

اس کی آواز بھرا گئی۔

"پھر میری زندگی میں ایک ایسا شخص آیا جسے میں نے اپنی دنیا سمجھ لیا۔"

زمل نے آنکھیں بند کر لیں۔

"میں نے اس پر یقین کیا۔ اپنی خوشیاں اس کے ساتھ جوڑ دیں۔ مجھے لگا تھا کہ یہ شخص مجھے کبھی نہیں توڑے گا۔"

ایک آنسو اس کے گال پر بہہ گیا۔

"مگر اس نے توڑ دیا۔"

افسر خاموشی سے سنتا رہا۔

زمل نے اپنی انگلیاں بھینچ لیں۔

"صرف میرا دل نہیں توڑا گیا تھا۔ میری عزت، میرا اعتماد، میری خود اعتمادی... سب کچھ مجھ سے چھین لیا گیا تھا۔"

وہ چند لمحوں کے لیے رک گئی۔

"میں نے بہت کوشش کی کہ سب بھول جاؤں۔"

"میں نے خود کو سمجھایا کہ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔"

"لیکن کچھ زخم وقت کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوتے۔"

زمل نے نظریں اٹھائیں۔

"وہ اندر ہی اندر انسان کو کھاتے رہتے ہیں۔"

افسر نے پوچھا،

"پھر کیا ہوا؟"

زمل نے دھیرے سے جواب دیا،

"پھر میں بدلنے لگی۔"

"پہلے میں روئی۔"

"پھر میں خاموش ہوئی۔"

"پھر میں نے لوگوں پر یقین کرنا چھوڑ دیا۔"

"اور آخر میں..."

اس کی آواز سرد ہو گئی۔

"میں نے بدلہ لینا شروع کر دیا۔"

افسر نے فائل میں کچھ لکھا۔

"اور تم نے چھ لوگوں کو قتل کیا؟"

زمل نے سر جھکا دیا۔

"جی۔"

"کیوں؟"

زمل نے کچھ لمحے جواب نہیں دیا۔

پھر بولی،

"ہر قتل کے پیچھے ایک کہانی تھی۔ ہر بار مجھے لگا کہ میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا حساب لے رہی ہوں۔"

"مگر آج سمجھ آتا ہے..."

وہ تلخی سے مسکرائی۔

"کہ میں حساب نہیں لے رہی تھی۔ میں خود کو مزید اندھیرے میں دھکیل رہی تھی۔"

افسر نے پوچھا،

"تم نے اپنے لیے 'سرپنٹ کوئین' کا نام کیوں رکھا؟"

زمل نے پہلی بار سیدھا افسر کی طرف دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں درد تھا۔

"میں نے یہ نام شوق سے نہیں رکھا تھا۔"

"پھر؟"

"مجھے حالات نے بنایا تھا۔"

وہ آہستہ سے بولی:

"ایک زمل تھی جو محبت کرتی تھی۔"

"ایک زمل تھی جو لوگوں پر یقین کرتی تھی۔"

"ایک زمل تھی جو معاف کر دیتی تھی۔"

"پھر ایک دھوکا آیا..."

اس کی آواز ٹوٹ گئی۔

"اور وہ زمل کہیں پیچھے رہ گئی۔"

زمل نے آنسو صاف کیے۔

"اس کے بعد جو لڑکی سامنے آئی، وہ کسی پر رحم نہیں کرتی تھی۔"

"وہ اپنے درد کو طاقت سمجھتی تھی۔"

"وہ سمجھتی تھی کہ اگر دنیا نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا تو وہ خود انصاف کرے گی۔"

زمل نے نظریں جھکا لیں۔

"اور اسی لڑکی کو دنیا نے سرپنٹ کوئین کہا۔"

افسر نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد پوچھا،

"کیا تم اپنے کیے ہوئے قتلوں پر پچھتاوا کرتی ہو؟"

اس بار زمل نے فوراً جواب دیا۔

"جی۔"

"بہت؟"

زمل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

"اتنا کہ اگر وقت واپس آ جائے تو میں اپنی زندگی کا ہر وہ قدم بدل دوں جس نے مجھے یہاں تک پہنچایا۔"

وہ سسکی۔

"لیکن وقت واپس نہیں آتا۔"

"مردے واپس نہیں آتے۔"

"اور کیے ہوئے جرم مٹائے نہیں جا سکتے۔"

زمل نے اپنے ہاتھ میز پر رکھ دیے۔

"اسی لیے میں خود پولیس کے پاس آئی ہوں۔"

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


The serpent queen by Kainat Tahir Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment