Khak kay peechy afsana by Iqra Sabir
Short Scens
یہ
سب ادھار مُکا رہے ہیں بیٹی میں نے تو پورے خاندان کے بہو بیٹوں کو دعوت دی
میرا تو پھر ایک ہی بیٹا ہے کوئی جتنا بھی کرے کم ہے اماں نے فخر سے کہا
کیا
ضرورت تھی اتنا کرنے کی گھر ہے کوئی لنگر خانہ تھوڑی ہے اور مجھے تو زرا نہیں پسند
یہ طور طریقے
انسان
کی اپنی پرائیویٹ زندگی ہونی چاہیے ان چونچلو ں میں خود کے لیے وقت نہیں ملتا
ارے
نہیں بیٹا یہ تو بس بہانے ہیں اللّٰہ نے جس کا رزق جہاں لکھا ہوتا ہے اسے وہاں
پہنچا دیتا ہے اور اللّٰہ مہمان نوازی کو بہت پسند کرتا ہے رزق میں اضافہ ہوتا ہے
بہو
بیگم نے کوئی جواب نہ دیا اور کمرے میں چل دی چال ڈھال سے ظاہر ہوتا تھا کہ انھیں
اماں کی بات بس لیکچر لگی
Click the link below to download this novel in pdf.
Khak kay peechy afsana by Iqra Sabir Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment