Woh jo lout kar na aya by Saadi Yusuf complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Woh jo lout kar na aya by Saadi Yusuf complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Saadi Yusuf All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"آپ
یہاں اکیلی کھڑی ہیں؟" اس کی آواز گہری تھی…
بہت گہری… جیسے وہ کم بولنے کا عادی
ہو۔ عریبہ نے ہلکا سا سر ہلایا
"جی…
بس کا انتظار کر رہی ہوں۔" وہ کچھ لمحے خاموش رہا۔
پھر
بولا "یہ بس آج نہیں آئے گی۔"
عریبہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
"آپ کو کیسے پتا؟" وہ ہلکا سا مسکرایا… مگر اس مسکراہٹ میں خوشی نہیں تھی۔ "کیونکہ…
میں نے روکی ہے۔" عریبہ کا دل زور سے دھڑکا۔
"کیوں…؟"
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا —
"کیونکہ
آج آپ کو اکیلے گھر نہیں جانا چاہیے۔" ہوا اچانک تیز چلنے لگی۔ بارش بڑھ گئی۔
اور عریبہ کو پہلی بار لگا… یہ لڑکا عام نہیں ہے۔ بالکل بھی عام نہیں۔ عریبہ کی
سانس تیز ہو رہی تھی۔ بارش ابھی بھی بلا
روک ٹوک برس رہی تھی، اور سڑکوں پر پانی کی لہر جیسے ہر قدم کے ساتھ بڑھ رہی ہو۔
لڑکا، جس کا نام ابھی وہ نہیں جانتی تھی، اس کے قریب کھڑا رہا۔ اس کی آنکھوں میں آج بھی وہ خاموشی تھی، مگر اب
عریبہ کو لگا جیسے اس خاموشی کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہوئی ہے۔
"آپ… آپ کون ہیں؟" عریبہ نے آخرکار
ہمت کر کے پوچھا۔ وہ خاموش رہا۔ پھر آہستہ سے بولا:
"میں…
کوئی خاص نہیں۔ لیکن آج، آپ کے لیے خطرہ ہے۔" عریبہ کا دل زور سے دھڑکا۔
"یہ
شہر… ہر چہرہ ایک کہانی چھپائے ہوئے ہے۔ اور آج، وہ کہانی آپ تک پہنچ سکتی
ہے۔" عریبہ کا دماغ بھاگ رہا تھا۔ وہ
سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ لڑکا حقیقت میں کون ہے — کیا یہ کوئی عام انسان ہے؟ یا… کچھ اور؟ لڑکا
پھر بول پڑا: "میں آپ کو گھر تک چھوڑ
دوں گا… لیکن یہ وعدہ کریں کہ آپ میرے پیچھے سوال نہیں کریں گی۔" عریبہ نے
چند لمحے سوچا۔ پھر آہستہ سے سر ہلایا۔
"ٹھیک ہے… میں وعدہ کرتی ہوں۔" وہ
دونوں سڑک کے کنارے سے بارش میں چلنے لگے۔
ہر قدم پر عریبہ کے دل میں ایک عجیب سا خوف اور دلچسپی ایک ساتھ بڑھ رہی تھی۔ لڑکے کے ہر حرکت میں ایک راز چھپا ہوا لگ رہا
تھا۔ چند لمحے بعد، وہ لڑکا رکا، اور بولا:
"آپ
جانتی ہیں، میں ہمیشہ یہیں ہوں۔ جب بھی آپ کو ضرورت ہو… بس مجھے ڈھونڈنا۔" عریبہ
نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
"آپ کا مطلب…؟"
Click the link below to download this novel in pdf.
Woh jo lout kar na aya by Saadi Yusuf Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment