Ishq junooniyat by Zäme Zohar complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Zäme Zohar is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Ishq junooniyat by Zäme Zohar complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Zäme Zohar All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"تم
ہنس کیوں رہی ہو؟"
زہری
نے ہنسی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا،
"کیونکہ
یہ بہت عجیب مذاق ہے۔"
"یہ
مذاق نہیں ہے۔"
شاہ
فہیم کی آواز سنجیدہ تھی۔
زہری
کی ہنسی فوراً رک گئی۔
"آپ
واقعی کہہ رہے ہیں؟"
"بالکل۔"
"لیکن
شہریار تو میرے لالا ہیں۔"
شہریار
نے فوراً اسے گھورا۔
"زہری!"
"کیا؟
میں نے غلط کیا کہا؟"
"یہی
تو مسئلہ ہے۔"
"کون
سا مسئلہ؟"
"میں
تمہارا لالا نہیں ہوں۔"
زہری
نے بے فکری سے کہا،
"آج
تک تو تھے۔"
شہریار
نے گہری سانس لی۔
"اب
نہیں ہوں۔"
زہری
نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔
اس
کے لہجے میں مذاق نہیں تھا۔
وہ
واقعی ناراض تھا۔
کمرے
کا ماحول اچانک بدل گیا۔
شاہ
فہیم نے بات سنبھالتے ہوئے کہا،
"ہم
نے یہ رشتہ بہت سوچ سمجھ کر طے کیا ہے۔ دونوں خاندان ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے
ہیں۔ تم دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں ہو۔"
زہری
نے آہستہ سے کہا،
"لیکن
میں نے کبھی شہریار کو اس نظر سے نہیں دیکھا۔"
شہریار
نے بھی فوراً کہا،
"اور
میں نے بھی نہیں۔"
اس
جواب پر زہری کے دل میں عجیب سی چبھن ہوئی۔
وہ
خود بھی نہیں سمجھ پائی کہ اسے شہریار کا یہ کہنا برا کیوں لگا۔
شاہ
فہیم نے سخت لہجے میں کہا،
"تم
دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا وقت دیا جائے گا۔ ماسی لیے نکاح کل ہی ہوگا۔
"کل۔۔
زہری
تقریباً چیخ پڑی۔
"اتنی
جلدی؟"
امی
نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"بیٹا،
یہ رشتہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔"
"لیکن
میرے لیے بھی تو میری زندگی اہم ہے۔"
شہریار
نے زہری کی طرف دیکھا۔
اس
کی آنکھوں میں پہلی بار شرارت نہیں، بلکہ پریشانی تھی۔
"میں
اس شادی کے لیے تیار نہیں ہوں۔"
شاہ
فہیم نے سرد لہجے میں پوچھا،
"اور
اگر تمہیں تیار ہونا پڑے تو؟"
شہریار
خاموش ہو گیا۔
زہری
نے اس خاموشی کو غور سے دیکھا۔
اسے
لگا جیسے شہریار کے پاس کوئی ایسا راز ہے جسے وہ سب سے چھپا رہا ہے۔
اور
شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اس رشتے سے اتنا پریشان تھا۔
زہری
نے اچانک فیصلہ کیا کہ وہ بھی خاموش نہیں بیٹھے گی۔
وہ
کرسی سے اٹھی اور صاف لہجے میں بولی،
"میں
بھی اس رشتے کے لیے تیار نہیں ہوں۔"
امی
نے گھبرا کر کہا،
"زہری!"
"نہیں
امی، میں سچ کہہ رہی ہوں۔ میں کسی ایسے شخص سے شادی نہیں کر سکتی جسے میں صرف چھیڑنے
کے لیے جانتی ہوں۔"
شہریار
نے اسے دیکھا۔
"صرف
چھیڑنے کے لیے؟"
زہری
نے فوراً جواب دیا،
"جی۔"
"اور
اگر میں تمہیں چھیڑنے کا موقع نہ دوں تو؟"
Click the link below to download this novel in pdf.
Ishq junooniyat by Zäme Zohar Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment