Behropiya by Sania Umar
Short Scens
"تمہیں
خوابوں میں نظر آنے والے وہ سبز آنکھوں والے انسان تمہارا خواب نہیں ہے عالیہ بلکہ تمہاری روح کی آنکھ سے دیکھے جانے
والے وہ مناظر ہیں جو تمہیں اسوقت نظر آتے ہیں جب تمہارا جسم سورہا ہوتا ہے
"پروفیسر آرتھرمیز پر دونوں ہتھیلیاں ٹکائے جھک کر سامنے بیٹھی عالیہ کی
آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ۔
عالیہ
کے دل کی دھڑکن رک گئی تھی اور پھر اس تیزی سے دھڑکنے لگی تھی کہ اس نے اپنے دونوں
بازو گود میں گرادیے اسے ایک دم سے ہی بہت تھکن محسوس ہونے لگی تھی
کتنے ہی دن وہ اس حقیقت سے نظریں چُرا رہی تھی
اسے لگتا تھا وہ بس ایک خواب ہے ۔اس کے ذہن کی اختراع ۔ اس نے پروفیسر آرتھر کی
بات تیزی سے کاٹی تھی
"ایسا کچھ نہیں ہے پروفیسر آپ غلط ہیں ۔یہ
بس میرا وہ خواب ہے جسے میں نے خود پر سوار کردیا ہے اور آپ بھی کتابی باتیں کررہے
ہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟مجھے کسی اچھے سائیکائٹرسٹ کی ضرورت ہے ذین ٹھیک کہتا ہے
اب
وہ خود کلامی کررہی تھی ۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Behropiya by Sania Umar Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment