Aatish e mehr by Munazza Niaz Complete novel

 


Aatish e mehr by Munazza Niaz complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Munazza Niaz is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Aatish e mehr by Munazza Niaz complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Munazza Niaz All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

" اکیلے بیٹھنا بری بات ہے ہمیں بھی تو ساتھ بٹھاؤ نا"

 اس کا شیطانی چہرہ ونڈ شیڈ کے آر پار صاف دکھ رہا تھا ایمل نے بے چینی سے نظر موڑ لی، مگر دوسرا لڑکا کار کے بالکل قریب آگیا

" بہت ایٹیٹیوڈ ہے شاید اپنے عاشق کا انتظار کر رہی ہے"

 تیسرے نے ہاتھ سے کار کا ہینڈل جھٹکے سے کھولا مگر ایمل نے جھٹ سے اندر لاک کر دیا

" لاک کرنے سے کیا ہوگا گڑیا تیرا عاشق خود ہی تجھے چھوڑ گیا ہے ہمارے لیے "

وہ لڑکا شیطانی ہنسی ہنسا ایمل کا دل بند ہونے لگا اس نے فون اٹھایا رافع کا نمبر دکھ رہا تھا جلدی سے کال ملائی مگر کوئی جواب نہیں آیا

" رافع کہاں ہو تم؟"

 اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ان لڑکوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ایک نے آگے بڑھ کر زور سے کار کے شیشے پر مکا مارا

" چلو میڈم کو اپنے لیے نکالتے ہیں"

 اور اگلے ہی لمحے انہوں نے لاک توڑ دیا ایمل چیخ پڑی

" نہیں ہاتھ مت لگاؤ مجھے "

مگر انہوں نے زور سے اس کا دوپٹہ کھینچ کر کار سے باہر گرا دیا ایمل نے گھبراہٹ میں کار کا دروازہ پکڑا لیکن دوسرے نے اس کا ہاتھ جھٹکے سے ہٹا دیا

" بھاگ نہیں سکتی جان من "

ایمل نے چیخنے کی کوشش کی مگر ایک نے اس کی منہ پر زور سے ہاتھ رکھ دیا اس کے آنسو گرنے لگے ایک نے اس کا ہاتھ تھام لیا دوسرے نے زبردستی اس کے بالوں کو پکڑا اور تبھی ایک چیخ گونجی مگر وہ ایمل کی نہیں تھی ان لڑکوں کی آنکھوں میں دہشت اتر گئی جو انسان سامنے کھڑا تھا وہ، وہ نہیں تھا جسے ایمل جانتی تھی 

ایک لڑکا ہوا میں اچھلا اور کار کی بونٹ پر جا گرا اس کا منہ خون سے بھر گیا تھا رافع کی آنکھوں میں خون اتر آیا وہ لڑکا جو ہنس رہا تھا اب وہ پیچھے ہٹنے لگا مگر رافع نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اگلے ہی سیکنڈ اس کی گردن رافع کے ہاتھوں میں تھی ایک جھٹکے سے اس نے لڑکے کا سر کار کی کھڑکی پہ دے مارا

کریک۔۔۔۔ شیشے کے ساتھ لڑکے کی چیخ بھی ٹوٹ گئی تیسرا لڑکا بھاگنے لگا رافع نے گن نکالی مگر چلائی نہیں بلکہ گن کا بٹ اٹھایا اور سیدھا اس کے سر پہ دے مارا اس کی خوفناک چیخ نکلی اور پھر سناٹا چھا گیا رافع نے اپنے سامنے کھڑے لڑکے کا کالر دبوچا اور اس کے کان کے پاس جھک کر ٹھنڈی آواز میں بولا

" اگر کسی عورت کو ہاتھ لگانے کا اتنا ہی شوق ہے تو ابھی کے ابھی تیرے دونوں ہاتھ توڑ دوں گا تیرے لیے بہتر ہوگا زندگی بھر گھٹنوں پر چلنا سیکھ لے "

تبھی رافع نے اتنی زور سے تھپڑ مارا کہ لڑکا الٹا گر گیا

" آج تو بس وارننگ دی ہے اگلی بار سیدھا قبر میں اتار دوں گا "

وہ لڑکے گرتے پڑتے بھاگ گئے رافع نے ایمل کی طرف دیکھا وہ ایک کونے میں سمٹی ہوئی تھی اس کا چہرہ سفید اور آنکھوں میں آنسو تھے وہ رافع کو پہلی بار اس طرح دیکھ رہی تھی

ایک ایسا انسان جو صرف محبت نہیں تباہی بھی کر سکتا تھا

رافع اس کے پاس گیا اور نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

" میں تمہیں اگنور کر سکتا ہوں، میں تم سے دور رہ سکتا ہوں ، مگر کسی اور کی گندی نظر تم پر برداشت نہیں کر سکتا"

 ایمل نے زمین کی طرف دیکھا مگر رافع نے اس کا چہرہ اپنی طرف اٹھایا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔

" میرے ساتھ اس طرح نہیں کرو ورنہ پھر ڈرنا مت"

 ایمل نے سانس روک کر دیکھا یہ دھمکی تھی یا حق؟ رافع نے اس کے آنسو دیکھے پھر انگوٹھے سے اس کے گال پر گرتے آنسو پونچھے

" اب تمہیں کبھی بھی رونا نہیں پڑے گا جو تمہیں تکلیف دے گا اس کا یہی انجام ہوگا جو تم نے ابھی دیکھا"

رافع نے اس کے کلائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچا

" مجھے برداشت نہیں ہوتا، تمہارا ایک بھی آنسو،  اور یہ بات تمہیں زندگی بھر یاد رہنی چاہیے"

ایمل نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ ایک لفظ تک نہیں بولی تھی اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، رافع نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر ہونٹوں سے لگایا مگر آنکھیں ایمل پر ہی ٹکی ہوئی تھیں

" تمہیں مجھ سے ڈر لگ رہا ہے؟"

ایمل نے ہلکی سی چیخ ماری مگر اگلے ہی سیکنڈ رافع نے اس کا چہرہ اپنے سینے سے لگا لیا

" شش۔۔۔۔ میری جان جب تک تم میرے پاس ہو تمہیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا"

 ایمل کانپنے لگی تھی

" یہ مت بھولنا ایمی، میں محبت کرنا بھی جانتا ہوں اور اگر کوئی تمہیں مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا تو تباہی مچانا  بھی"

 اس کے الفاظ ایمل کے دل میں اتر گئے اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس شخص سے کبھی بھاگ بھی پائے گی یا نہیں

☆☆☆

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Aatish e mehr by Munazza Niaz Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment