(Current Episode 1)
Paraya Mazhab by Kaynat Shah complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Kaynat Shah is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Paraya Mazhab by Kaynat Shah complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"جس
کے لیے تو یہ ڈرامے کر رہی ہے نا، وہ کچھ نہیں ہے۔ سب جھوٹ ہے۔ (نعوذ باللہ) اللہ
واللہ کوئی نہیں ہوتا۔ چل اپنا روزہ توڑ، ورنہ نکل جا میرے گھر سے۔۔۔۔" وہ
حلق کے بل چلا رہی تھیں۔ ماہم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ ہر ظلم برداشت کر سکتی
تھی، مگر اپنے رب کی توہین، اپنے ایمان کی توہین برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ اسی
لمحے اسے یقین ہو گیا کہ یہ واقعی پرایا مذہب ہے، پرائے لوگ ہیں۔
"اپنی
حد میں رہیں جاہل عورت" ماہم کی برداشت جواب دے گئی اور وہ پوری قوت سے چیخی۔
"ممی
سے اس طرح بات کرنے کی ہمت کیسے ہوئی تیری؟" شُبھم جیسے اسی موقع کے انتظار میں
تھا، وہ دھاڑتا ہوا آگے آیا۔
"اچھا؟
تمہاری فیملی نے جو کہا وہ ٹھیک ہے؟" ماہم نے روتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
"ہاں،
ٹھیک کہا انہوں نے، کیونکہ تم اسی لائق ہو۔ تم نے ایک ایسے اجنبی کے لیے جس سے تم
چند مہینے پہلے ملی تھی، اس کے لیے اپنا مذہب، اپنا شہر، اپنے لوگ، یہاں تک کہ
اپنے منگیتر تک کو چھوڑ دیا۔ اس کو ٹھوکر مار کر میرے پاس چلی آئی۔ تم جیسی لڑکیوں
کو اپنے گھر والوں کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ تم جیسی لڑکی ہی اپنے خاندان کی عزت پر
کلنک ہوتی ہے۔ شاید اب تمہیں کوئی اور مل گیا ہے، اسی لیے یہاں سے بھی جانے کا سوچ
رہی ہو۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا، عاریان تمہارے ساتھ نہیں جائے گا۔" شُبھم نے
ہر لفظ زہر میں بجھا کر اس کے دل میں اتارا۔
"مجھے
عاریان چاہیے بھی نہیں، جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ تمہارا بیٹا تم سب کا خون ہے۔ میں
اسے اپنے ساتھ لے جا کر یا اس پرائے مذہب میں رکھ کر وہی درد نہیں دینا چاہتی جو میں
یہاں سہہ رہی ہوں۔ میں اس کی ماں ہوں، باپ نہیں جو بے وفائی کرے یا اولاد کو تکلیف
دے۔" ماہم سسکیوں کے درمیان بولی، اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
"تمہیں
کیا لگتا ہے تمہارے گھر والے تمہیں رکھ لیں گے؟ کوئی نہیں رکھے گا تمہیں۔ تو میرے
پاس واپس آنے کا سوچنا بھی مت۔ یہ لو ڈائیورس پیپر سائن کرو اور دفع ہو جاؤ۔ اور
ہاں، حنان تمہیں کبھی نہیں اپنائے گا۔" وہ یہ کہہ کر اندر گیا اور طلاق کے
کاغذات اور وہ بیگ جو آرتی اور سونیا پہلے سے تیار کر چکی تھیں، لا کر اس کے سامنے
کھڑا کیا۔
ماہم
نے کانپتے ہاتھوں سے پیپرز پر سائن کیا اور ایک پل بھی وہاں رکے بغیر باہر نکل گئی۔
وہ سڑکوں پر دور تک چلتی رہی، یہاں تک کہ تھک ہار کر ایک ویران بینچ پر بیٹھ گئی۔
روزے کی شدت سے اس کا جسم نڈھال ہو رہا تھا۔ مغرب کا وقت ہونے کو تھا۔
اس
نے ہمت جمع کی اور منال کے گھر کی طرف قدم بڑھائے۔ جیسے ہی وہ منال کے گھر پہنچی،
اذان ہوچکی تھی۔ اس نے روزہ کھولا، اور پھر منال کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
اور اسے ساری بات بتائی۔
"بس
کر دو ماہم، جو ہونا تھا جو مکتوب تھا وہ ہو گیا، اب بس معافی مانگو سب سے اور
مداوا کرو،" منال نے نرمی سے اس کے بکھرے بالوں کو پیچھے کیا۔
"میں
کہاں جاؤں گی مجھے عدت بھی پوری کرنی ہے،" ماہم سسکی کے درمیان بولی۔
"عدت؟
مجھے لگتا ہے یہ ضروری نہیں، ایسا کرو ہم مسجد جا کر مولوی صاحب سے پوچھتی ہیں،"
منال بولی۔
"نہیں
نہیں پلیز مجھے مزید شرمندہ مت کرو، میں گزار لوں گی عدت بیشک فرض ہو یا نہ ہو مگر
مجھے لگتا ہے کہ فرض ہے، میں گزار لوں گی مگر میں رہوں گی کہاں، فراز نہیں رہنے دے
گا،" ماہم نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔
"ارے
کیوں نہیں رہنے دے گا، ہم دوست ہیں تمہارے، تم یہاں عدت گزار سکتی ہو ویسے بھی
فراز ڈیڑھ ماہ کے لیے دبئی جا رہا ہے واپس آئے گا پھر ترکی جائے گا، تم میرے پاس
رہنا،" منال نے اس کا ہاتھ تھاما۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment