Main Qurban Meri Jaan by Arooba Muskan complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Arooba Muskan is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Main Qurban Meri Jaan by Arooba Muskan complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Arooba Muskan All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"تم گاڑی میں ہی رہنا۔۔۔!"
کیان نے اس کا سر نیچے کرتے ہوئے پسٹل اٹھائی۔ اس نے ایک نظر پچھلی گاڑی سے نکل کر پوزیشن لیتے ہوئے اپنے گارڈز پر ڈالی اور پھر گہری سانس لیتے ہوئے پسٹل کی میگزین چیک کی۔
"مت جاؤ۔۔۔"
پلوشہ نے اپنے مہندی لگے ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا لیکن کیان کے ذہن میں اس وقت صرف ایک ہی بات سوار تھی، خان حویلی کا وقار اور گاڑی کے اندر موجود اپنی دنیا کی حفاظت۔ اس نے دھویں اور گولیوں کے طوفان میں قدم آگے بڑھا دیا، جہاں دشمن کی ہر گولی کا جواب دینے کے لیے سردار آتش خان کا بیٹا بالکل تیار تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے فضا گولیوں کی جھنکار سے گونج اٹھی تھی۔ ویران پہاڑی راستے پر ڈھلتی شام کے سائے میں بارود کی بو پھیل چکی تھی۔
کیان گاڑی سے باہر نکل چکا تھا۔ بلٹ پروف شیشوں کے پار پلوشہ قیامت کا منظر دیکھ رہی تھی۔
"کیان۔۔۔کیان۔۔۔!"
اس
کی نظریں سڑک پار کر کے جنگل کی جانب بڑھتے کیان پر تھیں۔ وہ نظروں سے دور جا رہا
تھا۔ سب ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔
سامنے سڑک پر خون میں لت پت لاشوں کے سوا سب اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہے
تھے۔
وہ
خوف سے کانپ رہی تھی۔
اسے
کیان کے پاس جانا تھا۔
وہ
مزید گاڑی میں بند نہیں رہ سکتی تھی۔
جیسے
ہی اس نے گاڑی کے دروازے کو کھولنے کے لیے ہینڈل پر گرفت مضبوط کرنی چاہی دروازہ
کھل چکا تھا۔
وہ سکندر خان تھا۔ جس نے اس کے لیے دروازہ کھولا تھا۔ وہی سکندر جو ان کی حفاظت کا ذمہ دار تھا، لیکن آج وہی جان لینے آیا تھا۔
وہ
جنگل کی طرف بھاگ رہی تھی۔
راستہ
دشوار تھا۔
درخت ہی درخت۔ خوف ہی خوف۔
زندگی اور موت کا کھیل جاری تھا۔
"کیان۔۔۔!"
وہ
بھاگتے بھاگتے رکی۔ نکاح کا سرخ دوپٹہ لا پروائی سے شانے سے ڈھلک کر زمین پر جھول
رہا تھا۔
سامنے
کیان نظر آیا تو اس کے سہمے ہوئے وجود میں جیسے جان آئی۔
"پلوشہ۔۔۔!"
اسے
نہیں آنا چاہیے تھا کیان گھبرا کر اس کی طرف بڑھا۔
اسی اثنا میں فضا میں فائر کی آواز گونجی۔ سکندر نے افروز کے اس آدمی کو نشانہ بنایا تھا جس کی بندوق کیان پر تنی تھی۔ کیان نے اپنے عقب میں کھڑے سکندر کو تشکرانہ نگاہوں سے دیکھا، لیکن اگلے ہی لمحے وہ ساکت کھڑا تھا۔
سکندر
خان نے اسے افروز کے آدمی سے بچایا تھا۔ اب وہ خود اس پر نشانہ باندھے کھڑا تھا۔
وہ آج مسیحا نہیں بلکہ موت بن کر آیا تھا۔ وہ سردار آتش خان کا خاص آدمی نہیں، بلکہ نازلی کا بھائی بن کر آیا تھا۔
سکندر خان کی سرخ ہوتی آنکھوں میں غم، غصے، پچھتاوے اور افسوس کے بعد اب ایک لامتناہی انتقامی جذبہ ابھر رہا تھا۔ ایک ایسا جذبہ جو حویلی کے اس سیاہ نظام کو خاک میں ملانے کے لیے کافی تھا۔
کیان کے بڑھتے قدم حیرت اور صدمے سے جم گئے۔ پلوشہ نے پیچھے مڑ کر سکندر کو دیکھا تھا۔
ایک
گولی چلی تھی۔۔۔۔!
پھر ایک اور گولی چلی تھی۔۔۔!
پلوشہ
کیان کی باہوں میں جا گری۔ اس کے نازک وجود سے بہتا سرخ خون کیان کے دامن کو رنگین
کر رہا تھا۔
پلوشہ کی آنکھوں میں اس رات کا خواب تھا۔
سفید لباس تھے۔
مہندی کا رنگ تھا۔
نہیں، وہ خون کا رنگ تھا۔
"میں
قربان، میری جان۔۔۔" کہنے والی قربان ہو چکی تھی۔ اپنی آخری سانسوں کے بیچ جب
اس کے خون سے کیان کا دامن رنگ رہا تھا، وہ
مسکرائی تھی، ایک آخری بار، وہ اس کا محرم تھا۔
محبت
کی دعائیں قبول ہوئیں تھیں۔
بس زندگی نہیں رہی تھی۔
دوسری
طرف سکندر کا زمین بوس ہوتا وجود تھا۔ اس
کے سر سے خون بہ رہا تھا۔ دھندلاتی نظروں کے سامنے اس کی چھوٹی بہن نازلی کا عکس
تھا۔ وہ اسے لینے آئی تھی۔ وہ اس کے ساتھ جارہا تھا۔ جان کا بدلہ جان لیے۔
ایک
ہی وقت میں دو گولیاں چلی تھیں۔ جس لمحے اس نے کیان پر گولی چلائی تھی، پلوشہ
سامنے آ گئی تھی۔ وقت کی اس گھڑی، ان نیلی آنکھوں میں خوف نہیں کیان کو بچانے کا
جنون تھا۔
وہ
کیان پر گولی چلا چکا تھا، لیکن خود بھی اس کے گارڈ کا نشانہ بن کر موت کی آغوش میں
جا رہا تھا۔ زندگی اور موت کے اس سفاک کھیل کا وہ آخری اور دردناک اختتام تھا۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Main Qurban Meri Jaan by Arooba Muskan
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment