Jinhein hoti nahi daulat se ulfat, wo log bhi kitne ameer hote hain by Abdullah Amir Hussain
Short Scens
تم کچھ نہیں بن سکتے۔"
کبھی اس کے فیصلوں پر انگلیاں
اٹھیں،کبھی اس کی نیتوں پر سوال کیے گئے۔وہ ہر بار گرا مگر ہر بار ایک ضد کے ساتھ
اٹھا کہ ایک دن وہ سب کو غلط ثابت کرے گا۔
اور پھروہ دن آیاجب وہ سب کچھ حاصل کر چکا تھا۔کراۓ کے مکان میں رہنے والا نوجوان اب ایک عالیشان بنگلے کا مالک بن چکا تھا۔ اپنے
خوابوں کے پیچھے پیدل بھاگنے والا اب مہنگی گاڑیوں میں سفر کرنے لگا تھا۔پھیلتا ہوا کاروباراور بینک بیلنس جسے گننے کے لیے
وقت چاہیے تھا سب اس کے پاس تھا۔اب وہ ایک کامیاب انسان تھا۔ اس کا مذاق اڑانے
والے ، اس پر ہنسنے والےاب اسے سر آنکھوں پر بٹھانے لگے تھے۔ اب وہ محفلوں میں مثال بن چکا تھا۔لوگ اس کی
کہانی سناتے، اور اپنی قسمت سے اس کا موازنہ کرتے تھے۔
Click the link below to download this novel in pdf.
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment