Zanjeer e ishq by Khadeeja shk Complete novel

     


Zanjeer e ishq by Khadeeja shk complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Khadeeja shk is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Zanjeer e ishq by Khadeeja shk complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Khadeeja shk All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

اٹھا لو اس لڑکی کو۔۔

اس نے وہیں سے بیٹھے فون پر اپنے بندوں کو ہدایت دی۔  شہریار کا حکم ملتے ہی فون بند کر کے وہ دونوں  اس روتی دھوتی لڑکی کی طرف بڑھے ۔

چلو لڑکی اب تمہیں ہمارے ساتھ چلنا پڑے گا ۔

 رکو مجھے ایک بار اپنے گھر والوں سے ملنے دو ۔

مریم روتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی تو انہوں نے رحم کھا کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ مریم فورا سے اپنی چھوٹی بہن عیشا کے پاس آئی۔

آپی آپ مت جائیں۔

مجھے جانا ہوگا عیشا ورنہ یہ لوگ  ہمارے بابا کو مار دیں گے ۔

  ماما بابا بھی پیچھے کھڑے بے بسی سے اسے دیکھ رہے تھے۔

 چلو اب بس ختم کرو یہ میلو ڈرامہ ۔

مریم جب گھر والوں سے مل چکی تو وہ دونوں اس کو زبردستی گھسیٹ کر ساتھ لے گئے۔  پیچھے وہ تینوں بس روتے ہی رہ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 تم لوگ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو ۔

مریم ان کے ساتھ ایک سنسان اور خاموش سی حویلی میں داخل ہوتے بولی۔

 بس سمجھ لو تمہاری موت بہت قریب ہے کیونکہ شہری اپنے کسی بھی دشمن کو زندہ نہیں چھوڑتا ۔

  انہوں نے اسے ایک خفیہ کمرے میں دھکیل کر ڈور لاک کر دیا ۔ وہ روتی کرلاتی زمین پر بیٹھ گئی۔  کمرے میں اندھیرا اتنا تھا کہ پناہ ۔ پتا نہیں اب اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کی زندگی میں آگے کیا لکھا تھاوہ خاموشی سے بیٹھ کر اپنی موت کا انتظار کرنے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں ہے وہ لڑکی ؟

شہریار حویلی داخل ہوا تو ان دونوں گارڈ سے پوچھا۔

نیچے روم میں ہے بہت مشکل سے لے کر آئے ہیں۔

ٹھیک ہے تم دونوں جاؤ اب اور اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنا ۔

وہ ان دونوں کو تاکید کرتا سیڑھیاں اتر کر نیچے چلا گیا۔  مطلوبہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو وہ زمین پر گھٹنوں کے گرد بازو باندھے روتے ہوئے نظر آئی۔  کمرے میں مکمل اندھیرا تھا ۔ وہ اپنا کوٹ اتار کر صوفے پر رکھتا اس کے سامنے آکر بیٹھا ۔ آہٹ محسوس کر کے اس نے اپنا سر اٹھایا اور اپنے سامنے ایک انجانے شخص کو دیکھ کر خوف سے خود میں سمٹی۔  لائٹ وہ آن کر چکا تھا ۔

 کیوں رو رہی ہو تم ابھی تو ہم نے تمہارے ساتھ کچھ نہیں کیا ؟

 وہ روتے ہوئے چہرا اٹھا کر اس کو دیکھنے لگی ۔۔

 ایک جوان   لڑکی کو اس کے گھر سے اٹھا لائے اور کہتے ہو میرے ساتھ   کچھ نہیں کیا ۔

وہ تلخی سے بولی۔  وہ چہرا جھکا کر ہنس پڑا ۔

معصوم اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین بھی ہو ۔ اہم۔ پر ہم تو جوان لڑکی کو اٹھانے کے موڈ میں بالکل بھی نہیں تھے وہ تو تمہارا ہی رونا ختم نہیں ہو رہا تھا۔

وہ سر جھٹک کے بولا۔

 کوئی بھی لڑکی یہ نہیں چاہے گی کہ اس کا باپ اس کے سامنے مارا جائے میری جگہ کوئی بھی ہوتا یہی کرتا۔  کیوں مارنا چاہتے  تھے تم میرے باپ کو کیا بگاڑا ہے اس نے تمہارا؟۔

 اس نے میرا وہ بگاڑا ہے جو اب کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا میں اسے موقع پر مارنا چاہتا تھا لیکن تمہاری وجہ سے صرف تمہاری

 وجہ سے میں اسے نہیں مار سکا مگر اب اسکے ہر جرم کی سزا تمہیں ملے گی اچھی بات ہے وہ زندہ رہ کر آگ میں جلے جیسے میں جل رہا ہوں اب وہ بھی جلے گا جب اپنی

اس حسین بیٹی کو تکلیف میں دیکھے گا ۔

 وہ بول کر اٹھا اور تیزی سے کمرے سے نکل گیا ۔ مریم بے یقین تھی کہ اس کے باپ نے ایسا  کیا کیا تھا اس کے ساتھ اور وہ اسے کیوں مارنا چاہتا تھا وہ صبح سے اس اندھیر کمرے میں بند تھی نہ کچھ کھایا تھا نا پیا تھا ۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Zanjeer e ishq by Khadeeja shk Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment