Hyderabad ki Cinderella by Jannat Asif complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Jannat Asif is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Hyderabad ki Cinderella by Jannat Asif complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Jannat Asif All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
بائی دا وے مجھے
پڑوسی ڈسکاؤنٹ تو ملے گا نا؟ وہ بولا تو آواز میں شرارت تھی۔
میں ایک چھوٹا
موٹا مکینک ہوں۔ اوپر سے آپکا پڑوسی ہوں تو۔۔۔۔
چھوٹا موٹا مکینک؟
فریحہ نے اسکے ایڈیڈاس کے سفید سنیکرز دیکھ
کر کہا۔
ارے یہ؟ یہ تو
دوست سے مانگ کر لایا ہوں۔ کہہ کر وہ مسکرا دیا۔
فریحہ نے دیکھا
مسکراتے ہوۓ اس کے جبڑے کی لکیریں مزید گہری ہو جاتی
تھیں۔
لمبی پلکوں کے نیچے ہنٹر آئیز اسکے نقوش کو
منفرد بناتی تھیں۔
وہ مسکراتی نفی
میں سر ہلاتی مڑنے لگی تھی کہ پاس کھڑے ویٹر کو کچھ کہنے کیلیۓ رک گئی۔
مزمل انکی طرف سے
میں پے کروں گی۔ اتنا کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئی۔
المیر مسکراتے ہوۓ کافی انجواۓ کرنے لگا۔
ساجدہ اور رفیق
احمد لاؤنج میں بیٹھے تھے۔
رفیق احمد قدرے پریشان تھے۔ وہ گھر میں داخل
ہوئی تو ماحول میں تناؤ دیکھ کر آہستہ چلتی ساجدہ کے پاس آکر رک گئی۔
رفیق احمد غور نے
غور سے اسے دیکھا۔ فری کیا تمہیں اپنے انتخاب پہ بھروسا ہے؟
جی ابا۔ آواز میں
ہچکچاہٹ تھی۔
مشرقی لڑکی جتنی
مرضی خود مختار ہو جاۓ۔
ماں باپ سے اپنی شادی کی بات کرتے ہوۓ ہمیشہ ہچکچاتی ہے۔
اور یہی چیز مشرقی
لڑکیوں کو پورے جہاں میں سب سے الگ بناتی ہے۔
رفیق احمد مطمئین
تو نہ ہوۓ تھے پھر بھی چپ ہو گۓ۔
ساجدہ بتا رہی تھی
لڑکے کی عمر چالیس سال ہے؟ اس بار آواز میں تھوڑی سختی تھی۔
ابا کم عمری اچھا
شوہر ہونے کی دلیل نہیں ہوتی۔
ضروری نہیں ہے کہ
لڑکا ہم عمر ہوگاتو ہی ازدواجی زندگی کامیاب ہوگی۔وہ نظریں جھکاۓ کھڑی تھی۔
ابا اس بار سچ میں
خاموش ہو چکے تھے۔
آہستہ سے اسکے
قریب ہوکر اسکے ماتھے پہ بوسا دیا۔ اور اسکے اچھے نصیب کی دعا کی۔
فریحہ نم آنکھوں کے ساتھ انکے گلے لگ گئی۔
یو ٹی ساؤتھ
ویسٹرن آف امریکا ہسپتال کے ایک کمرے میں ایک شخص کرسی پہ براجمان تھا۔
آنکھوں میں گہرا
کرب تھا۔ چہرے پہ ادھ مری سی امید تھی۔
دماغ میں لاکھوں اربوں خلیات کی تہ میں ایک
سوراخ تھا۔
اور دل۔۔دل میں وہ کیرامل براؤن بالوں والی لڑکی
تھی۔ جس کی گہری سیاہ آنکھوں میں ساحر ابراھیم بستا تھا۔
وہ ٹیبل پہ ہاتھ دھرے سامنے بیٹھے ادھیڑ عمر
ڈاکٹر کی نگاہوں میں زندگی کی ایک چھوٹی سی امید ڈھونڈ رہا تھا۔
ڈاکٹر نے فائل
ٹیبل پر رکھ دی۔ چہرے پہ ایک عجیب سا سکون تھا۔
!ساحر ابراھیم
وہ ٹھہرے۔ سامنے
بیٹھے شخص رواں رواں کان بن گیا۔
ریلیکس ہو جائیں
پلیز۔ ڈاکٹر کے چہرے پہ مسکراہٹ ابھری۔
میں نے رپورٹس
دیکھ لی ہیں۔ بیماری زیادہ پیچیدہ نہیں ہوئی ابھی۔ اور اسکا علاج بھی موجود ہے۔
وہ خوش ہوکر بتا رہے تھے مگر ساحر ابراھیم
کو یقین کرنے میں
دشواری ہو رہی تھی۔
!ڈاکٹر
میرے سر میں درد
کی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔ میں اپنی یادداشت کا دس فیصد حصہ کھو چکا ہوں۔
آج سے بیس سال پہلے کی زندگی کی بہت سی چیزیں
میرے زہن سے محو ہو چکی ہیں۔ میرے ماں باپ کا مجھے کچھ پتا نہیں ہے۔
بیس سال پہلے میں
پاکستان چھوڑ کر امریکا آیا تھا۔ اسکے بعد میں کبھی اپنے ماں باپ سے نہیں مل سکا۔
آنکھیں پانی سے بھرتی جا رہی تھیں۔ ڈاکٹر کے پاس
بیٹھا دوسرا انسان جو اسی ڈاکٹر کا اسسٹنٹ تھا٬
بے چینی سے پہلو
بدل گیا۔
ڈاکٹر نے عینک
اتار کر میز پہ رکھ دی۔ بولے تو آواز پر امید تھی۔
!ساحر ابراھیم
Creutzfeldt_jacob
disease
میں چیزیں بھولنا
ایک عام سی بات ہے۔ کیونکہ اس بیماری میں دماغ کے کچھ خلیات میں سوراخ بن جاتے ہیں
جس سے میموری متاثر ہوتی ہے۔
مگر میرا یہی
مشورہ ہے کہ اس بیماری کو اپنے سر پہ سوار مت کیجیۓ۔ پاکستان جائیں۔
اس لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔ آپ خوش
رہنے کی کوشش کریں۔ ڈاکٹر کی بات سن کر وہ کافی حد تک مطمئین ہوگیا تھا۔
کتنا وقت ہے میرے
پاس؟ اسکے اچانک سوال پرڈاکٹر خاموش ہوگیا۔
ابھی یہ بیماری
زیادہ سیریس نہیں ہے۔ اس لیۓ
میں کہوں گا آپ بے فکر ہو جائیں۔ ڈاکٹر کی بات سن کر وہ قدرے پر سکون ہوگیا تھا۔
زندگی کی ادھ مری سی امید پھر سے زندہ ہوگئی
تھی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Hyderabad ki Cinderella by Jannat Asif Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment