Qismat Ki Sitam Zareefi by Mujahid Hussain Laghari (Short novel) complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Qismat Ki Sitam Zareefi by Mujahid Hussain Laghari (Short novel) complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Mujahid Hussain Laghari All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
صفدر آپ جائیں
یہاں سے میں اپنا گھر چھوڑ کر کہیں
نہیں جاؤں گی - اپنا گھر ایسا ہوتا ہے اپنا گھر یہ شخص بجائے
اپنی غلطی پر پشیماں ہونے اور
سدھارنے کے الٹا تم پر
غصہ نکال رہا ہے ماموں غصے میں ترش لہجہ اپناکر کہا-
یہ
سننا تھا کہ
بابا اپنے ھوش وحواس کھو بیٹھے
ہاں ہاں لے جا اپنی لاڈلی کو نہیں چاھیے مجھے ایسی عورت
جو بھائی کے ہاتھوں شوہر کو ذلیل و
خوار کرے-
پھر ابا نے
وہ کردیا جس سے آسمان بھی لرز جاتا
ہے طلاق طلاق طلاق تین بار یہ لفظ ادا کرکے اماں کے ساتھ ساتھ ابا نے جیسے ہمیں بھی ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے نکال دیا
-
ماموں اماں
افشین اور مجھے لے کر اپنے گھر آگئے - میں
تو پھر بھی بڑا تھا مگر افشین یہ سب ناقابل فہم انداز میں دیکھتی رہی اس کا
چہرہ عجیب سوال بنا ہوا تھا
ماموں بہت نفیس
اور محبت لٹانے والے انسان تھے جبکہ ممانی
مزاج اور لہجے کی تلخ ضرور تھیں مگر دل شیشے کی صاف جو بات کہنی ہوتی منہ پر بلاجھجھک کہہ دیتیں دل میں کبھی
بغض اور کینہ نہیں رکھا انہوں نے-
ماموں جب سارا
قصہ انہیں بتا چکے تو وہ اماں کو خوب تسلی دیتے ہوئے بولیں
بہت اچھا کیا ایسے نیچ شخص
اس قابل نہیں ہوتے کہ نباہ کیا جاسکے –
ماموں کی کوئی
اولاد نہیں تھی شادی کے شروع سال میں ممانی کا مس کیریج ہونے
کے بعد وہ دوبارہ ماں نہیں بن پائیں
ماموں ہمارا خیال اپنے بچوں کے طرح رکھتے تھے اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق جو ان سے ہوپاتا کرتے - میرے اور
افشین کے لیے اسکول کا بھی انتظام کیا گیا تاکہ
ہماری پڑھائی کا حرج نہ ہو اور تعلیم
کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جائے جہاں سے منطقع ہوا تھا-
اس وقت میں میٹرک
اور افشین آٹھویں میں تھی باوجود اس محبت اور عزت کے جو ہمیں ماموں کے گھر مل رہی تھی ابا کے
اس عمل کا ہم سب اور خاص طور پر اماں کو بہت قلق اور افسوس تھا وہ چھپ چھپ کر
آنسو بہایا کرتیں –
ابا کی سفاکی اور اس
احسان فراموشی کے جو انہوں نے اماں کی اتنی خدمت اور ساتھ کے جواب اور
صلے میں ان کے ساتھ کیا اماں کے اندر کی عورت کو جیسے مار ڈالا تھا –
ابا کے اس عمل نے
میرے دل میں ان کے لیے نفرت بھر دی
تھی اکثر میرے اور افشین کے چھوٹے ذھنوں میں یہ سوال گردش کرتا کہ آخر انہوں نے
ہمارے ساتھ ایسے کیوں کیا یہ سب کرتے ہوئے انہیں ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ ہم ان
کے بغیر کیسے رہیں گے - ہم تو جان تھے ان کی زندگی تھے
وہ اتنے خودغرض تو نہ تھے –
خیر زندگی اپنے
ڈگر پر پھر بھی ٹھیک چل رہی تھی کہ
ایک اور افتاد ہم پر آن پڑی.
Click the link below to download this novel in pdf.
Qismat Ki Sitam Zareefi by Mujahid Hussain Laghari (Short novel)Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment