Qasr Alif Laila by Shabnam Naseem (Current Episode 1) download pdf

(Current Episode 1)

Qasr Alif Laila by Shabnam Naseem complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Shabnam Naseem is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Qasr Alif Laila by Shabnam Naseem complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Shabnam Naseem All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"تم کہاں تھی، منہا؟ ہم تمہیں کب سے ڈھونڈ رہے تھے!"

ریسا نے پھولی ہوئی سانس بحال کرتے ہوئے کہا۔

"وہ... میرا بریسلیٹ کہیں گر گیا تھا، یہ دیکھو۔ اُسی کو ہی  ڈھونڈ رہی تھی۔"

منہا نے اپنی کلائی آگے کی، جہاں وہ نازک سا بریسلیٹ جھلملا رہا تھا۔

"تم تو چراغ کے جن کی طرح غائب ہو گئی تھی منہا!"

ریسا نے ہلکی سی خفگی سے کہتے ہوئے اس کی کلائی تھامی، اور اگلے ہی لمحے وہ دونوں اپنے گروپ کی طرف مڑ گئیں۔

"سوری... وہ بریسلیٹ میرے دار جی نے دیا تھا، اسے کھونا میں افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔ شکر ہے مل گیا۔"

"اچھا ہوا، لیکن تم ہم میں سے کسی کو آواز تو دے سکتی تھی نا! پتہ ہے میں کتنا ڈر گئی تھی؟"

ریسا کے لہجے میں اب بھی تھوڑی پریشانی باقی تھی۔ وہ ہلکی سرخ قمیض اور کھلی سی پینٹ میں ملبوس، اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا رہی تھی۔

"میں آواز دینے ہی لگی تھی، لیکن تم ہادی کے ساتھ کسی بات پر بحث کر رہی تھی... باقی سب تم دونوں سے آگے نکل گئے تھے۔ میں نے سوچا، جلدی سے بریسلیٹ ڈھونڈ لوں گی، پھر تم سب کو جوائن کر لوں گی۔ پر... my bad luck، تھوڑا وقت لگ گیا۔"

منہا نے بات بدلنے والے انداز میں کہا۔ درویش والا پورا واقعہ وہ ذہن کے کسی خانے میں بند کر چکی تھی۔

اب وہ دونوں اُس وسیع ہال سے گزرتی جا رہی تھیں۔

عربی اور انگریزی اعلانات کی بازگشت اب بھی فضا میں گونج رہی تھی۔

ریسا اب بھی اس سے خفا خفا سی باتیں کر رہی تھی، اور منہا اُسے مسکرا کر منا رہی تھی۔

یہ سب "ڈیوڈ وین ہیٹن کمپنی" کے زیرِ اہتمام ایک ماہ کے سیاحتی دورے پر مصر آئے تھے۔

پورا قافلہ چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا — ہر گروپ میں پندرہ افراد شامل تھے، مگر ان کا گروپ سولہ افراد پر مشتمل تھا؛ ایک خاصا سفارشی بندہ بھی ان کے گروپ میں شامل تھا — نام ہے نائل بلوچ۔

ان گروپس میں ہر عمر اور مزاج کے لوگ شامل تھے — جوان، بوڑھے، عورتیں، سب۔

البتہ ان کے گروپ میں کوئی بچہ نہیں تھا۔

"منہا! کہاں تھی تم؟ کب سے ڈھونڈ رہے تھے ہم تمہیں!"

"وہ... میرا بریسلیٹ کہیں گر گیا تھا، بس اُسے ہی ڈھونڈ رہی تھی۔"

منہا نے ندامت سے کہا۔ اُس کا ہاتھ اب بھی ریسا نے تھاما ہوا تھا۔

"اچھا اب چھوڑو بھی! کیوں پریشان ہو رہی ہو؟ ریلیکس ہو جاؤ — ابھی تو لمبا ٹرپ باقی ہے، انجوائے کرنا ہے ہم سب نے!"

کامران نے مسکراتے ہوئے بات کا رُخ بدل دیا۔

"تمہیں وہ ماسی سکینہ یاد ہے، لیلما؟"

لیلما نے پلکیں جھپکائیں۔

"کون ماسی سکینہ؟"

"ارے وہی، جو ہماری گلی میں سبزی بیچنے آتی تھی!"

ہادی پورے اعتماد سے بولا، جیسے کوئی تاریخی انکشاف کر رہا ہو۔

لیلما ہنس دی جیسے اسے سارا معاملہ سمجھ آگیا ہو اور ایک دم سنجیدہ ہوتے بولی، "ہاں، ہاں، یاد آئی۔ لیکن اس وقت اس کا ذکر کیوں؟لیلما جیسے انجان بن رہی تھی

ہادی نے انگلی ریسا کی طرف اٹھائی۔

"بس، جب یہ بولتی ہے نا… مجھے بالکل ماسی سکینہ یاد آ جاتی ہے!

وہی لہجہ، وہی جوش… جو ماسی سکینہ سبزی بیچتے ہوۓ اختیار کرتی ہے ایسا لگتا ہے ابھی ٹوکری سے آلو نکال کر بیچنے لگے گی!"

"کیا کہا تم نے؟!"

ریسا کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔

"تم نے مجھے ماسی سکینہ کہا میں تمھیں سبزی بیچنے والی لگتی ہوں ؟!" 

ہادی نے فوراً دونوں ہاتھ اٹھا دیے، جیسے بے گناہی کی قسم کھا رہا ہو۔

"استغفراللہ! میں نے تو صرف مثال دی تھی… تم خود جذباتی ہو رہی ہو!"

Click the link below to download this novel in pdf.

Download Link (All Episodes)

Episode 1

Online Reading (All Episodes Links)

Episode 1

Qasr Alif Laila by Shabnam Naseem Epi 1 Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com 

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment