Al Rehman by Hurain Sikander Complete novel


Al Rehman by Hurain Sikander complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Hurain Sikander is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Al Rehman by Hurain Sikander complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Hurain Sikander All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"تم میرے اعمال سے ناواقف تو نہیں ہو!" یہ الفاظ اس نے کس طرح ادا کیے تھے وہی جانتا تھا۔ گرم سیال اس کی آنکھوں سے دغا کرتا اس کے رخصاروں کا حصہ بنا تھا۔

"آپ ابھی تک اپنے ماضی میں ہیں؟" اب وہ سنجیدہ ہوئی تھی۔ عیسیٰ خاموش رہا۔

Esa look at me.” عیسیٰ نے آنکھیں اٹھا کر حورعین کی طرف دیکھا۔ گہری بھوری آنکھیں ہلکی بھوری آنکھوں سے ٹکرائی تھیں۔ گہری بھوری آنکھیں اذیت ، تڑپ، کرب اور ندامت کا شکار تھیں جبکہ ہلکی بھوری آنکھوں میں سنجیدگی واضح تھی۔

"آپ کو اپنے ماضی سے نکل آنا چاہیے۔" اس نے نرمی سے کہا۔

"مگر میرے گناہ۔۔۔۔۔۔"

"شششش۔۔۔پہلے میری بات سنیں۔" وہ اس کی بات کاٹ گئی۔

"رحمٰن کی صفات جانتے ہیں؟"

"کک۔۔۔کیا؟" رونے کی وجہ سے عیسیٰ کی آواز مزید بھاری ہوگئی تھی۔

"ویسے تو اس کی صفات اتنی ہیں کہ اگر میں بتانے بیٹھوں تو دنیا ختم ہو جائے ، میں بول بول کر تھک جاؤں۔ گننے بیٹھوں تو گنتی ختم ہو جائے مگر اس کی صفات ختم نہ ہوں گی۔" وہ ٹھہر ٹھہر کر الفاظ ادا کر رہی تھی۔

"وہ الرحم الراحمین ہے، عفو درگزر اسکی صفت ہے، وہ پاک ذات معاف کر دینے والی ذات ہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ اگر اس کے بندے کہ گناہ سمندر کی جھاگ کی مانند بھی ہوں گے تو ندامت کا ایک آنسو اس جھاگ کو مٹا دینے کو کافی ہے۔ اس سمندروں کے مالک کو اپنے بندے کی ندامت کے آنسو کے ایک قطرے سے محبت ہے۔"

 وہ سانس لینے کو رکی اور پھر سے جملے جوڑنے شروع کیے۔"اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں نیک ہوں اور آپ بد تو یہ صرف آپ کو لگتا ہے۔ میں اور میرا رب ایسا ہر گز نہیں سوچتے اور نہ ہی ایسا ہے۔ ہاں پہلے آپ گناہگار تھے اب نہیں ہیں۔ جب آپ نے سچے دل سے معافی مانگ لی تو آپ بالکل ایسے ہی ہیں جیسے آپ کا جنم ابھی ہوا ہے اور آپ گناہوں سے پاک ہیں۔" عیسیٰ کی آنکھیں بہنے لگی تھیں، دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہو رہا تھا۔ اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ وہاں سے بھاگ جائے بہت دور حورعین سے دور ۔وہ خود کو حورعین کے قابل نہیں سمجھ رہا تھا۔

"اگر اب بھی آپ مطمئن نہیں ہوئے تو یاد رہے رب تعالیٰ کبھی کبھی برائی کو مٹانے کے لیے اسے اچھائی سے ملاتا ہے۔ ضروری نہیں ہوتا کہ اچھے کو اچھا اور برے کو برا ہی ملے۔ بلکہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا بھی مل سکتا ہے۔ اب یہ اچھے پہ منحصر ہے کہ وہ خود برائی اپنائے گا یا برے کو اچھائی اپنانے کے قابل بنا دے گا۔" اس نے عیسیٰ کو دیکھا وہ پرسکون نظر آنے لگا تھا مگر آنکھوں سے بہتا سیال ہنوز رواں تھا۔

"بس آپ سمجھیں کہ میں صرف وسیلہ بنی ہوں۔ اللہ آپ کو اپنی طرف بلانا چاہتا تھا اور اس نے مجھے آپ سے ملا دیا۔ اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ اس رب نے مجھے بنا آپ کی ہدایت کے وسیلے کے طور پر۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ مجھ سے بھی کہیں زیادہ پسندیدہ اور محبوب ہوں۔"
****
"چلیں!!"

"آہہہ!"

 وہ پیچھے سے بنا کسی آہٹ کے آتی اس کے قریب ہوتے اس قدر اونچی آواز سے چیخی تھی کہ عیسیٰ کی چیخ بے ساختہ تھی۔موبائل بمشکل اس کے ہاتھوں سے گرتے گرتے بچا تھا۔

"یار کیوں اتنے الٹے کام کرتی ہو؟" وہ دانت ہچکچاتے اسے گھوریوں سے نواز رہا تھا۔

"بس مزہ آتا ہے۔" مقابل نے کندھے اچکائے۔

"تمہارے مزے کی تو ایسی کی تیسی۔۔۔۔تمہیں سیدھا کرنا پڑے گا۔" عیسیٰ نے نچلے لب کا بایاں کنارہ دانتوں تلے دبایا۔

"آپ ہی کی ٹیڑھی پسلی ہوں کر سکتے ہیں سیدھا تو کر لیں۔"

 وہ ایک ادا سے بولتی عیسیٰ کو حیران کر گئی۔ عیسیٰ نے اس کی حاضر جوابی آنکھوں سے داد دی تھی اور آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا۔

"ٹیڑھی چیزوں کو ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی قبول کرنا چاہیے۔  سیدھا کرنے کی کوشش انہیں توڑ دیتی ہے۔ اور عیسیٰ سکندر کو حورعین عیسیٰ سکندر اپنے ٹیڑھے پن کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے، دل و جان سے قبول ہے۔"

 وہ مسکرا کر کہتا مقابل کو معتبر کر گیا تھا۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Al Rehman by Hurain Sikander Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment