Mehrunisa by Wisha Nadeem complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Wisha Nadeem is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Mehrunisa by Wisha Nadeem complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Wisha Nadeem All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"دیکھ یار میری بات سن۔پہلے وہ میری بیوی ہے پھر
تمہاری ماں ہے ٹھیک ہے نا تو خوامخواہ
میں میری بیوی پر قبضہ مت کیا کرو۔آئی
سمجھ"وہ بیڈ پر بیٹھا ساتھ لیٹے اپنے آٹھ ماہ کے بیٹے کو سمجھا رہا تھا۔
اس کا بیٹا اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
"ہاں اب ماں کی طرح آنکھیں مت نکال۔دیکھ رونا نہیں۔یار"وہ کچھ اور کہتا
کہ اس کے بیٹے نے گلا پھاڑ کر رونا شروع کر دیا جس کا صاف مطلب تھا کہ اس کو اپنی
ماں کے بارے میں کی گئی گستاخی پسند نہیں آئی۔
"یا اللہ ۔ کیا ہوگیا ہے۔کیا ہوا میرے بچے
کو"وہ رونے کی آواز سن کر بھاگ کر اندر آئی اور روتے ہوئے بیٹے کو اٹھا کر
سینے سے لگایا۔
"بس میرا بچہ چپ۔"وہ اس کی پیٹھ سہلا
رہی تھی اور اسے ادھر ادھر لے کر ٹہل رہی تھی۔
وہ بیڈ پر بیٹھا برے برے منہ بنا کر
ان دونوں ماں بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔
"بس یہی پیارا ہے آپ کو تو۔ابھی میں نے بلایا ہوتا
تو کبھی نا آتی"
"کیا ہوگیا ہے عالیان۔آپ بالکل بچوں جیسی باتیں کرتے
ہیں۔اور
کیا ہوا تھا اسے کیوں رو رہا تھا یہ"وہ اب اپنے بیٹے کو بیڈ پر لیٹا رہی تھی
جو روتا روتا اس کے کندھے سے لگا سو چکا تھا۔
"ہونا کیا تھا۔بس میں نے اتنا کہا کہ
بھائی میری بیوی ہے وہ پہلے تم بعد میں آئے ہو تو اس لیے زیادہ حق میرا ہے اس پر۔ فضول میں میری بیوی پر
قبضہ مت کیا کرو۔مگر
سچائی تو یہاں کسی کو ہضم ہی نہیں ہوتی۔"وہ بول رہا تھا اور مہرو کا دل کیا
کچھ اٹھا کر اسے دے مارے۔
"عالیان۔(وہ چیخی) آپ بالکل بچے بنتے جا رہے ہیں۔اتنا سا بچہ ہے وہ کیا وہ
یہ بات سمجھ سکتا ہے۔خدا
جانے آپ کو کیا ہوتا جا رہا ہے۔آپ
کی بیوی ہوں آپکی ہی رہوں گی۔
اففففف۔کدھر
چلی جاؤں میں"وہ
سر پکڑے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
"اچھا نا۔سوری۔اب نہیں بولوں گا کچھ
پکا"وہ دوسری طرف سے اٹھ کر اس کے پاس آکر بیٹھا۔
"بہت مہربانی۔اب اس کا دھیان رکھیے گا
میں کچن دیکھ لوں زرا"وہ کہتی باہر جانے لگی جب اس نے آگے ہو کر اس کا ہاتھ
پکڑا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
"کوئی ضرورت نہیں کوئی کام کرنے کی۔ادھر بیٹھو خبردار میں نے
تمہیں کوئی کام کرتے دیکھا تو۔مہینہ
ہونے والا ہے مجھے آئے اور آپ میڈم مجھ پر دھیان ہی نہیں دے رہیں بس نظر آتا ہے تو
کچن اور اپنا بیٹا۔شوہر
تو کسی کھاتے میں ہی نہیں آتا۔"وہ
اسے واپس بیٹھا
چکا تھا اور وہ اس کی باتوں پر مسکرا رہی تھی۔
"اب ہنسنا بند کرو اور مجھ سے باتیں
کرو"
"کیا باتیں کروں جناب"وہ بیڈ کے
ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
"سبزیوں کے ریٹ بتا دو"وہ جل کر
بولا۔
"اففف ہے عالیان"وہ اس کی بات پر
کھلکھلا کر ہنس پڑی اور وہ اس کی ہنسی میں کھو سا گیا تھا۔
"ایسے کیا دیکھ رہے ہیں"اسے جب
اپنے اوپر نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو بولی۔
"دیکھ رہا ہوں کہ آپ آج بھی اتنی ہی
خوبصورت ہیں یا یہ میری نظر کا جادو ہے"
"کیا مطلب آج بھی۔میں کون سا بڈھی ہوگئی ہوں۔ہنہہ"وہ منہ بنا کر
بیٹھ گئی تھی۔
"ارے ارے میں تو کہہ رہا تھا کہ شادی کے
تین سال بعد بھی آپ مجھے خوبصورت لگ رہی ہیں تو اس میں کس کا کمال ہے۔کیونکہ میں نے سنا ہے
بیویاں بس ایک سال تک ہی اچھی لگتی ہیں۔"اس کے بولنے کی دیر تھی کہ مہرو نے
پاس پڑا تکیہ اٹھا کر اسے دے مارا۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Mehrunisa by Wisha Nadeem Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment