Noor-ul-iman afsana by Kainat Shahid
Short Scens
“
کیا آرڈر کریں؟" شامیر نے پوچھا جبکہ نور ال ایمان غیر حاضر تھی۔
“
ہاں ؟" اس نے غائب دماغی سے جواب دیا جسکو مقابل نے محسوس کیا۔
“
کوئی مسئلہ ہے نور ال ایمان ؟ تم آج کچھ مختلف طرح سے پیش آ رہی ہو ۔ اگر کوئی بات
ہے تو مجھے بتاؤ ۔ ہو سکتا ہے میں تمہاری مدد کر سکوں۔" یہ کہتے ہوئے مقابل نے
پھر اسکا ہاتھا پکڑا جیسے وہ اسکو اپنے ساتھ ہونے کا پختہ یقین دلا رہا ہو جبکہ اس
بار نور ال ایمان کو اس لمس سے وحشت سی ہونے لگی ۔ اتنی بے چینی کہ اسکی آنکھوں میں
اچانک ہی آنسو بھی آ گئے اور اس سے پہلے کہ وہ رونے لگ پڑتی اس نے اپنا ہاتھ چھڑوایا
اور فوری طور پر اپنی جگہ سے جانے کے لیے اٹھی ۔
“ مجھے گھر جانا ہے اور میں جا رہی ہوں۔" یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا بیگ پکڑا اور جانے کے لیے باہر نکل پڑی۔ یہ سب اتنی تیزی میں ہوا کہ مقابل کو سمجھنے کا موقع بھی نہیں ملا اور جب اسکو سمجھ میں آئی تب تک وہ وہاں سے جا چکی تھی۔
انی
وحشت! اتنی بے چینی! اس کا دل کر رہا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔ جو لمس اسکو ہمیشہ
احساس دلاتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں آج اس کو اسی لمس سے وحشت ہوئی تھی ان دو سالوں
میں پہلی بار! پہلی بار وہ وعدہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ایک سراب لگا اور لہجہ ملاوٹی!
“
یہ ۔۔۔ یہ مجھے کیا ہو رہا ہے؟ مجھے لگ رہا جیسے میں اندھیرے میں ہوں! وہ خواب
۔۔۔۔ وہ خواب مجھے بے چین کر رہا ہے۔ میں کیا کروں؟ کس کو بتاؤں؟ " اتنی بے بسی
تو آج سے پہلے کبھی بھی نہیں ہوئی تھی جتنی اسے اس وقت ہو رہی تھی لیکن وجہ سمجھ سے
باہر تھی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Noor-ul-iman afsana by Kainat Shahid Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment