(Current Episode 1 & 2)
Noor-e-hidayat by Mah Noor Usmani complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Mahnoor Usmani is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Noor-e-hidayat by Mah Noor Usman complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
چاروں
طرف آگ کا سمندر تھا، بلند ہوتے شعلے سب کچھ نگل رہے تھے۔ ان شعلوں کے عین بیچوں بیچ
پانچ سال کی ایک ننھی سی پری، ایک چھوٹی سی بچی کھڑی تھی جس کی آنکھوں میں موت کا خوف
تھا۔ وہ اپنی ننھی سی جان بچانے کے لیے تڑپ رہی تھی اور اس کی معصوم چیخیں فضا کا جگر
چیر رہی تھیں:
"نہیں۔۔۔
بچاؤ مجھے! نین۔۔۔ سائم بھائ بچاؤ!!!"
ذوالقرنین
نے اسے بچانے کے لیے دیوانہ وار ہاتھ بڑھایا، لیکن اسی لمحے ایک زوردار، کان پھاڑ دینے
والا دھماکہ ہوا اور وہ معصوم بچی ان بے رحم شعلوں کی نذر ہو کر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
"ماہ
نوووور!!!"
ایک
دلخراش چیخ کے ساتھ ذوالقرنین کی آنکھ کھل گئی۔ وہ ہانپتا ہوا اٹھ بیٹھا، اس کا پورا
جسم پسینے میں شرابور تھا۔ وہی خواب، وہی آگ اور وہی چیخیں بچپن سے اس کا پیچھا نہیں
چھوڑ رہی تھیں۔ وہ شخص جس کے نام سے لندن کا انڈر ورلڈ کانپتا تھا، اس وقت ایک ہارے
ہوئے انسان کی طرح گہرے سانس لے رہا تھا۔
وہ
بستر سے اٹھا اور لڑکھڑاتے قدموں سے بالکونی کی طرف نکل گیا۔ لندن کی یخ بستہ ہوا نے
اس کے تپتے چہرے کو چھوا تو اسے تھوڑی راحت ملی۔ ملک مینشن کے گرد و نواح میں قبرستان
جیسا سناٹا تھا۔
ذوالقرنین
نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کیں اور ایک بہت طویل اور بوجھل سانس لیا۔ اس کی آواز میں
کرب اور جنون کی ملی جلی کیفیت تھی جب اس نے سرگوشی کی:
"آہ۔۔۔
کہاں ہو میری نورِ جاں؟ کہاں ہو تم؟"
اس
نے مٹھیاں بھینچ لیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر گویا خود سے عہد کیا:
"میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا ماہ نور۔۔۔ اپنی آخری سانس تک میں تمہیں ڈھونڈتا رہوں گا۔"
"تم
ماہ نور کو بھول جاؤ تو یہ خواب تمہارا پیچھا چھوڑ دے گا۔"
پیچھے
سے سائم کی کھنکتی ہوئی آواز آئی۔
ذوالقرنین نے سائم کی طرف دیکھ کر تڑپ سے کہا، "میری ماہ نور زندہ ہے، میں اسے ڈھونڈ لوں گا! اور تم مجھے یہ مت کہنا کہ میں اسے بھول جاؤں۔"
سائم نے ذوالقرنین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدگی سے کہا، "یار! ماہ نور میری بھی چھوٹی بہن تھی۔ میں نے بھی اپنے دل پر صبر کر لیا ہے۔ تم مان کیوں نہیں جاتے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی؟"
ذوالقرنین کی آنکھیں غصے سے مزید سرخ ہو گئیں۔ "سائم! آخری بار بتا رہا ہوں کہ آئندہ یہ نہ کہنا کہ وہ زندہ نہیں ہے۔" اس نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
سائم
کو بھی غصہ آ گیا۔ "کیوں نہ کہوں؟ تمہاری اس ضد کی وجہ سے امی ہر وقت پریشان رہتی
ہیں۔"
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
Epi 1 & 2 Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment