Ikhtitam se Aaghaz by Mirza Nigar Saif complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Mirza Nigar Saif is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Ikhtitam se Aaghaz by Mirza Nigar Saif complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Mirza Nigar Saif All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
سمائرہ بیگم کچن میں کھڑی ہیں۔ کچن بھی کیسا؟ کچن
کے نام پر ایک چھوٹی دیوار جس کے کونے میں چھوٹا
سا چولہا بنا ہے۔ پاس ہی کچھ لکڑیاں بھی ہیں۔ وہ ان میں سے تھوڑی تھوڑی لکڑیاں
اٹھا کر جلانے کے لیے ڈال رہی ہیں۔ دھواں بے تحاشہ ہے جو کہ ان کی صحت کے لیے نہایت
مضر ہے۔ آمنہ (بیٹی) ان کے قریب بیٹھ کر ناشتہ کرنے میں مصروف ہے اور ہاتھ میں موبائل
ہے۔
"آمنہ
ناشتہ کر کے ذرا میری مدد تو کر دو۔" وہ شائستگی سے بولیں۔
"واٹ
آر یو سئینگ
What
are you saying?
نو وے میرا یونیورسٹی میں آج بہت امپورٹنٹ لیکچر ہے۔" وہ قدر بد تہذیبی
سے گویا ہوئی۔
"
بیٹی کتنی دفعہ بولا ہے کہ انگریزی کے الفاظ میرے سامنے نہ استعمال کیا کر مجھے سمجھ
نہیں آتی پہلے ہی میں نے مشکل سے اردو بول چال سیکھی ہے۔" وہ اس کے رویے پر غصہ
نہیں تھیں۔اسی نرم لہجے میں اس سے مخاطب تھیں۔
"سو
واٹ ماما اگر آپ کو نہیں آتی
This
is none of my business."
وہ
چڑچڑے انداز میں کہتی اٹھ کر جانے لگی لیکن اپنے پیچھے کھڑے باپ کو دیکھ کر رک گئی
جو خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ آمنہ کا دل ہو لایا۔ کیا بابا نے سن لیا؟؟
"
وہ بابا....." ابھی وہ کچھ کہتی کہ اس کے والد نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے منع
کیا۔
"
میں کمرے میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں جلدی آؤ ضروری بات کرنی ہے۔" وہ حکم صادر
کرتے دوسری نظر ڈالے بغیر کمرے کی طرف چلے گئے۔ مرغیاں اپنے معمول کے مطابق خوراک کی
تلاش میں صحن میں اِدھر اُدھر بھٹک رہی تھیں۔چھوٹا سا گھر تھا دو کمروں پر مشتمل اور
ایک کچن اور ایک باتھ روم۔
وہ انگلیوں کو مڑوڑتی ایک نظر ماں کو دیکھ کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے
کی طرف بڑھ گئی۔ سمائرہ بیگم آج اس کے مفاد میں کچھ نہیں بولیں۔انہیں معلوم ہو گیا
تھا کہ اب معاملہ باپ بیٹی خود ہی سلجھا لیں گے۔
وہ نظریں جھکائے کمرے میں داخل ہوئی۔ لقمان صاحب پلنگ پر بیٹھے تھے، ہاتھ
میں اخبار لیے۔ وہ گہرا سانس خارج کرتے ہوئے بولی۔
"
بابا میں اندر آ جاؤں۔" اس نے اجازت طلب کی۔ بے چینی کی وجہ سے بھول گئی کہ وہ
کمرے میں داخل ہو چکی ہے۔
"
آپ اندر آ چکی ہیں۔" انہوں نے اخبار طے کرتے ہوئے بے نیازی سے کہا۔
"
سوری۔" اس نے کہہ کر زبان دانتوں تلے دبائی۔
"
آئیں ادھر میرے پاس بیٹھیں۔" وہ ہچکچاتی ہوئی بیٹھ گئی۔
"
باہر ابھی آپ کس سے بات کر رہی تھیں۔" انہوں نے آرام دہ انداز میں پوچھا۔
"م۔۔
ماما سے۔" اس نے جھکی نظروں سے جواب دیا۔
"
اور ماں کے قدموں تلے کیا ہے؟"
"
جوتے" وہ بے ساختہ بولی۔
"آمنہ بیٹے میں سنجیدہ ہوں" انہوں نے خفگی
سے کہا۔
"
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔"
اس نے حوالے کے ساتھ بتایا۔"
"
تو آپ اپنی جنت سے ایسے بات کر رہی تھیں۔ دیکھو بیٹا اگر میں روایتی باپ ہوتا یا تمہاری
ماں ایک روایتی ماں ہوتی تو تمہیں تھپڑ جڑ دیتے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا معلوم ہے
کیوں؟" انہوں نے پوچھا تو آمنہ نے سوالیہ نظروں سے باپ کو دیکھا۔ "کیونکہ
ایک ماں سے زیادہ پیار اپنے بچے سے کوئی نہیں کرتا اور کیا کبھی تم نے غور کیا ہے کہ
تمہاری ایک آنکھ کا رنگ دوسری سے مختلف کیوں ہے۔"
"
نہیں" اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
"
چلو میں تمہیں ایک ماں کی کہانی سناؤں۔" انہوں نے کہا تو وہ ہمہ تن گوشی سے سننے
لگی۔
"
ایک گاؤں میں ایک سردار تھا۔ اب سردار لوگ تو بہت امیر ہوتے ہیں۔ انہیں کسی چیز کی
کمی نہیں تھی اور ان کی صرف ایک بیٹی تھی لیکن سردار ہمیشہ اپنی بیوی اور بیٹی سے بدزن
رہتا تھا کیونکہ اسے بیٹے کی خواہش تھی جو اس کی نسل کو آگے بڑھاتا۔ سردار کی بیٹی
کو پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن وہ کبھی سکول نہیں گئی اور وجہ کیا تھی جانتی ہو؟"
"
نہیں"وہ کہانی میں اتنی منہمک تھی کہ بول گئی۔
"
کیونکہ اس کے باپ نے کبھی اسے جانے ہی نہیں دیا کہ وہ ایک لڑکی ہے لیکن اصل وجہ یہ
تھی کہ اسے اپنی بیٹی پر بھروسہ نہیں تھا۔ آج بھی معاشرے میں کچھ لوگ اسی تصور کے تحت
بیٹیوں کو پڑھاتے نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ تعلیم کے زیور سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اب
وہ گاؤں کا سردار تھا اسے ڈر تھا کہ اگر اس کی بیٹی باہر گئی تو وہ اس کی عزت کو خاک
میں ملا دے گی اور اسی وجہ سے وہ جلد از جلد اس کی شادی کرنا چاہتا تھا۔ ایک دن اس
نے بغیر اپنی بیٹی کی مرضی جانے اس کا رشتہ طے کر دیا گاؤں کے ایک استاد سے اور اس
کی بیٹی کی عمر اس وقت محض 17 سال تھی۔ بیٹی نے چپ چاپ حامی بھر لی کیونکہ جب وہ گھر
سے رخصت ہو کر جا رہی تھی تو باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا "پہلی بار تم
پر بھروسہ کیا ہے کبھی توڑنا نہیں" باپ کے ان الفاظ سے اس کی آنکھوں سے ایک قطرہ
نکل کر اس کے رخسار پر بہہ گیا جو کسی کو نظر نہیں آیا اور وہ پھر اپنے شوہر کے گھر
آگئی۔ اس کا باپ کبھی اس کی ماں کو اس نے ملنے نہیں دیتا تھا۔ معلوم ہے جب اس لڑکی
کی گود میں رحمت آئی تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور اس نے اپنی بیٹی کو اٹھانے سے منع
کر دیا۔ جب اس کے شوہر نے پوچھا تو اس نے کہا "مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں میں اس
کے ساتھ نا انصافی نہ کر دوں۔" لیکن وہ اپنی بیٹی سے بہت محبت کرتی تھی۔ جب اس
کی بیٹی چھوٹی تھی تو اس کی ایک آنکھ میں مسئلہ تھا تو ماں نے ڈاکٹر سے بات کر کے اپنی
ایک آنکھ اپنی بیٹی کو دے دی۔ آج وہ خود ایک آنکھ سے دیکھتی ہے تاکہ اس کی بیٹی دونوں
آنکھوں سے دنیا دیکھ سکے اور آج بھی وہ چاہتی ہے کہ اس کی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔
کیا وہ قابل تعریف نہیں ہے؟ جاننا چاہو گی کہ وہ کون ہے؟" آمنہ کا چہرہ آنسوؤں
سے تر تھا اور وہ سر نفی میں ہلاتی بھاگ کر باہر گئی اور فوراً اپنی ماں کے گلے لگ
گئی۔ سمائرہ بیگم پہلے ٹھٹکیں اور پھر اس کا چہرہ دیکھ کر پریشانی سے بولیں۔
"
لاڈلی یہ تم رو کیوں رہی ہو۔ دیکھ چہرے کو کیا کر لیا ہے آخر ہوا کیا ہے؟"
"
بس اس کی غلط فہمیاں دور کی ہیں تاکہ اس کے ذہن سے غلط سوچیں نکل جائیں۔" جواب
آمنہ کی بجائے لقمان صاحب نے دیا۔
"
نہ میری لاڈلی یوں نہیں روتے، تم تو ہمیشہ مسکراتی ہوئی اچھی لگتی ہو۔ یہ روتی ہوئی
لڑکی تو میری بیٹی نہیں ہے۔" وہ خفگی سے بولیں لیکن آمنہ نے انکا پر اطمینان چہرہ
دیکھا۔
.............
Click the link below to download this novel in pdf.
Ikhtitam se Aaghaz by Mirza Nigar Saif Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment