Sangat by Muqadas Chudary Complete novel


Sangat by Muqadas Chudary complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Muqadas Chudary is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Sangat by Muqadas Chudary complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Muqadas Chudary All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

وہ چار فٹ کی لڑکی میرا  یعنی " زارون کبیر " کا مقابلہ کریں گئی

 ہا ہا ہا ………..

  ایک طنز بھرا قہقہ گاڑی کے اندر گونجا۔ انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ ہلکے نشے میں ہے

کچھ زیادہ ہی فنی ہے !!!! اس نے آپنا ادھورہ جملہ پورا کیا

زارون سامنے دیکھ کر گاڑی چلاؤ !!!!!! ولی کی آواز سنجیدہ تھی

زارون نے سر ہلاتے ہوئے "  ولی  کی طرف ایک نظر ڈالی، جو خاموشی سے سڑک پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔

جو بھی ہے ویسے ماننا پڑے گا دم ہے اس میں !!!!! کچھ دیر کی خاموشی کو پھر زارون کی آواز نے توڑا

مجھے لگتا ہے تمھیں اسکے بارے بات کرنے میں مزہ آرہا ہے !!!! ولی نے مدھم  لہجے میں کہا

ہاں !!! مجھے ہمشہ آپنے دوشمنوں کے بارے میں بات کرنے میں مزہ آتا ہے اور اگر دوشمن " سماہا حبور " جیسا ہو تو بات ہی کچھ اور ہے !!!!!!!

زارون کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی

  چھوڑو  مجھے ہاتھ مت لگاؤ تم مجھے نفرت ہے مجھے تمہارے لمس سے !!!!!! زارون سیدھا کھڑا ہوا اور سامنے موجود " ہارون کبیر " کی طرف دیکھا

زارون پھر پی کر آئے ہو تم ۔۔!!!!  ہارون نے اس کے زہریلے جملوں کو نظرانداز کر دیا، مگر الفاظ کا اثر کہیں زیادہ گہرا تھا جتنا وہ ظاہر کر رہا تھا۔

توووو ۔۔ !!!  "تووو…؟!"

زارون نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا

تمھیں کیا ہے اس سے میں پیو  یا نہ پیو تم آپنے کام سے کام رکھا کرو !!!!!

  کچھ لمحوں کے لیے دونوں کے درمیان خاموشی تن گئی۔ ہارون کی آنکھوں میں غصہ نہیں تھا، بس ایک تھکن… اور ایسی فکر جو زارون کو سب سے زیادہ ناگوار گزرتی تھی۔

تمھیں اس وقت آرام کی ضرورت ہے زارون !!!! ہارون نے اسکا بازو آپنے کندھے پر رکھا

زارون نے تلخی سے ہنسی اڑا دی۔

کتنے ڈھیٹ ہو تم یار نئی جانا مجھے تمہارے ساتھ سمجھی نہیں آرہی تمھیں !!!!!! 

اگلے ہی لمحے زارون کا ضبط ٹوٹ گیا۔ اس نے ہارون کو زور سے دھکا دیا۔

ہارون ایک قدم پیچھے لڑکھڑایا، پھر سنبھل گیا

"مجھے کسی کی ہمدردی نہیں چاہیے، ہارون۔ خاص طور پر تمہاری نہیں۔" !!! ۔ آنکھوں میں وہی ضد، وہی انکار۔

وہ چند قدم چلا اور قدم ڈگمگا گئے لیکن ہارون کے ہوتے ہوئے وہ گر نہیں سکتا تھا

ہارون نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا

  یار سمجھ نہیں آرہا ہے کیا کرو ؟؟

ہارون کے لہجے میں تھکن تھی

This king nd of answer

میں ہوں نہ چلو بتاؤ سن رہا ہوں ۔۔؟؟

زارون نے محبت سے کہا

کیونکہ اس جنگ میں …….. میں صرف جیتنے نہیں… توڑنے آیا ہوں۔”

ہارون کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آئی 

This answer

اور اگر توڑنے والا واقعی زارون کبیر ہو…

تو ہارون کبیر اس ٹوٹنے کے لاکھوں، کروڑوں بار صدقے دے سکتا تھا۔ 

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Sangat by Muqadas Chudary Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment