Aik akhari khat by Hafsa Dameer complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Hafsa Dameer is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Aik akhari khat by Hafsa Dameer complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Hafsa Dameer All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
تھاجب
ساحل بھائی ہوش میں آئے تھے، ساحل بھائی نے کچھ بھی کھایا پیا نہیں تھا۔ وہ کمرے میں
رہتے تھے ایک زندہ لاش کی طرح۔
بس وہ آخری خط جو حُسنا باجی نے کبھی بھی اُن کو
پوسٹ نہیں کیا تھا ، پڑھتے رہتے تھے۔ یا پھر
پُرانے خط نکال لیتے، کبھی شادی کی تصاویر
دیکھنے لگتے۔
آہستہ آہستہ اُن کی آنکھوں میں روشنی کم ہو رہی تھی۔
جیسے کوئی چراغ ہو، جس میں تیل ختم ہو چکا
ہو مگر بتی ابھی جلنے پر ضد کر رہی ہو۔ مجھے ڈر لگنے لگا تھا۔ مجھے لگا وہ پاگل ہو
جائیں گے۔
یا
شاید۔۔۔
پاگل
ہو چکے تھے۔ وہ بھی مر رہے تھے۔ بالکل ویسے ہی جیسے باجی مر رہی تھیں، خاموشی سے، بغیر کسی شور کے۔ اور تب میں نے پہلی
بار اپنے آپ سے یہ سوال پوچھا تھا۔۔۔
کیا واقعی دنیا میں ایسی محبت بھی ہوتی ہے؟ یا یہ
سب صرف کتابوں میں اچھا لگتا ہے؟ مگر میں نے جو دیکھا تھا وہ کسی ناول کا صفحہ نہیں
تھا۔ وہ ایک انسان کا بکھرنا تھا۔
اور اُس دن کے بعد مجھے یقین ہو گیا تھا، کچھ محبتیں زندگی میں نہیں، موت کے بعد بھی سانس
لیتی رہتی ہیں۔
میں
چاہ کر بھی ساحل بھائی کو سیدھا گھر نہیں لے جا سکا۔ میرے قدم خود ہی قبرستان کی طرف
مُڑ گئے تھے۔ کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جو دروازے پر نہیں بتائے جاتے، اُن کے لئے زمین
کی خاموشی درکار ہوتی ہے۔میں اُنھیں کیسے بتاتا کہ آپ کی حُسنا نہیں رہی ۔
یہ خط جنہوں نے چار ماہ آپ کو زندہ رکھا وہ محض ایک
دھوکا تھے۔ باجی کو پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ مر رہی ہیں، اسی لئے اُنھوں نے پہلے ہی سے ناجانے کتنے خط لکھ
ڈالے تاریخ کے ساتھ۔وہ جانتی تھیں کہ صرف اُن کے خط ہی ساحل بھائی کو واپس لائیں گے۔اُس
نے مجھ سے منت کر کے کہا تھا کہ ساحل کو مت بتانا۔
میں نے باجی کے کہنے پر ہی اُن کی موت کے بعد ہر
ہفتے اُن کے لکھے گئے خط ساحل بھائی کو پوسٹ کئے تھے۔ کبھی کبھی تو میں سوچتا تھا کہ
کیا پتہ وہ بھی وہیں شہید ہو جائیں۔ تو شاید یہاں آکر وہ عزت سے محفوظ رہیں۔۔۔ مگر
قسمت بہت ظالم ہوتی ہے۔ اور اب وہ روزانہ مر رہے تھے میری نظروں کے سامنے۔
ساحل
بھائی پورے راستے حُسنا کی باتیں کرتے رہے ۔وہ کب ہنستے تھے۔۔۔ کب خواب بُنتے تھے، میں ہر لفظ کے ساتھ تھوڑا اور مر رہا تھا۔ میں نے
اُنھیں کبھی نہیں روکا۔ میں کیا کہتا؟ کہ وہ جس کا انتظار کر رہےہیں، وہ اب انتظار
میں نہیں ہے؟
قبرستان میں قدم رکھتے ہی میرا دل بیٹھنے لگا۔ یہ
جگہ میرے لئے نئی نہ تھی، میں یہاں بہت دفعہ آ چکا تھا۔۔۔میں حُسنا کی قبر کے آگے جاکر
رُک گیا تھا۔وہ میری بہن تھی، اُسکی موت کی
خبر مجھ سے کیسے سُنائی جانی تھی۔
جب
اُنکی نظر قبر پر آ رُکی تو میں نے اُن کو اکیلا چھوڑ دیا۔ کچھ سچ انسان خود ہی دیکھے
تو بہتر ہوتے ہیں۔ میں نے اُن کے چہرے کی طرف نہیں دیکھا، مگر میں نے اُن کا ٹوٹنا
سنا تھا۔
جب
وہ زمین پر گِرے، تب مجھے احساس ہوا کہ میں نے اُنھیں بچانے کے لئے سچ چھپایا تھا،مگر
میں نے اُنھیں مارنے میں دیر نہیں کی تھی۔
مجھے
لگا اب شاید جلد ہی اِس گھر میں دوسری میت اُٹھائی جائے گی
Click the link below to download this novel in pdf.
Aik akhari khat by Hafsa Dameer
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment