(Current Episode 1)
Raah e Zindagi by Arfa Ali complete novel. The novel is based on Suspense, Thrill, Police Officer Hero, News Anchor Heroine, Family base, Friendship base Novel.
Arfa Ali is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Raah e Zindagi by Arfa Ali complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"میں نیوز اینکر کنزہ ریاض، آپ نے کال کی تھی؟" اس نے دریافت کیا۔
"جی میں نے کال کی تھی، آپ بہت دیر سے آئی ہیں۔" اس نے تنقید کی جسے وہ سراسر نظرانداز کر گئی۔
"میں جاب بھی کرتی ہوں، وہاں سے آئی ہوں۔" اس نے لاپرواہی سے کہا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی جبکہ وہ غصے میں اسے دیکھنے لگا۔
"تمہیں ایم این اے فیصل میر والی نیوز پڑھنے کا کس نے کہا تھا؟" اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے پوچھا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
"میں نیوز اینکر ہوں جو خبریں گردش کر رہی ہوتی ہیں اور جو ملک میں ہو رہا ہوتا ہے، وہ خبریں ہم پڑھتے ہیں۔" اس نے بتایا تو اسے غصہ ہی آگیا۔
"جو خبر تم نے کل پڑھی تھی، وہ سکھر شہر کی ویڈیو نہیں تھی۔" اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے بتایا۔
"اچھا تمہیں کس نے بتایا؟" اس نے جیسے تمسخر اڑایا ہو۔
"میں ایم این اے کا بیٹا فواد میر ہوں، میرے بابا نے کچھ مہینے قبل وہاں کام کروایا تھا وہ ویڈیو کسی اور جگہ کی تھی۔ رپورٹرز جو ویڈیو بنا کر چلانے کے لیے دیتے ہیں چینل والے اسے نشر کر دیتے ہیں، اب اگر تم نے کسی کے کہنے پر ایسی خبر پڑھی تو پھر اپنی نوکری کو بھول جانا۔" اس نے غصے میں کہا تو وہ اسے دیکھنے لگی سفید شرٹ پر کالے رنگ کی پینٹ زیب تن کئے، بالوں کو جیل سے سیٹ کئے، سفید رنگت، ہاتھ میں ورسٹ واٹچ پہنے وہ سب کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا سبب بن رہا تھا۔
"مسٹر فواد میر میں خبریں پڑھوں گی، اور مجھے دھمکی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔" اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنا موبائل اٹھائے باہری دروازے کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ اپنے غصے پر ضبط کرتا ہوا اپنے آدمیوں کی جانب بڑھ گیا۔
وہ غصے میں کار میں بیٹھ گئی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ ایسا کیوں کہہ رہا تھا وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی اس نے بے دلی سے کال اٹینڈ کی اس طرف سے بتائی گئی بات سن کر اسے غصہ ہی آگیا اسے جاب سے نکال دیا گیا تھا وہ کار سے باہر آئی اور ریستوران کی جانب بڑھ گئی وہ ریستوران سے نکل کر اپنی کار کی جانب بڑھ رہا تھا اس کی آواز سن کر پلٹ کر اس کی جانب دیکھنے لگا۔
"تم نے چینل والوں کو کال کی تھی؟" کنزہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہ مسکرانے لگا۔
"تم نے کہا تھا تم ایسی خبریں پڑھو گی اس لیے میں نے چینل والوں کو کال کرکے کہا تمہیں نوکری سے نکال دیں۔" اس نے بتایا اور اپنا چشمہ پہنا۔
"اب نیوز میں تمہاری بھی خبریں آئیں گی، تم بھی ایسا ہی کرتے ہوگے، پیسوں کا لالچ دے کر تم امیر لوگ کام کرواتے ہو، تم نے ابھی بھی پیسوں کا لالچ دیا ہوگا۔" اس نے غصے میں کہا تو وہ مسکرانے لگا اردگرد کے لوگ وہاں کھڑے ہو کر ان کا جھگڑا دیکھ رہے تھے۔
"مس اینکر کنزہ ریاض جب تمہیں جاب مل جائے پھر نیوز دینا ابھی یہاں سے جا سکتی ہو۔"
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
Epi 1 Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment