Basant ke rang afsana by Sana Ijaz
Short Scens
ارے
رخسار بیگم , تم اس بسنت کے تہوار سے ناخوش
کیوں ہو , پورے پچیس برس بعد لاہور میں دوبارہ بسنت منائی جا رہی ہے کیا کہنا ,
کیسا رونق بھرا تہوار ہے ,
حال
میں ایک طرف بیچھےتخت پوش پر بڑے سے تکیے کا سہارا لیے , سکون سے بیٹھی دادی اماں نے
خوشمنا لہجے میں کہا ۔
اماں
جی مجھے ایسے تہوار بالکل پسند نہیں ہے یہ صرف وقت کا ضیاع , فضول خرچی , اور اوپر سے مہمانوں کی ریل پیل ہے
,
رخسار
بیگم نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔
اب
ہم تم سے کیا بحث کرے رخسار بیگم یہ تہوار وقت کا صیاع نہیں ہوتے , بلکہ یہ روز مرہ
کی تھکن بھلا کر اپنے پیاروں کے ساتھ یادگار وقت گزارنے کا موقع دیتے ہیں , اور مہمان
بھی اللہ کی رحمت ہوتے ہیں ان سے نہیں گھبراتے
,
دادی
اماں نے سنجیدگی سے رخسار بیگم سے کہا۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Basant ke rang afsana by Sana Ijaz
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment