Rad nama afsana by Sania Sajjad
Short Scens
تم
بہرے ہو؟ یا پاگل ہو؟ ایک بار کہہ دیا
تھا کہ امتحان نہیں دو گے، سمسٹر ریپیٹ کرو گے۔ بات سمجھ میں نہیں آتی؟
وہ
وہی امتحانی ہال کے باہر کھڑے کھڑے اس پر چلا
رہے تھے۔
سر،
پلیز میں نے جرمانہ جمع کروا دیا تھا۔ آپ کو اللہ کا واسطہ ہے مجھے پرچہ دینے دیں ،
حارث گڑگڑایا۔
بند
کرو اپنی بکواس اور یہاں سے دفع ہو جاؤ ،باقی بچوں کا پرچہ خراب ہو رہا ہے۔یہ کہہ کر
پروفیسر جانے لگے، تو حارث نے ان کے پاؤں پکڑ لیے۔
سر،سر پلیز میں غریب ہوں۔ میں سمسٹر ریپیٹ نہیں کر سکتا۔ میرے پاس فیس کے پیسے نہیں ہیں۔ آپ کو اللہ کا واسطہ ہے، مجھ پر رحم کریں۔
کوریڈور میں اس کے رونے اور سسکنے کی آواز گونج رہی تھی، مگر کسی کو کیا فرق پڑنا تھا۔ پروفیسر نے بے دردی سے اسے پاؤں سے جھٹکا دیا اور وہاں سے چلے گئے۔
حارث وہیں زمین پر گر کر اونچی آواز سے روتا رہا۔
میری
غلطی کیا ہے؟ یہی کہ میں غریب ہوں؟ ایک کریانے والے کا بیٹا ہوں؟ کیا میرا ان کامیابیوں پر کوئی حق نہیں جو امیر باپ کے بچوں
کو حاصل ہیں؟
ان
میں سے کتنے ایسے ہیں جن کی حاضری پوری نہیں تھی، پھر بھی انہیں امتحان دینے کی اجازت
مل گئی مگر مجھے نہیں۔ کیوں؟
Click the link below to download this novel in pdf.
Rad nama afsana by Sania Sajjad
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment