Zauq-e-Rahi thy by Dua Aslam complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Dua Aslam is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Zauq-e-Rahi thy by Dua Aslam complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Dua Aslam All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
" بہت مشکل ہوتا ہے اپنے خوابوں کو ماردینا۔۔۔۔"
میں نے لوگوں سے سن رکھا تھا کہ جب ہم سیکنڈ ایئر کا آخری امتحان دے کر نکلتے ہیں تو
ہم جیسے مڈل کلاس لوگوں کے لیے آگے کی زندگی آسان مرحلہ نہیں ہوتی ایک ایسا مرحلہ ہوتی
ہے جس میں صرف اور صرف آزمائشیں ہو ۔۔۔۔"
ایک بار رزلٹ کے
بعد اماں نے مجھ سے پوچھا ۔۔۔۔
" فریشہ تم
اب آگے کیا کرو گی ، کیا تم آگے پڑھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔؟؟؟
میرا اسوقت دل کیا
میں اماں کو کہہ دوں اماں میں ڈاکٹر۔ بننا چاہتی ہوں میں اپنے خواب کی تدبیر کو مکمل
کرنا چاہتی ہوں مگر میں کہہ نا سکی اور میں نے کہہ دیا کہ اماں میں آگے ایڈمیشن نہیں
لوں گی میں مدرسے کی تعلیم حاصل کروں گی ۔۔۔۔۔
اماں نے مجھے دیکھا
اور کہا ۔۔۔۔
" تم تو ڈاکٹر بننا چاہتی تھی نا ۔۔۔۔ ؟؟
میں نے اماں کو نم آنکھوں کے ساتھ دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
" اماں میں
اب ڈاکٹر نہیں بن سکتی ۔۔۔۔"
اماں نے میری طرف
دیکھا اور پھر بولی ۔۔۔۔
" کوئی بات نہیں تم مدرسے کی تعلیم حاصل کر لو۔۔۔"
اماں نے مجھ سے
کوئی بات نہیں کی اور وہاں سے اٹھ گئی اس کے بعد جس دن میں نے مدرسہ جوائن کیا۔ جب
انھوں نے مجھے ایم ۔اے اسلامیات کی ڈگری کا بتایا تو میرے ذہن میں ایک بار پھر وہی خیال آیا ۔۔۔۔
" کاش کوئی مجھے یہ کہتا کہ اس کے بعد میرے ہاتھوں
میں ڈاکٹری کی ڈگری ہوگی ، اور میں فریشہ سے ڈاکٹر فریشہ بن جاؤں گی۔۔"
میں نم آنکھوں سے
ان کی ساری بات سنتی رہی جب میں نے ان کی بات سن لی تو میں نے رجسٹریشن فیس انھیں وہی
جمع کروا دی ، جب میں واپس گھر آنے لگی تو میری نظر مدرسے کے سامنے ایک بہت بڑی یونیورسٹی
پہ پڑی ، وہاں سے بہت سی لڑکیاں کنڈھے پہ بیگ ڈالے ہاتھوں میں وائٹ کوٹ پکڑے اور کچھ
لڑکیوں نے تو وائٹ کوٹ پہنا ہوا تھا میں نے انھیں ایسے دیکھا جیسے ایک بلی گوشت کے
ٹکڑے کو حسرت سے دیکھتی ہے ۔۔۔۔
" مطلب میرا
خواب میری حسرت بن چکا تھا ایک ایسی حسرت جو ہمیشہ ادھوری ہی رہنی تھی
۔۔۔۔"
وہ اس دن جب گھر گئی تو اماں نے اس سے پوچھا تو اس نے اماں کو ساری بات بتائی اماں
نے کہا ۔۔۔۔۔
" فریشہ اگر تم یہ ڈگری حاصل کرلو گی تو میرا سر فخر
سے اونچا ہو جائے گا کیونکہ جو ڈگری تم حاصل کر رہی ہوں جو تعلیم تم لے رہی ہو وہ ہر
کوئی نہیں لے سکتا وہ ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی تم نے یہ تعلیم حاصل کرنا پہلے
سے تو نہیں سوچ رکھا تھا اچانک سے خیال آنے کا مطلب یہی ہے کہ اس تعلیم کے لیے اللہ
نے تمہیں چنا ہے ۔۔۔۔"
اس نے اپنی اماں
کا مسکراتا چہرہ دیکھا جن کا چہرہ پُرسکون تھا اس کی اور اس کی ماں کی سوچ مختلف تھی
وہ سوچتی تھی ۔۔۔۔
" ڈاکٹر کی ڈگری کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے یہ تعلیم
تو ہر کوئی حاصل کرلیتا ہے ڈاکٹری کی ڈگری ہر کوئی حاصل نہیں کرسکتا یہ صرف وہ لوگ
حاصل کرتے ہیں جو ذہین ہو جن کے پاس پیسہ ہو ۔۔۔۔"
Click the link below to download this novel in pdf.
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment