Iblees se Azazeel tak by Falakshah Complete novel


Iblees se Azazeel tak by Falakshah complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Falakshah is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Iblees se Azazeel tak by Falakshah complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Falakshah All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

یی یہ اتنا پیارا لڑکا کون ہے؟ ایک منٹ یہ تمہارے کمرے سے نکلا ہے وہ بھی نہا کر تم تم ایسی نکلو گی مینے کبھی نہیں سوچا تھا توبہ توبہ وہ کانوں کو ہاتھ لگاتی بولی ۔۔

ایسا کچھ نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہی ہیں یہ میرے کزن ہیں اس نے جان بوجھ کر نہیں بتایا تھا اسے۔۔۔

اچھا اچھا مگر تمہارے کمرے سے خیر چھوڑو اس کی شادی وادی ہو گئی ہے ؟ تم کہو تو میری بہن ہے نا شائستہ اس کے ساتھ بات چلائوں ؟

 ایمن نے دانت پیس کر اسے دیکھا ۔۔

نکلے یہاں سے وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولی تو شزہ ہڑبڑا کر اٹھ گئی

 کیا ہو گیا ہے ایمن تم ایسے کیسے بات کر سکتی ہو ۔۔

میں اب تک لحاظ ہی کر رہی تھی آپ کا کبھی احسان کیا تھا آپ نے میرے مشکل وقت میں ساتھ دے کر مگر اب بس بہت ہو چکا نکلے ۔۔

تم تم بدکردار لڑکی مجھ سے ایسے بات کروگی جس کا کردار ٹھیک نہیں ہے ایک لڑکے کے ساتھ اکیلے رہتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی اوپر سے اسے جھوٹا کزن بھی بنا لیا جانتی ہوں میں تم جیسی بدکررر

بس بہت ہو گیا وہ اس کے آگے ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا ۔ایک لفظ بھی اور کہا تو گدی سے زبان کھینچ لوں گا یہ لحاظ بھی نہیں کروں گا کہ آپ ایک عورت ہے۔۔۔۔

تم تم بیچ میں مت بولو اچھے گھرانے سے لگتے ہو اس لڑکی کی چال ۔۔

چٹاخ

 پھر اے ایس کا صبر جواب دے گیا اور اس نے اک زور دار تھپڑ اسے رسید کیا وہ ہونق بنی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔

میری بیوی کے خلاف ایک لفظ بھی کہا تو اگلی بار تھپڑ نہیں گولی بھیجے میں اتاروں گا ۔۔شزہ تو شزہ اس کے لہجے سے ایمن بھی کانپ کر رہ گئی ۔۔شزہ بھاگ کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔

آپ آپ نے انہیں تھپڑ مارا وہ بے یقینی سے بولی

 ہاں میں کسی کو بھی مار سکتا ہوں اگر اس نے آپ کے بارے میں کچھ الٹا سیدھا کہا تو ۔چلیں اب ناشتہ دے دیں بلا وجہ اس عورت کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔میرا بس چلتا تو میں اسے جان سے مار دیتا ۔۔۔

آپ کی غلطی ہے ساری کہہ رہی تھی یہاں رہنا مناسب نہیں ہے آپ کا مگر نہیں میری کون سنتا ہے ۔وہ خفگی سے کہتی کچن میں چلی گئی اور برتن پٹک پٹک رکھ رہی تھی اے ایس نے لب بھینچ لئیے ۔۔

رہنے دے ناشتہ میں باہر جاکر کر لوں گا دروازا بند کر لیں آ کر ۔۔وہ کہتا نکل گیا پیچھے وہ خاموش سی ہو گئی گھر جیسے بے رنگ ہو گیا ۔۔اس کی موجودگی میں یہ گھر گھر لگ  رہا تھا اب جیسے ایک مکان ہو اور بس وہ ہو ۔۔

وہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گئی ۔۔ناجانے کیوں وہ کہیں اور کا غصہ کہیں نکالتی تھی ابھی بھی اسے شزہ کی باتوں پر غصہ تھا خاص کر جب ندیدوں کی طرح اے ایس کو دیکھ کم گھور زیادہ رہی تھی ۔۔۔۔۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Iblees se azazeel tak by FalakShah

Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.comm

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment