Raaz e dil by Muqaddas Khurshid Complete novel


Raaz e dil by Muqaddas Khurshid complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Muqaddas Khurshid is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Raaz e dil by Muqaddas Khurshid complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Muqaddas Khurshid All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

“یار جہانگیر، یاد ہیں اسکول کے دن؟ تب سے ہماری دوستی چلی آ رہی ہے۔”

جہانگیر خان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

“ہاں یار، وہ دن بھی کیا دن تھے۔ وقت کیسے گزر گیا، پتہ ہی نہیں چلا۔”

زمان خانزادہ نے گہری سانس لی۔

“اب دیکھو، بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں، شادیاں بھی ہو گئیں۔”

جہانگیر خان نے اثبات میں سر ہلایا۔

“بس پھر کیا، میں بچوں کو لے کر شہر شفٹ ہو گیا۔”

“اور کچھ عرصے بعد میں بھی،” زمان خانزادہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد جہانگیر خان نے آہستہ سے کہا:

“لیکن چھٹیاں آتے ہی دل گاؤں کی طرف ہی کھنچتا ہے۔”

زمان خانزادہ نے مٹی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا:

“بالکل… آخر ہمارا گاؤں ایک ہی تو ہے۔”

جہانگیر خان نے پرانی یادوں میں کھو کر کہا:

“سچ کہا یار، گاؤں اور دوستی… دونوں کبھی نہیں بدلتے۔”

اور واقعی، کچھ رشتے وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے—

وہ اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔

جہانگیر خان کا ایک بیٹا پرویز خان اور ایک بیٹی تھی، جبکہ زمان خانزادہ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔

آج کافی دن ہو گئے ہیں، جہانگیر سے ملاقات نہیں ہوئی… چلو اس کے گھر چلتے ہیں۔

جب زمان خانزادہ جہانگیر کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ سب لوگ ہسپتال میں ہیں۔ وہ فوراً ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا۔

خیریت تو ہے؟ سب ہسپتال میں کیوں ہیں؟

مبارک ہو، جہانگیر خان کے بیٹے پرویز کے گھر دو سال بعد بیٹی پیدا ہوئی ہے۔

جہانگیر خان (کمزور مسکراہٹ کے ساتھ):

اللہ نے بیٹی سے نواز دیا ہے، دعا کرو دوست۔

وقت کے ساتھ ساتھ جہانگیر اور زمان دونوں دن بدن بوڑھے اور بیمار ہوتے جا رہے تھے۔

یہی موقع ہے… اس دوستی کو نسلوں تک قائم رکھنے کا۔

زمان خانزادہ (پرویز سے):

میں اپنی طرف سے تمہاری بیٹی دلآویز کا رشتہ اپنے چھوٹے بیٹے رضوان کے بیٹے اورحان خانزادہ سے طے کرنا چاہتا ہوں۔

یہ ہمارے لیے عزت کی بات ہے، چچا۔

تین سال بعد نکاح کی تاریخ طے ہوئی، اور مقررہ وقت پر اورحان اور دلآویز کا نکاح ہو گیا۔

اس وقت ارحم سات سال کا تھا اور دلآویز صرف تین سال کی۔

دلآویز کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے، مگر اورحان کو کچھ نہ کچھ اندازہ تھا۔

اورحان اپنے دادا زمان خانزادہ کے بہت قریب تھا، ان کے ساتھ شکار پر بھی جایا کرتا تھا۔

دلآویز گھر کی سب کی جان تھی۔ اس کی دادی بہت پہلے انتقال کر چکی تھیں، جب پرویز سولہ اور اس کی بہن نجما چودہ سال کی تھی۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں سب لوگ گاؤں گئے ہوئے تھے۔

زمان، کیا خیال ہے؟ آج شکار پر چلتے ہیں۔

کیا پتہ زندگی دوبارہ موقع دے یا نہ دے۔

وہ ابھی کچھ ہی دور پہنچے تھے کہ دشمنوں نے حملہ کر دیا۔

ایک گولی سیدھی زمان خانزادہ کے سینے کو چیر گئی۔

زمان!!!

جہانگیر نے مقابلہ کرنے کی بہت کوشش کی، مگر اس کے بازو پر بھی گولی لگ گئی۔

جہانگیر… میری دوستی کا واسطہ ہے… یہاں سے چلے جاؤ… سب کو بلا لاؤ…

نہیں زمان! میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا!

آخرکار زمان کے اصرار پر جہانگیر مدد لانے گیا۔

جب وہ واپس آیا تو زمان خانزادہ شہید ہو چکا تھا۔

سب نے جہانگیر کو قصوروار ٹھہرایا۔

دونوں خاندانوں میں شدید لڑائیاں ہوئیں۔

جہانگیر خاموش رہا، مگر دونوں کے بیٹے ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔

میں نے ہی اپنے دوست کو مارا ہے… مجھے سزا دے دو، مگر خاندانوں کو لڑاؤ مت۔

جہانگیر کو جیل ہو گئی۔

چار دن بعد خبر آئی کہ جیل میں اس کا انتقال ہو گیا ہے۔

اس کے بعد دونوں خاندانوں کا کوئی رابطہ نہ رہا۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Raaz e dil by Muqaddas Khurshid Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment