Dastan-e-tanhai by Mahnoor Ahsan Shaikh complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Mahnoor Ahsan Shaikh is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Dastan-e-tanhai by Mahnoor Ahsan Shaikh complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Mahnoor Ahsan Shaikh All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
وہ
میری آنکھوں میں کیوں نہیں دیکھتا؟ کیا وہ ڈرتا ہے؟ یا پھر… کچھ چھپا رہا ہے؟ حیا نے
کروٹ بدلی آنکھیں بند کیں مگر ازلان کی موجودگی پھر بھی
دل کے پاس ہی رہی وہ ہمیشہ تھوڑا سا جھک کر بات کرتا تھا ہمیشہ نظریں کہیں اور جیسے
آنکھوں کا ملنا کوئی خطرہ ہو کبھی اس نے میری آنکھوں میں دیکھا ہی کیوں نہیں؟
یہ خیال دل میں ایسا اتر گیا جیسے
کوئی ان کہی بات دروازہ کھٹکھٹا رہی ہو حیا نے آہستہ سے سانس لیا اور خود سے کہا شاید
کچھ سوال خاموشی سے پوچھے جاتے ہیں مگر کچھ… پوچھنے پڑتے ہیں اسی سوچ کے ساتھ آنکھیں
آخرکار بند ہو گئیں
اگلی صبح یونیورسٹی کی فضا مختلف
لگ رہی تھی یا شاید حیا خود بدل چکی تھی دل میں وہی سوال مگر اب ڈر کم اور ہمت زیادہ
تھی لائبریری میں داخل ہوتے ہی اسے وہی مانوس سی خاموشی ملی اور وہی ازلان کتاب کے
درمیان ہمیشہ کی طرح خاموش حیا نے قدم آہستہ کیے اور اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ
گئی ازلان نے سر اٹھایا سلام کیا اور پھر نظریں نیچی کر لیں
حیا
نے دل کی دھڑکن کو سنبھالا اور پہلی دفعہ خاموشی سے نہیں ہلکے مگر صاف لہجے میں کہا
ازلان…ایک
بات پوچھوں؟ وہ چونکا مگر سر ہلا دیا
حیا نے لمحہ بھر رکا پھر بولی
آپ…میری
آنکھوں میں کیوں نہیں دیکھتے؟
یہ سوال ہوا میں ٹھہر گیا لائبریری
کی خاموشی بھی جیسے رک گئی ہو ازلان نے کتاب بند کی ہاتھوں کو آپس میں جوڑا اور کچھ
لمحے خاموش رہا پھر آہستہ سے بولا
کیونکہ
کچھ نظریں…انسان کو کمزور کر دیتی ہیں وہ اس کی
بھوری انکھوں میں نہیں دیکھتا تھا کیونکہ اس کو لگتا تھا کہ اگر وہ اس کی انکھوں
میں دیکھے گا تو وہ اس کے عشق میں گرفتار ہو جائے گا وہ اس کی انکھوں میں ڈوب جائے
گا اور اس سے اس سے پیار ہو جائے گا
حیا
کی سانس رک سی گئی
اگر
میں آنکھوں میں دیکھ لوں تو شاید وہ سب کہہ بیٹھوں جو ابھی کہنے کی ہمت نہیں ازلان
نے نرم چاشنی جیسے لہجے میں کہا
عشق محبت
پیار یہ سب فریب ہے حیا نے آہستہ سے کہا
اور جو آپ کو دیکھ کر میری دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں؟
کیا مطلب
؟ حیا نے حیرت سے کہا
جی کچھ نہیں وہ
حیا کچھ نہیں بولی مگر اس کے دل میں جیسے کوئی گرہ کھل گئی
ہو وہ پہلی دفعہ سمجھی کہ یہ نظریں ملانے سے نہیں بچانے سے ڈرتا تھا خاموشی پھر لوٹ
آئی مگر اب یہ خاموشی مختلف تھی زیادہ گہری زیادہ سچی اور زیادہ خطرناک بھی کیونکہ
اب دونوں جانتے تھے کچھ سوالوں کے جواب دل بدل دیتے ہیں
حیا اور ازلان لائبریری سے باہر نکلے صحن کی طرف چلتے ہوئے
دونوں خاموش تھے بارش کے بعد زمین کی خوشبو ہلکی ہوا اور پتے پر ٹپکتے قطرے ہر لمحے
کو زیادہ جاندار بنا رہے تھے
ازلان نے اچانک کہا
اپ واقعی
ہر چیز پر اِتنا سوچتی ہیں؟
حیا ہلکی
سی مسکرائی اور سر ہلایا
ہاں مگر اپکی
طرح کا کوئی سامنے ہو تو سوچنا کم اور محسوس کرنا زیادہ ہوتا ہے
ازلان نے
ہنستے ہوئے کہا
اچھا تو اپ
سمجھتی ہیں کہ میں بھی کبھی کبھی کتابوں میں چھپ کر سوچتا ہوں
حیا نے نظریں جھکی اور شرما کر کہا
ہاں اور کبھی کبھی
تمہارے چھوٹے چھوٹے مسکانے والے لمحات زیادہ بڑے لگتے ہیں
Click the link below to download this novel in pdf.
Dastan-e-tanhai by Mahnoor Ahsan Shaikh
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment