Thori si mohabbat to hai tum se by Huda Complete novel


Thori si mohabbat to hai tum se by Huda complete novel. The novel is based on fictional based,Soft romance, social story, second marriage.


Huda is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Thori si mohabbat to hai tum se by Huda complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Huda All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

ہائے اللہ ! یہ تو بہت تھوڑے پیسے ہیں ۔کیا کروں ؟۔۔۔اس نے کافی اونچی آواز میں خود کلامی کی اور ایک نظر اپنے ہاتھ میں پکڑے پیسوں کو دیکھا۔پیسے دوبارہ اپنے چھوٹے سے بیگ میں رکھتے ہوئے    اسے زور سے ڈریسنگ پر پٹخ کر وہ وہاں سے اٹھی اور  کمرے سے باہر آئی۔

باہر آکر  اس نے ایک طائرانہ نظر پورے برآمدے پر ڈالی ۔سامنے ہی اس کی بہن کے دونوں بچے  فرش پر   بیٹھے کھیل رہے تھے۔اسے دیکھ کر  وہ دونوں  بھاگ کر اس کے پاس آئے۔

 خالہ! ہمیں آئسکریم کھانی ہے۔چلیں ۔۔۔ان میں سے ایک بچے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔دوسرے بچے نے ناگواری سے اس کی یہ حرکت دیکھی۔وہ چھے سالہ جڑواں بچے اپنی ماں سے زیادہ خالہ سے اٹیچ تھے۔

 آج نہیں پتر جی ۔کل جائیں گے آئس کریم کھانے ۔۔۔اس نے اپنے بھانجے کو ٹالنا چاہا آج اس کا موڈ بہت خراب تھا ۔اس کی بات پر اس کیوٹ سے بچے کا منہ ہی اتر گیا۔دوسرا بچہ دکھنے میں کافی سمجھدار تھا وہ خاموشی سے   واپس اپنے کھلونوں کے پاس چلا گیا۔اگلے ہی پل وہ  ایک ایک کر کے اپنے  کھلونے  زور زور سے سامنے والی دیوار پر مار رہا تھا۔میں نے کہا دکھنے میں سمجھدار تھا ۔اصل میں تو۔۔۔

ارحم!۔۔۔میرے کھلونے کیوں توڑ رہے ہو؟اپنے توڑو نا!۔۔۔وہ دوسرا بچہ غصیلی نظروں سے ارحم  کو  دیکھتا فوراََ اس لڑکی  کا ہاتھ چھوڑ کر اس   کی طرف بڑھا۔ارحم کو اس کا ٹوکنا شاید پسند نہیں آیا تھا اس نے ایک چھوٹی سی نیلی کار احمد کی طرف اچھالی جو سیدھی جا کر اس کے سر میں لگی تھی ۔وہ وہیں بیٹھ کر رونا شروع ہوچکا تھا اور ارحم باقی کے کھلونے بھی دیوار پر مار مار کر انہیں توڑنے میں مصرو ف ہوچکا تھا۔وہ لڑکی تیز ی سے احمد کے پاس آئی اور اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اس کے سر پر جہاں گاڑی لگی تھی وہاں آہستہ سے پھونک ماری۔احمد اس کے ساتھ لگا سسکیوں کے ساتھ رورہا تھا اور وہ اسے چپ  کروا رہی تھی ۔

ارحم!بس کرو اب ۔۔۔اس لڑکی نے اب کی بار قدرے غصے سے کہا۔اس کی بات سن کر ارحم کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رکے۔لیکن اگلے ہی پل اس نے ہاتھ میں پکڑی اپنی فیورٹ کار سامنے دیوار پر دے ماری ۔

بولو آج آئسکریم کھلانے جائیں گی  یا کل ۔۔۔وہ پوری طرح اس کی طرف گھوما۔اس لڑکی نے بے ساختہ اپنے سر پر ہاتھ مارا۔

اچھا! اچھا!۔۔۔آج ہی لے جاتی ہوں ۔تم پہلے اپنے کھلونے توڑنا بند کرو۔۔۔وہ عاجز آکر بولی۔احمد کا چہرہ تواس کی بات  سنتے  ہی کھل اٹھا تھا۔وہ رونا بھو ل  کر فوراََ اس کے پاس سے اٹھا۔

ارحم برو ! چلو ہم  اپنے کھلونے اٹھاتے ہیں ۔خالہ آپ جلدی سے چادر لے آئیں اپنی۔۔۔احمد نے پہلے ارحم سے کہا اور پھر اپنی خالہ سے۔جس کے منہ کے زاویے چادر کے نام پر  بے ساختہ بگڑے تھے۔

احمد پتر  جی ایسے ہی ٹھیک ہے ۔چلومیں بھی آپ کے کھلونے اٹھانے  میں مدد کرتی ہوں۔۔۔لا پرواہی سے کہتی وہ ان کے ساتھ مل کر  کھلونے ان کے بیگ میں ڈالنے لگی ۔

چلو بھئی اب خالہ اور خالہ کے دونوں پتر آئسکریم کھانے جائیں گے۔۔۔وہ ہاتھ جھاڑتے ہوئے بولی اور  شانوں پر پھیلایا ہوا دوپٹہ اتار کر گردن میں ڈالتے ہوئے  آگے کی جانب کر لیا۔کھلے بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھ کر اس نے ایک نظر دونوں بچوں کو دیکھا جو حیرت سے منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔

خالہ ۔آپ نے سنا نہیں احمد  برو نے کہا ہے کہ چادر لے کر آئیں ۔۔۔ارحم نے ایک نظر  اس کے حلیے پر ڈال کر تنبیہی نظروں سے اسے دیکھا۔احمد  نے اسے اشارہ بھی کیا تھا چپ رہنے کا لیکن ارحم کو تو رعب جھاڑنے کی عادت تھی۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Thori si mohabbat to hai tum se by Huda

Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment