Zarmaakh ki qaid by Basma Nazeer Complete novel


Zarmaakh ki qaid by Basma Nazeer complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Basma Nazeer is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Zarmaakh ki qaid by Basma Nazeer complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Basma Nazeer All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"ہمیں ڈھونڈ رہی ہو کیا؟"

وہ یکدم ہی اچھلی اور اپنا چہرہ اس جانب کیا جس کے بعد وہ گویا برف کا مجسمہ سا بن گئ۔ کمرے کے پاس ہی مرغیوں کا ڈربہ تھا جو اس وقت کسی دوسری مخلوق سے بھرا تھا، جن میں سے باہر کھڑی ایک مخلوق نے پھر سے اپنا سوال داغا۔

"کیا ہوا ڈر گئیں؟ اتنی جلدی؟" وہ ایک خونخوار لومڑی نما چہرہ تھا جس کا دھڑ انسانوں سا تھا اور پورا جسم بالوں سے بھرا تھا۔ پھر اس نے ایک اشارہ کیا اور ڈربے میں موجود باقی لومڑیاں رینگتے ہوئے باہر کو نکلی اور کھڑی ہو گئیں۔ ان سب کے چہرے خون آلود تھے جبکہ کچھ کے منہ میں تو اب بھی کٹی پھٹی مرغیاں دبی تھیں۔

صد شکر کہ بروقت ہی اس کے دماغ نے کام کرنا شروع کیا اور وہ اونچی آواز میں آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی جس کے باعث وہ تمام لومڑیاں غرانے لگیں۔ جبکہ آگے کھڑی ان کی سرغنہ خونی نظروں سے ملِکہ کو گھورنے لگی۔

"کب تک خود کو بچا پاؤ گی۔ وقت قریب آ چکا ہے" اس نے انگلی اٹھا کر گویا اسے دھمکایا، وہ سب دھیرے دھیرے واپس پیچھے کی جانب جا رہی تھیں۔ ملِکہ نے اپنا ورد جاری رکھا اور اسی اثنا میں اس کی آنکھ کھل گئ۔

 "پھر سے وہی عجیب و غریب خواب اور وہ لومڑیاں" وہ بڑبڑائی۔

"اٹھ جا نی کب تک پڑی گھر میں نحوست پھیلاتی رہے گی۔ ہزار دفعہ سمجھا چکی ہوں دیر تک سوتے رہنے سے گھر میں بے برکتی ہوتی ہے۔ پر مجھ نمانی کی کون سنتا ہے۔ اٹھ جا رے" بی اماں تسبیح کے دانے گرانے کے ساتھ اسے بھی لتاڑ رہی تھی جو چھت کو گھورتی خود کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی کہ بس یہ محض خواب تھا اور کچھ نہیں۔

"ویکھ آج بہت کام ہیں گھر میں، منظور لوگ پہنچتے ہی ہوں گے"۔ منظور کا نام سنتے ہی وہ یکدم اٹھ کے بیٹھی۔ بی اماں کچھ اور بھی بولے جا رہی تھی لیکن اسے تو بس اتنا یاد تھا کہ آج اس کا منظور آ رہا ہے۔ کتنا وقت گزر گیا۔ پانچ سال۔۔۔۔۔ اونہوں پر اسے تو یہ پانچ صدیوں کے برابر لگ رہا تھا۔

یہ انتظار بھی کتنا کٹھن ہوتا ہے ناں، یوں تو وقت پر لگا کر اڑ جاتا ہے لیکن یہی سمے جب کسی کے انتظار میں کاٹا جائے تو گویا کائنات رک سی جاتی ہے۔

"نہ جانے میرے چاند جیسے نواسے کو اس کلموہی میں کیا دکھا تھا جو سیدھا منگنی ہی کر ڈالی۔ میں کہتی ہوں یہ لڑکا خود پر گرہن لگوا کر ہی لگے گا" بی اماں پھر شروع ہوچکی تھیں۔

"بی اماں کسی کو گرہن لگے نہ لگے لیکن جیسی آپ کی سوچ ہے ناں جلد ہی آپ کے دماغ کو گرہن لگ جائے گا۔ ویسے بھی اس عمر میں بندے کو غصہ راس نہیں آتا" ملِکہ نے بستر ٹھیک کرتے ہوئے گویا انہیں مزید تپایا۔ ویسے بھی اس کی اور بی اماں کی کبھی آپس میں بن نہیں پائی تھی۔ 

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Zarmaakh ki qaid by Basma Nazeer Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment