Orphanage ki mystery afsana by Shehr Bano
Short Scens
"مارتھا!"
"مارتھا!"
مارگریٹ ہانپتی ہوئی ڈائنگ ہال میں داخل ہوئی جہاں لنچ چل رہا تھا۔ بال بکھرے ہوئے تھے، تیز تیز سانس لے رہی تھی، چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا اور الفاظ ٹوٹے پھوٹے تھے جو ادا ہونے سے قاصر تھے۔
"وہ نیلم... وہ وہاں... باتھ روم..."
آواز
اٹک گئی اور الفاظ دم توڑ گئے۔ مارگریٹ لڑکھڑا کر گرتی گرتی بچی، جسے جوزف نے پکڑ لیا۔
"نیلم! نیلم! دروازہ کھولو! میں دوبارہ نہیں کہوں گی، دروازہ کھولو ورنہ میں اندر آ رہی ہوں!"
جواب نہ پا کر مس نے دروازہ کھولا تو ان کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی۔
مس مارتھا کے پیچھے سارے بچے چلے آئے تھے اور سب چیخ پر مس کے پاس آ گئے۔ آگے کا ہولناک منظر دیکھ کر سب خوف اور ہراس میں مبتلا ہو گئے۔
نیلم نیم واہ زمین پر پڑی تھی، چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا، چہرے پر خوف کی لہر تھی جیسے کوئی جن دیکھ لیا ہو، آنکھیں پوری کھلی ہوئی اور باہر کو نکلی ہوئی تھیں، ہاتھ پاؤں مڑے ہوئے تھے، گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، گردن پر ایک گہرا کٹ تھا جس سے خون ابل رہا تھا اور چاروں طرف دیواروں پر خون کے چھینٹے تھے۔ نبض چیک کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ مر چکی تھی۔ دیواروں پر خون سے پاؤں کے نشان تھے جیسے کوئی چلتا رہا ہو۔
سب خوف سے عمارت سے باہر نکل آئے۔
مس مارتھا فوراً نرس کے پاس پہنچی اور مارگریٹ کو ہوش میں دیکھ کر اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
"مارگریٹ، اب کیسی ہو؟"
"مس... وہ نیلم..." الفاظ ٹوٹے ہوئے تھے۔
"وہ نہیں رہی۔"
لمبی خاموشی اور بہتی آنکھیں تھیں۔
"جوزف،
کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں کال کرو اور ان کی ٹیم کو حالات بتاؤ۔"
Click the link below to download this novel in pdf.
Orphanage ki mystery afsana by Shehr Bano
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment