Haq e parwarish afsana by Zaviyar Khan
Short Scens
"ایسے قانون عمر بھر کی سزا نہیں دے گا کوئی سالوں کی سزا ہوگئ بس یہ واپس آجاۓ گیا اپنی رکی زندگی پھر سے گزارنے لگے گا مگر میرا باپ نہیں آۓ گا جیسے اس نے بے دردی سے مار دیا آنسوں ایزل کا چہرہ بھگو گۓ اُسے یقین نہیں تھا اُس کے باپ کا قاتل اُسے پالنے والا خود تھا
"ہمیں
اسے خود مارنا ہوگا"
"مارنا
ہوگا واٹ؟" اُس نے نہیان کی بات کاٹی
"خون
کا بدلہ خون ہوتا ہے شیزان اگر تم نہیں ہوتے تو ہم کبھی سچ تک نہیں پہنچتے"
"بس
ہمیں ایزل کو مضبوط کرنا ہوگا یہ اختتام پر
ٹوٹ جاۓ
گئی ایسے ٹوٹنے سے بچانا ہے"
"میری
فکر نہیں کریں بھائی میں ضرار آفندی کی پرورش
ہوں بلکل اُس کی طرح سفاک"
"پلن
پر فاکس رکھو پاکستان آو دونوں ضرار کا قصہ
ختم کرنا ہے" اُس نے فون رکھ دیا ایزل چہرہ ہاتھوں میں چھپاۓ
رو دی
"جتنا
رونا ہے رو لو اختتام پر میں تمہیں رونے نہیں دونگا " شیزان نے اُسے خود سے لگایا
_______________
"ضرار
آفندی کیا ملا تمہیں یہ سب کر کہ؟"
"
حق پرورش کا حق ملا ہے مجھے"
"حق
ایسے وصول نہیں کیا جاتا ضرار جیسے تم نے کیا تمہاری پرورش جرم بن چکی ہے ابھی سے نہیں
بچپن سے"
"اور کیا کرتا میں؟ اس کے خوابوں کو خواہشوں کو رد ہونے دیتا؟"
"ہونے
دیتے ایک نا ایک دن چاچو نے مننا ہی تھا مگر واہ تم نے تو چاچو کو ہی راستے سے ہٹادیا
یتیم کردیا اُن دونوں کو ترس نہیں آیا تمہیں؟" مُنام کا انداز تالیاں بجانے والا
تھا
"کیا
تماشا ہوتا اگر میں سچ بتا دیتی تو؟"
Click the link below to download this novel in pdf.
Haq e parwarish afsana by Zaviyar Khan Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment