Pathar Ke Aansu by Fatima complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Fatima is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Pathar Ke Aansu by Fatima complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Fatima All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"کیسا ہے میرا بیٹا؟" انہوں نے پوچھا۔
"اب وہ اسٹیبل ہے " ڈاکٹر نے کہا مگر کچھ ہچکچایا، پھر وہ بات بول دی جسے سن کر باپ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
"کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کی خودکشی کی وجہ وہ درندگی ہے جو اس کے ساتھ کی گئی ہے؟"
باپ کا رنگ فق ہو گیا۔ "کیسی درندگی؟"
"اس کے جسم کے نشانات بتا رہے ہیں کہ اس کے ساتھ 'زیادتی' ہوئی ہے۔ ایک مرد ہونے کے ناطے شاید وہ یہ بوجھ اٹھا نہیں سکا..." ڈاکٹر کی آواز دھیمی تھی، مگر باپ کے لیے ایٹم بم کی طرح پھٹی۔
"زیادتی؟ میرے بیٹے کے ساتھ؟ ڈاکٹر صاحب ہوش کریں! لوگ کیا کہیں گے؟ میرا بیٹا اتنا کمزور نہیں..."
یہ وہی جملہ تھا جس نے اسے پنکھے تک پہنچایا تھا۔ "لوگ کیا کہیں گے؟"
ہسپتال کے اس کمرے میں جب ارسلان کو ہوش آیا، تو اس کا باپ سامنے کھڑا تھا۔ ان کی آنکھوں میں شفقت نہیں، غصے کا زہر تھا۔ "کیوں کیا یہ سب؟ تم مرد تھے ارسلان! تم نے اس درندے کا گلا کیوں نہیں گھونٹ دیا؟ تم مر کیوں نہیں گئے اس سے پہلے کہ یہ ذلت ہمیں دیکھنی پڑی ؟"
ارسلان کی آنکھ سے ایک گرم آنسو پھسل کر کنپٹی میں جذب ہو گیا۔ یہ وہی پتھر کے آنسو تھا جو اب پگھل رہا تھا۔
"میں لڑا تھا ابو..." اس کی آواز کسی غار سے آتی محسوس ہوئی۔ "میں بہت لڑا تھا۔ میں چیخا تھا، مگر کسی نے نہیں سنا۔ میں بے بس تھا، میرا جسم سن تھا مگر ان درندوں کو مجھ پر ترس نہیں آیا۔ کیا میرا مرد ہونا مجھے انسان ہونے سے الگ کر دیتا ہے؟ کیا مجھے درد محسوس کرنے کا حق نہیں؟"
"چپ کر جاؤ!" باپ نے دھاڑ کر اسے خاموش کرا دیا۔ "اگر یہ بات باہر نکلی تو تمہاری بہنوں کی شادیاں نہیں ہوں گی۔ لوگ کہیں گے یہ کیسا مرد ہے جو اپنی ہی حفاظت نہیں کر سکا۔ ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے، اگر یہ بات باہر نکلی تو۔"
ارسلان نے تلخی سے ہنسنے کی کوشش کی، مگر حلق کے زخم نے تڑپا دیا۔ "آپ کو اپنی پگڑی کی فکر ہے، اور مجھے اس ناپاکی کی جو میرے جسم پر مل دی گئی ہے۔"
"آج کے بعد یہ بات اس کمرے سے باہر نہیں نکلنی چاہیے۔ تم بس یہ کہو گے کہ تم ذہنی دباؤ میں تھے۔" باپ نے رخ موڑتے ہوئے کہا۔
ارسلان
نے آنکھیں بند کر لیں۔ اسے لگا کہ جس رسی نے اسے پنکھے سے لٹکایا تھا، اس کا دوسرا
سرا اب بھی اس کے باپ کے ہاتھ میں ہے۔ معاشرے نے اسے ایک بار پھر خاموش رہنے کا حکم
دے دیا تھا۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Pathar Ke Aansu by Fatima Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment