Tere sadqy sab main wariya by Aiman Razzaq (Current Part 1) Download pdf

(Current Part 1)

Tere sadqy sab main wariya by Aiman Razzaq complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Aiman Razzaq is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Tere sadqy sab main wariya by Aiman Razzaq complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Aiman Razzaq All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"آپ نے ماما کو کیوں جانے دیا زرنش جان؟" وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رودی۔

"کیونکہ انہیں اپنی اصل منزل کی طرف لوٹ کر جانا تھا اور یہ دنیا کا نظام کے ایک دن ہم سب کو بھی جانا ہے ،ہمارے روکنے سے انہوں نے رک نہیں جانا تھا حورین بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔"

"ماما بھی چلی گئیں بابا بھی چلے گئے ہمارا کیا ہوگا زرنش جان ؟ ہمیں تو ماما کے ہوتے ہوئے بھی کوئی سکون کا سانس نہیں لینے دیتا اب تو ماما بھی چلی گئیں" وہ گھٹنوں میں سر دیے سسک اٹھی ۔

"ہم یہاں نہیں رہیں گے حورین ہم واپس چلے جائیں گے اور پھر ہم اپنی زندگی پہلے جیسے گزاریں گے "ژر ش نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر اس کے آنسو صاف کیے۔

"آپ لوگوں کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں بھابھی! میں آپ لوگوں کی زمہ داری اٹھانے کو تیار ہوں اور یہ میری بیوی ہے میرے ہوتے ہوئے کوئی اس سے اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا  ،اور میں اس کے سارے خواب پورے کروں گا"

آہل کمرے میں داخل ہوتے بولا

"ہمیں کسی کا احسان لینے کی ضرورت نہیں ہم کل کی فلائٹ سے واپس چلیں جائیں گے٫

"زرنش کوئی کہیں نہیں جائے گا اور اگر کسی نے چار کی تو میں سنبھال لوں گا جتنا حق باقی سب کا ہے اتنا تم لوگوں کا بھی ہے اور اب تو یہ حویلی تمہارے نام پر اس سے بڑھ کر کیا ثبوت چاہیے ؟" شہریار نرمی سے بولا۔

"مسٹر شہریار!تم حقیقت سے نا واقف ہو اور اگر تمہیں حقیقت بتا بھی دوں تو تم یقین نہیں کرو گے کیونکہ تمہیں یہ بات ہضم نہیں ہو گی"

۔کیا مطلب ؟" شہریار نے چونک کر اسے دیکھا

"مطلب یہ میری ماما کی موت کی وجہ تمہاری ماں ہے شہریار خان" زرنش تلخی سے بولی۔

"زرنش یہ کیا بکواس ہے ؟" شہریار نے مٹھیاں بھینچ ہاں وہ اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں تھی لیکن کسی پر اتنا بڑا الزام عائد کرتے اس کی زبان نہیں لڑکھڑائی۔

,زرنش آپی کم از کم موقع تو دیکھ لیں ہماری ماما ہمیں چھوڑ کر جا چکی ہیں "حالے نور ان سب میں پہلی دفعہ بولی تھی

"بھابھی میں مورے سے بات کروں گا وہ آج کے بعد آپ سے کچھ نہیں کہیں گی لیکن میں آپ کو یہاں سے کہیں نہیں جانے دوں گا "

"آہل مج۔۔مجھے ماما پاس جانا ہے ” حورین نے اس کی آستین کھینچ کر اسے پکارا آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔

"میرا بچہ ہم جائیں گے نا میں لے کے جائوں گا اپنی جان کو" آہل نے اس کے آنسو صاف کیے۔

"آپ واقعی لے کے جائیں گے؟" حورین نے یقین دہانی کرنی چاہی۔

"ہاں میں واقعی لے کے جائوں گا ،تم رونا بند کرو"

"حالے نور بیٹا اب ہم چلتے ہیں بہت دیر ہو گئی ہے "انعم بیگم جو آس کی ساس تھیں وہاں آئیں ۔

"آنٹی آپ کون میں نے آپ کو نہیں پہچانا ؟" زرنش نے حیرت سے انہیں دیکھا۔

"آپی یہ ضرغام کی ماما ہیں میری ساس" حالے نور آہستگی سے بولی ۔

"یہ کب ہوا اور مجھے بتایا بھی نہیں کسی نے "

"آپی کل دوپہر کو میرا رشتہ پکا ہوا تھا اور یہ ماما کی فرمائش تھی"

وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ان کو دیکھ رہی تھی

"آنٹی آپ رات یہی رک جائیں صبح چلی جائیے گا وقت دیکھیں اس وقت آپ جا جانا مناسب نہیں"

"نہیں بیٹا ضرغام انتظار کر رہا ہے بھابھی بہت اچھی تھیں اللہ ان کی آگے کی منزلیں آسان کرے اور اپنا خیال رکھنا" وہ اس کے ماتھے پر پیار دیتی بولی۔

"چلیں آنٹی میں آپ کو نیچے تک چھوڑ دیتی ہوں"حالے نور نے آنکھیں پونچھی اور ان کے ساتھ چل دی۔

"بیٹا کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو بلا جھجھک بتانا میں ضرغام کے ہاتھوں بھجوا دوں گی اب تم ہماری بیٹی ہو" وہ شفقت سے بولیں

"جی آنٹی ،آپ کا شکریہ "

"ٹھیک ہے بیٹا اپنا خیال رکھنا " وہ اس کے بالوں سہلاتی ضرغام کی طرف پلٹیں" چلیں ضرغام بیٹا؟"

"ماما آپ گاڑی میں بیٹھیں میں آتا ہوں"

وہ سر اثبات میں ہلاتی وہاں سے چلی گئیں

"بہت افسوس ہوا آنٹی جا؟" اس نے انعم بیگم کے جانے کے بعد بات شروع کی۔

"اللّٰہ کے حکم کے آگے ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟" حالے نے سر جھکا لیا۔

"آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی یا کوئی بھی پرابلم کوئی تو یہ میرا نمبر ہے مجھ سے رابطہ کر لیجیے گا "اس نے جیب سے اپنا کارڈ نکال کر حالے کی طرف بڑھایا۔

"شکریہ" حالے یک لفظی کہتی کارڈ تھام گئی۔

"چلتا ہوں مسز توبہ اپنا خیال رکھیے گا " وہ سنجیدگی سے کہتا وہیں سے پلٹ گیا۔

حالے نور نے اپنے آنسو صاف کے اور پلٹی کہ کسی سے ٹکرائی ۔

"چچی کو گزرے وقت کی کتنا ہوا ہے تمہاری عیاشیاں شروع ہو گئیں ؟" زاویار طنزیہ بولا۔

"راستہ چھوڑیں میرا ،آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا میرے بارے میں ایسی بکواس کرنے کا؟" اس نے ایک ایک لفظ زور دیا۔

"اگر یہاں وہاں تک اپنی حرکتیں سدھار لو،مس حالے ہمارے ہاں یہ سب نہیں چلتا "زاویار سرد انداز میں کہتا واک آؤٹ کر گیا۔

حالے نور نے نم آنکھوں سے اس کی پشت کو دیکھا ماں کا غم بھلائے نہیں جا رہا تھا ور اوپر سے وہ اپنے زہریلے الفاظ اس کے دل کو جال چکے تھے وہ سر جھٹک کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔

Click the link below to download this novel in pdf.

Download Link (All Episodes)

Part 1

Online Reading (All Episodes Links)

Part 1

Tere sadqy sab main wariya by Aiman Razzaq Part 1

Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment