Ek behtreen insan kon by Syeda Ramsha Touqeer Complete novel


Ek behtreen insan kon by Syeda Ramsha Touqeer complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Syeda Ramsha Touqeer is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Ek behtreen insan kon by Syeda Ramsha Touqeer complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Syeda Ramsha Touqeer All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"بھائی! آپ پریشان لگ رہے ہیں؟" فریحہ نے پانی کا گلاس فارس کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔

"پریشان نہیں فریحہ، بس سوچ رہا ہوں کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ ارسلان حافظِ قرآن ہے، اس نے سینے میں اللہ کا کلام محفوظ کیا ہے، لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ جس رب کا کلام اس نے یاد کیا ہے، وہ اپنی ذات میں کسی کی شرکت پسند نہیں کرتا،" فارس نے گلاس میز پر رکھتے ہوئے کہا۔

اسی وقت ان کی والدہ، زبیدہ بیگم، کچن سے نکلیں جن کے ہاتھ میں نیاز کے لیے رکھی ہوئی پلیٹیں تھیں۔ "فارس! بیٹا، کیوں ہر وقت اس بیچارے کے پیچھے پڑے رہتے ہو؟ آخر نیکی کا ہی تو کام کر رہا ہے، غریبوں کو کھانا کھلانا کیا گناہ ہے؟"

فارس نے نرمی سے ماں کا ہاتھ تھاما۔ "امی! کھانا کھلانا ثواب ہے، لیکن نیت کس کی ہے؟ اگر یہ کھانا اللہ کے نام پر ہے تو مسجد کے باہر کیوں نہیں بٹتا؟ کسی بیوہ کے گھر کیوں نہیں جاتا؟ مزاروں کے باہر اور خاص تاریخوں پر ہی کیوں؟ جب ہم کہتے ہیں 'فلاں بزرگ کی نیاز'، تو ہم رزق کے مالک کے ساتھ کسی اور کا نام جوڑ دیتے ہیں۔ امی، یہی تو وہ باریک شرک ہے جس سے اللہ نے ہمیں ڈرایا ہے۔"

رات بھیگی تو گلی میں رونق بڑھ گئی۔ ارسلان اور اس کے کچھ دوست، جو خود بھی مدارس سے وابستہ تھے، نعرے لگا رہے تھے اور نیاز کی پلیٹیں بانٹ رہے تھے۔ فارس بالکونی میں کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ لوگ کس طرح عقیدت کے نام پر کھانے پر ٹوٹ رہے تھے، جیسے یہ کھانا اللہ کا نہیں بلکہ کسی جادوئی طاقت کا حصہ ہو۔

ارسلان اوپر آیا اور فارس کے پاس بیٹھ گیا۔ "بھائی، آپ کیوں اتنا بوجھ لیتے ہیں؟ ہم اللہ ہی کا تو شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں ان بزرگوں کے ذریعے راستہ دکھایا۔"

فارس نے ارسلان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا، "ارسلان! تم نے سورہ الفاتحہ کتنی بار پڑھی ہوگی؟ 'ایاک نعبد و ایاک نستعین' کا کیا مطلب ہے؟"

ارسلان نے فوراً جواب دیا، "ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔"

"تو پھر مدد کے لیے درباروں کا رخ کیوں؟ پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ 'بابا جی دیں گے'؟ ارسلان، تم قرآن کے حافظ ہو، تمہارا کام لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا تھا، نہ کہ رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑنا۔ اج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہمارے پاس 'حفاظ' تو بہت ہیں، مگر 'عالم' اور 'عامل' بہت کم۔"

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Ek behtreen insan kon by Syeda Ramsha Touqeer

Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment