Qasr-e-Waqt by Eman Fatima complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Eman Fatima is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Qasr-e-Waqt by Eman Fatima complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Eman Fatima All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"میں یہیں رہوں گی اس کے ساتھ۔ میری ماں ٹھیک ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ میں اپنی زندگی جیوں۔ اور میری زندگی اب یہیں ہے اس کے ساتھ، اللّٰہ کی رضا کے لیے۔"
فرشتے نے کہا "اللّٰہ تم دونوں سے راضی ہے۔ تم نے صبر کیا، بھروسہ کیا، اور ایک دوسرے کے لیے قربانی دی۔ یہی کامیابی ہے۔"
پھر وہ غائب ہو گیا۔
اس کی جگہ ایک چھوٹا سا گھر تھا لکڑی کا، خوبصورت، درخت کے نیچے۔ گھر کے اندر ایک چولہا تھا، ایک چارپائی تھی، اور کھڑکی سے دریا دکھائی دیتا تھا۔
"یہ ہمارا گھر ہے،" شیان نے کہا۔
"ہمارا،"
منحہ نے کہا۔ "الْحَمْدُ لِلَّهِ۔"
اور اسی رات ان دونوں کا سادگی سے نکاح ہوا
اور
پھر انہوں نے ساتھ مل کر دعا پڑھی:
"رَبَّنَا
آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"
(اے ہمارے رب، ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔)
وہ اس نئے زمانے میں کئی دن کئی مہینے کئی سال رہے۔
منحہ نے وہاں ایک چھوٹا سا باغ لگایا، جہاں وہ سبزیاں اگاتی تھی۔ شیان نے لکڑی کے فرنیچر بنائے۔ وہ ساتھ میں کھانا پکاتے، ساتھ میں دریا کے کنارے بیٹھتے، ساتھ میں ستارے گنتے اور اللّٰہ کا شکر ادا کرتے۔
کبھی کبھار فہد صدیق ان سے ملنے آتے اور شام کو ان کے ساتھ چائے پیتے۔ مالک زمان بھی کبھی آتا وقت کی نئی کہانیاں سنانے، اور اللّٰہ کی قدرت کے بارے میں بتانے۔
لیکن سب سے خوبصورت دن وہ تھا جب منحہ نے شیان سے ایک سوال پوچھا "کیا تمہیں کبھی اپنی پرانی دنیا یاد آتی ہے؟"
شیان نے سوچا "ہاں۔ زین یاد آتا ہے میرا دوست۔ میری حویلی۔ دادی امی کی کہانیاں۔"
"تو کیا تم واپس جانا چاہو گے؟"
شیان نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ "میری دنیا اب تم ہو، منحہ۔ باقی سب صرف یادیں ہیں اور میں ان یادوں پر اللّٰہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔"
منحہ
نے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا اور کہا:
"الْحَمْدُ
لِلّٰہِ الَّذِي هَدَانَا لِهَٰذَا"
(اللّٰہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس راستے پر لگایا۔)
اور اس نئے زمانے میں، جہاں وقت نہیں تھا، وہ دونوں ہمیشہ کے لیے زندہ رہے ایک دوسرے کی آنکھوں میں، ایک دوسرے کے دل میں، ایک دوسرے کی ہر سانس میں اور سب سے بڑھ کر، اللّٰہ کی رحمت میں۔
کچھ عرصے بعد شاید برسوں بعد شیان اور منحہ اس درخت کے نیچے بیٹھے تھے، جب اچانک ایک چھوٹا سا دروازہ درخت کے تنے میں کھلا۔
اس دروازے سے ایک نوجوان لڑکا نکلا جس کی آنکھیں شیان جیسی تھیں، اور مسکراہٹ منحہ جیسی
"ابا،
اماں،" اس نے کہا۔ "میں نے اللّٰہ کی قدرت کے بارے میں سنا ہے اور میں اسے خود دیکھنا چاہتا ہوں۔ کیا میں جا سکتا
ہوں؟"
شیان
اور منحہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر
اپنے بیٹے کی طرف۔
"جا،
بیٹا،" شیان نے کہا۔ "لیکن یاد رکھنا
تم جہاں بھی جاؤ، اللّٰہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور تمہارا گھر یہیں ہے۔"
"اور
یہ کہ سب سے بڑا قصر اللّٰہ کا نام ہے،" منحہ نے کہا۔ "اسے کبھی مت بھولنا۔"
نوجوان
نے انہیں دیکھا "بسم اللّٰہ" کہا
اور پھر چل دیا، نئے سفر پر۔
شیان نے منحہ کا ہاتھ پکڑا اور دونوں اس درخت کے سائے میں بیٹھے رہے، اللّٰہ کا شکر ادا کرتے ہوئے، جب تک کہ وقت ختم نہ ہو گیا۔
لیکن
وقت کبھی ختم نہیں ہوتا بالکل اچھی کہانیوں
کی طرح۔ اور بے شک اللّٰہ کی رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment