Takht by Rimsha Riaz (Current Episode 1) Download pdf

(Current Episode 1)

Takht by Rimsha Riaz complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Rimsha Riaz is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Takht by Rimsha Riaz complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Rimsha Riaz All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

’’الیرا باجی؟ وہ جندب صاحب آ گئے!‘‘ وہ سلطانہ تھی، حویلی کی ملازمہ۔ 

الیرا کے ہاتھوں سے کلینڈر پھسلا اور فرش پہ جا گرا۔ 

اس نے دونوں ہاتھ منہ پہ رکھ لیے۔ 

’’میں آتی ہوں‘‘… گڑبڑا کر اس سے کہا۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھی، جیسے وقت نہیں تھا۔ وہ سفید شلوار قمیص پہنے تھی۔ سلطانہ چلی گئی۔ الیرا نے کلینڈر وہیں رہنے دیا اور پھر دروازے کی سمت بھاگی۔ وہ اوپر والی منزل پہ تھی جہاں بہت سے کمرے تھے۔ 

آج ہر دروازہ بند تھا سوائے ایک کے۔ اس نے بھاگتے ہوئے قدم سست کیے۔ ایک ادھیڑ عمر آدمی اس کو ہی دیکھ رہے تھے۔ ان کے تاثرات سرد تھے، ماتھے پہ بل تھے۔ ایک رعب تھا، وہ پروقار شخصیت کے مالک تھے۔ الیرا نے زخمی نظروں سے انھیں دیکھا، پھر نفی میں سر ہلاتی سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔ اس کے پیروں میں جوتے نہیں تھے۔ دوپٹہ ڈھیلا ہوا، سر سے سرکا، کالے بالوں نے جھلک دکھائی۔ وہ بھاگے جا رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ کالے رنگ کی ٹیکسی حویلی میں رکی تھی۔ کوئی اس کی طرف پشت کیے ڈرائیور کو پیسے دے رہا تھا۔ الیرا کا سارا جسم برف ہو گیا۔ 

وہ شخص بھورے رنگ کی قمیض پہنے تھا۔ پیروں میں عام سے چپل تھے۔ ٹیکسی والا چلا گیا تو وہ پلٹا۔ 

اس کے بال تھوڑے بڑھ گئے تھے، کچھ ماتھے پہ اور کچھ کانوں کے اردگرد بکھرے تھے۔ کان میں ایک بالی تھی۔ 

اس کی آنکھیں شہد کی مانند تھیں۔ دراز قد، بڑھی شیو… وہ الیرا کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا۔ الیرا ہنوز بت بنی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔ 

وہ مغرورانہ انداز سے چلتا اس کی طرف آیا! الیرا نے تھوک نگلا۔ وہ انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ 

’’مجھے پتا تھا صرف ایک شخص ہی منتظر ہو گا میرا!‘‘ وہ اس کی طرف آیا۔ الیرا اس سے لپٹ گئی۔ 

’’جندب…‘‘ وہ رونے لگی تھی… 

’’رونا نہیں، اب آ گیا ہوں۔ سب ٹھیک کر دوں گا۔‘‘ وہ اس کو حصار میں لے کر اس کے سر پہ بوسہ دے کر بولا۔ 

’’چلو گی میرے ساتھ؟‘‘ جندب نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا۔ 

اس نے فوراً سر کو خم دیا۔ 

جندب مسکرایا۔ 

’’میں بےقصور تھا الیرا۔ مگر انصاف نے دیر کر دی۔‘‘ (ہمیشہ کی طرح)۔ وہ اس کو ساتھ لگائے بولا تھا۔ ہونٹوں پہ شکوہ تھا۔ 

’’بس اب ہم دور چلے جائیں گے، بس تم اور میں!‘‘ وہ نرمی سے کہہ کر اس کے ساتھ اندر بڑھنے لگا۔ 

’’قاتل ہمارے گھر میں کیوں قدم رکھ رہا ہے، الیرا؟‘‘ وہ اندر بڑھنے ہی لگے تھے جب ایک گرج دار آواز پہ رکے… 

قاتل؟ کیا ماجرا تھا؟ 

کیا وہ مجرم تھا؟ 

جعفری ہاؤس میں خاموشی چھا گئی تھی۔ 

کچھ راز کھلنے میں وقت لگتا ہے۔ 

گھڑیال کی ٹک ٹک اور وقت پلٹ گیا ایک بار پھر سے ماضی میں… 

Click the link below to download this novel in pdf.

Download Link (All Episodes)

Episode 1

Online Reading (All Episodes Links)

Episode 1

Takht by Rimsha Riaz Epi 1 Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment