Khali hath afsana by Rushna Akhter
Short Scens
کمرے
میں خاموشی چھا گئی۔ باہر گلی میں کسی موٹر سائیکل کے گزرنے کی آواز آئی۔ سلیم کو لگا
جیسے وہ شور اس کے خالی پیٹ میں گونج رہا ہو۔ اچانک چھوٹے منّے کی آواز آئی جو نیند
میں بڑبڑا رہا تھا: ابا... غبارہ...
سلیم
کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ ایک غبارہ جس کی قیمت شاید چند روپے تھی۔ آج اس کے لیے ہمالیہ
سر کرنے کے برابر لگ رہی تھی۔ اس نے اٹھ کر اپنی پرانی قمیض پہنی۔
کہاں
جا رہے ہو؟ ناصرہ نے گھبرا کر پوچھا۔
کہیں
نہیں۔ بس یہ دیکھنے کہ کیا آسمان سے واقعی رزق اترتا ہے یا انسان کو زمین میں دفن ہو
کر ہی سکون ملتا ہے۔وہ گلی میں نکل آیا۔ بازار کی روشنیاں اسے چڑھا رہی تھیں۔ بڑے بڑے
اشتہارات پر لکھی رعایتیں ان لوگوں کے لیے تھیں جن کی جیبیں بھری تھیں۔ سلیم تندور
کے پاس سے گزرا تو گرم روٹیوں کی خوشبو نے اس کے معدے میں مروڑ اٹھا دیے۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Khali hath afsana by Rushna Akhter Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment