Mout se zindagi tak ka safar by Mehwish Basharat complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Mehwish Basharat is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Mout se zindagi tak ka safar by Mehwish Basharat complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Mehwish Basharat All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"آ
گیا ہمارا شہزادہ!" ساحل نے کھڑے ہو کر باہیں پھیلائیں اور طنزیہ قہقہہ لگایا۔
"ہم تو سمجھے آج پھر مصلے پر بیٹھ کر بخشش کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔"
حویلی
کے تاریک ہال میں تاش، شراب اور قہقہوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ ساحل نے اپنا جام
اٹھایا اور حمزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا: "حمزہ بھائی! آج جو تم نے جوے
کی میز پر رقم اڑائی ہے نا... سچ میں کمال کر دیا۔ جگر چاہیے اتنا پیسہ ایک رات میں
پھونکنے کے لیے۔"
علی
نے پتے ترتیب دیتے ہوئے مٹیالی مسکراہٹ کے ساتھ شہ دی: "اور نہیں تو کیا! ابا
کی فیکٹری ہے، نوٹ چھپنے والی مشین ہے۔ پیسے کی کیا کمی ہے؟ یار حمزہ، دنیا کما ہی
اس لیے رہی ہے تاکہ تم جیسے نواب عیاشی کر سکیں۔ اڑاؤ بھائی، اڑاؤ!"
حمزہ
نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا، دھواں فضا میں چھوڑا اور تلخی سے مسکرایا: "پیسے
کی ٹینشن کسے ہے یار؟ دولت تو ہاتھ کی میل ہے، بہتی رہے گی۔ بس اس گھر کے ماحول نے
دم گھوٹ رکھا ہے۔ صبح شام وہی ایک راگ... نماز، تقویٰ، آخرت! اماں نے جینا حرام کر
دیا ہے۔"
ساحل
نے جام کا ایک گھونٹ بھرا اور حمزہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اکسایا: "یہی
تو تمہاری کمزوری ہے حمزہ۔ تم پچیس سال کے مرد ہو، کوئی اسکول کے بچے ہو کیا؟ میاں!
مائیں تو بوڑھی ہو کر سٹھیا جاتی ہیں، ان کا کام ہی کڑھنا ہے۔ تم اپنی جوانی ان کے
چکر میں کیوں مٹی کر رہے ہو؟"
حمزہ
نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور غصے سے آگے بولا: "مطلب حد ہوتی ہے یار! ابا خود تو
دنیا سے چلے گئے، لیکن جاتے جاتے اماں کے پلے یہ مصیبت باندھ گئے کہ 'حمزہ کو نیک بنانا'۔
اب کیا میں چوبیس گھنٹے مصلے پر بیٹھا رہوں؟ اپنی کوئی لائف ہی نہ جیوں ؟زندگی عذاب
بنا دی ہے اس عورت نے۔"
علی
نے پتے میز پر پٹخے اور طنزاً بولا: "نیک بننا ہے تو جاؤ پھر کسی خانقاہ میں بیٹھ
جاؤ۔ یہاں حویلی میں ہمارا وقت کیوں برباد کر رہے ہو؟ یار حمزہ! باپ تو مرتے مرتے وصیتیں
ہی کرتے ہیں۔ اب کیا تم ان مردوں کے کہنے پر اپنی جیتی جاگتی زندگی کا جنازہ نکال دو
گے؟ شیر بنو یار، اپنے فیصلے خود کرو!"
اسی
لمحے حمزہ کے فون کی سکرین روشن ہوئی۔ اس نے دیکھا—اماں کی 15 مسڈ کالز چمک رہی تھیں۔
حمزہ
کے چہرے پر بیزاری آئی۔ اس نے ایک جھٹکے سے فون کو سائلنٹ پر ڈالا، اسے میز پر پٹخا
اور غرا کر بولا: "دیکھو ذرا! پندرہ کالز! یہ عورت مجھے ایک منٹ کا سکون بھی خیرات
میں نہیں دے سکتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں نے سانس بھی ان کی اجازت سے لینا ہو۔"
Click the link below to download this novel in pdf.
Mout se zindagi tak ka safar by Mehwish Basharat
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment