(Current Chapter 1)
Abateel by Mahnoor Aqeel complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Mahnoor Aqeel is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Abateel by Mahnoor Aqeel complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
“بابا
"" ماریہ کے ہونٹ بے آواز ہلے تھے اس کے ہونٹوں اور گلے سے جیسے کسی نے سارے
الفاظ کھینچ لیے تھے ۔۔۔ "بابا" ایک زوردار چیخ شاہ میر صاحب کے کمرے میں
گونجی تھی ، ماریہ متوش سی ہوتی اپنے باپ کی طرف بھاگی تھی ۔۔
شاہ
میر صاحب کا وجود خون میں نہایا ہوا تھا ان کے جسم پر جگہ جگہ کاٹنے کے نشان تھے جیسے
انہیں جان پوچھ کر کٹ لگائے گئے تھے ان کے وجود کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ تھا جہاں سے
خون نہ رس رہا ہو
گردن ایک طرف ڈھلکی پڑی تھی اور ان کی گردن پر بھی
ویسے ہی بار بار کاٹنے کے نشان واضح تھے ان کی گردن سے خون ابل ابل کر باہر گر رہا
تھا بالکل ویسے ہی جیسے چولہے پر پڑی چائے زیادہ دیر پکنے پر پتیلی سے باہر کو ابل
پڑتی ہے ،
ماریہ
کے لیے اس سب کو خواب سمجھنا بھی ناممکنات میں سے ایک تھا کیوں کہ وہ خواب میں بھی
اپنے باپ کو اس قدر تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔
"یہ۔۔یہ
کس نے کیا بابا "" ماریہ نے شاہ
میر صاحب کی ایک طرف ڈھلکی ہوئی گردن کو اٹھا کر سیدھا کیا اور ان سے سوال کیا تھا
جو کہ شاید اب جواب دینے کے اہل نہ رہے تھے ، پر جیسے ہی ماریہ نے ان کا چہرہ خود کی
جانب موڑا ایک اور ہولناک چیخ کمرے میں گونجی تھی ماریہ خوف سے پیچھے کی طرف جا گری
، شاہ میر صاحب کا چہرہ مسخ کر دیا گیا تھا ،جیسے ان کے چہرے پر بار بار کسی بھاری
چیز سے ضرب لگائی گئی ہو
ماریہ کے لیے اپنے باپ کا چہرہ پہچاننا بہت مشکل
تھا اگر شاہمیر صاحب اپنے دوپہر والے حلیے میں نہ ہوتے تو ماریہ کبھی اس بے جان پڑے
وجود کو اپنا باپ نہ مانتی مگر یہ اسی کے بابا تھے ،پر یہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا ،کس
نے اس کے باپ کہ یہ حالت کی تھی ماریہ کے لیے سب کچھ یکدم قبول کرنا بہت مشکل تھا ،
ماریہ بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی تھی اس نے اپنے
فون کے لیے پورے کمرے میں نظر دہرائی تھی سائیڈ ٹیبل کے پاس اس کو اپنا فون پڑا ہوا
نظر آیا تھا ماریہ نے اپنے فون کو پکڑ بے دریغ پولیس کو فون کر دیا تھا۔۔
"تمہیں
لگتا ہے آج تم مجھ سے جیت جاؤ گے؟ خواب دیکھنا اچھی بات ہے، مگر اپنی پنکھ
دیکھ کر اُڑان بھرنی چاہیے زیادہ اوپر اُڑنے والے ہمیشہ منہ کے بل گرتے ہیں
، سمجھے ؟؟مصطفٰی ارسلان نے مغروریت کی انتہا کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
خزیما
نے سخت نظر سے اسے دیکھا اور جواب دیا
"غرور
ہمیشہ گرتا ہے، مصطفٰی ارسلان… آج تمہاری یہ
خود پسندی بھی تمہیں نیچے لے آئے گی۔" دونوں کے درمیان فضا میں تناؤ بڑھ گیا۔
ان کے دوست خاموش کھڑے تھے، جیسے اگلے لمحے ہونے والے مقابلے کا اندازہ لگا رہے ہوں۔۔۔۔
مصطفیٰ
ارسلان نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے جواب دیا تھا
"یہ
ریس صرف رفتار کی نہیں، حوصلے کی ہے… اور حوصلہ میرے پاس سب سے زیادہ ہے۔"
خزیما
نے بھی اپنی گاڑی کی طرف رخ کیا اور کہا "پھر دیکھتے ہیں، آج غرور جیتتا ہے یا
حقیقت۔"
ایک دوست نے ہاتھ اٹھا کر گنتی شروع کی…خاموشی مزید گہری ہو گئی… انجنوں کی آواز بلند ہونے لگی…اور پھر ایک لمحہ آیا—جب رات کی خاموشی چیخ کر ٹوٹ گئی، اور دونوں گاڑیاں اندھیرے میں دو مختلف راستوں پر بجلی کی طرح نکل گئیں… یہ وہ رات تھی جس کا نتیجہ صرف رفتار نہیں، بلکہ انا اور ضد طے کرنے والی تھی…
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
Abateel by Mahnoor Aqeel Chapter 1 Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment