Dear shaitaan aur zameer by Huda Complete


Dear shaitaan aur zameer by Huda


Download free online Urdu books pdf, Free online reading

social, romantic, Urdu novel/afsana

Dear shaitaan aur zameer by Huda

complete in pdf.

Short Scens

آپ  میں سے کوئی کبھی  ساحلِ سمندر پر    گیا ہے ؟۔۔۔اس نے سوال اس لڑکے سے کیا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک نظر پورے ہال پر بھی ڈالی۔وہاں کئی ہاتھ اوپر ہوئے ۔

ساحلِ سمندر پر کھڑے ہو کر  جب آپ ریت سے ٹکراتی  سمندر کی لہروں کو دیکھتے ہیں تو وہ آپ کو اپنی طرف اٹریکٹ کرتی ہیں  ۔خاص طور پر جب سورج طلوع ہورہا ہو یا غروب ہورہا ہو۔ایسا ہی ہے نا؟۔۔۔

وہ  وہاں موجود سب لوگوں  سے پوچھ رہا تھا۔ جب ایک حجابی لڑکی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔وہ شاید  کچھ بتانا چاہ رہی تھی۔اسی لیے اسے مائیک دیا گیا۔

سر! میں اس میں کچھ ایڈ کرنا چاہتی ہوں اگر آپ کی اجازت  ہو تو۔۔۔وہ لڑکی تھوڑا سا جھجھک رہی تھی۔ولی نے ذرا سی گردن موڑ کر آہستہ سے سر کو خم دیا۔

سورج کے طلوع ہونے اور غروب ہونے کو ہم کسی انسان کی جوانی اور بڑھاپے سے بھی ڈینوٹ کر سکتے ہیں ۔جب جوانی اپنے عروج پر ہوتی ہے اور جب    آدھی ٹانگیں قبر میں ہوتی ہیں اس وقت اٹریکشن زیادہ  ہونا فطری بات ہے۔۔۔

لہجے میں ہلکا سا طنز لیے اس نے پہلی نشت پر بیٹھے ایک اڈھیر عمر پروفیسر کو دیکھا پھر ذرا سا گھوم کر لڑکوں والی سائیڈ پر چوتھی لائن میں بیٹھے ایک نوجوان لڑکے کو۔

ایک جملہ اور پورے ہال کے سامنے  دو لوگ شرمندہ ہوچکے تھے۔ ولی محمد چند لمحے تو کچھ بول ہی نہیں سکا۔ہادی جو اپنے فون میں متوجہ تھا اس لڑکی کی بات سن کر ایک لمحے کے لیے دنگ رہ گیا۔

دل ہی دل میں وہ اس لڑکی کو داد دیے بنا نہیں رہ سکا تھا۔اس لڑکے کا سوال اور ولی محمد کا جواب وہیں رہ گیا تھا اور سب کی سرگوشیاں ایک بار پھر شروع ہوچکی تھیں ۔جن کا موضوع وہ دو لوگ تھے۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Dear shaitaan aur zameer by Huda Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment