Yadon se agay by Ayesha Saddiqa complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Ayesha Saddiqa is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Yadon se agay by Ayesha Saddiqa complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Ayesha Saddiqa All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
>
“آج diary میں اذلان کا نام نہیں لکھنا۔”
چوتھا
دن:
>
“آج mirror میں دیکھ کر اپنے بارے میں
ایک اچھی بات لکھنی ہے۔ جھوٹ بھی چلے گا، شروع میں انسان کو خود سے بھی practice
کرنی پڑتی ہے۔”
ماہ
نور ہر task مکمل نہیں کر پاتی تھی۔
کبھی
fail
ہو جاتی۔
کبھی
دوبارہ اذلان کی chat پڑھ لیتی۔
کبھی
اس کا number unblock کرنے کا دل کرتا۔
مگر
ہر بار حیدر یہی کہتا:
“ایک
برا دن تمہاری ساری progress ختم نہیں کرتا۔ یہ healing
ہے، board exam
نہیں کہ ایک غلط answer
پر result
خراب ہو جائے۔”
دعا
ہر روز اسے یاد دلاتی:
“تم
واپس آ رہی ہو۔ آہستہ، مگر آ رہی ہو۔”
---
پھر
ایک شام اذلان دوبارہ آیا۔
اس
بار message نہیں۔
وہ
سیدھا کیفے آیا۔
ماہ
نور، دعا اور حیدر corner table پر بیٹھے تھے۔ ماہ نور diary
میں کچھ لکھ رہی تھی۔ حیدر counter
پر کھڑا cup صاف کر رہا تھا، حالانکہ وہ
cup پہلے ہی صاف تھا۔ کچھ لوگ tension
میں بھی کام کرنے کا ڈرامہ کرتے ہیں، civilization
اسی پر چل رہی ہے۔
دروازہ
کھلا۔
اذلان
اندر داخل ہوا۔
ماہ
نور کا ہاتھ رک گیا۔
دعا
فوراً سیدھی بیٹھ گئی۔
حیدر
نے cup counter پر رکھا، مگر کچھ نہیں بولا۔
اذلان
آہستہ آہستہ ماہ نور کی table تک آیا۔
“ماہ
نور، بات کرنی ہے۔”
ماہ
نور کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔
پرانا
درد پھر واپس آیا۔
پرانی
محبت بھی۔
اور
وہی پرانی کمزوری۔
مگر
اس بار اس نے خود کو اکیلا محسوس نہیں کیا۔
دعا
اس کے ساتھ تھی۔
حیدر
قریب تھا۔
اور
سب سے ضروری، ماہ نور خود وہاں تھی۔
ماہ
نور نے آہستہ سے کہا:
“یہیں
کہو۔”
اذلان
نے حیدر کی طرف دیکھا، پھر دعا کی طرف۔
“Private
بات ہے۔”
ماہ
نور نے پہلی بار صاف آواز میں کہا:
“جو
بات مجھے توڑ کر کہی گئی تھی، وہ اب مجھے چھپا کر نہیں سننی۔”
اذلان
خاموش ہو گیا۔
حیدر
نے نظریں جھکا لیں، جیسے وہ یہ لمحہ ماہ نور کا رہنے دینا چاہتا ہو۔
اذلان
نے گہری سانس لی۔
“میں
واپس آنا چاہتا ہوں۔”
ماہ
نور کا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔
یہی
وہ جملہ تھا جس کا وہ کبھی انتظار کرتی تھی۔
مہینوں
تک۔
راتوں
تک۔
ہر
notification
پر۔
ہر
دعا میں۔
مگر
عجیب بات تھی۔
جب
وہ جملہ آخرکار آیا، تو اسے خوشی نہیں ہوئی۔
بس
تھکن محسوس ہوئی۔
ماہ
نور نے پوچھا:
“کیوں؟”
اذلان
نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“کیونکہ
میں تمہیں miss کرتا ہوں۔”
ماہ
نور نے ہلکی سی تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“جب
میں ٹوٹ رہی تھی، تب؟”
اذلان
نے نظریں چرا لیں۔
“میں
confused
تھا۔”
“اور
میں؟” ماہ نور کی آواز کانپی، مگر ٹوٹی نہیں۔ “میں کیا تھی، اذلان؟ انتظار کرنے والی
چیز؟ option؟ یا وہ انسان جو ہمیشہ سمجھ جائے؟”
اذلان
نے فوراً کہا:
“تم
بات کو بڑھا رہی ہو۔”
ماہ
نور نے آنکھیں بند کیں۔
یہی
جملہ۔
پہلے
وہ یہ سن کر خاموش ہو جاتی تھی۔
مگر
آج نہیں۔
اس
نے آنکھیں کھولیں۔
“نہیں۔
میں پہلی بار بات کو اس کے اصل نام سے پکار رہی ہوں۔”
کیفے
میں خاموشی چھا گئی۔
اذلان
نے آہستہ سے کہا:
“تو
بس؟ سب ختم؟”
ماہ
نور کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“نہیں۔
سب ختم نہیں۔ میں ختم نہیں۔ یہی تو پہلی بار سمجھ آیا ہے۔”
اذلان
نے کچھ کہنا چاہا، مگر ماہ نور نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“میں
نے تم سے بہت محبت کی تھی۔ اتنی کہ خود کو بھول گئی۔ تمہارے ایک message
سے میرا دن بنتا تھا، تمہاری خاموشی سے میری رات برباد ہو جاتی تھی۔
میں نے تمہیں کبھی برا نہیں چاہا۔ آج بھی نہیں چاہتی۔”
وہ
رکی۔
اس
کی آواز نرم ہو گئی۔
“مگر
میں اب واپس وہاں نہیں جا سکتی جہاں میری عزت، میرا سکون اور میری پہچان کھو گئی تھی۔”
اذلان
کی آنکھوں میں پہلی بار regret دکھائی دیا۔
“ماہ
نور…”
ماہ
نور نے آہستہ سے کہا:
“مجھے
تم سے نفرت نہیں ہے۔ بس اب میں خود سے محبت سیکھ رہی ہوں۔ اور اس میں تمہاری جگہ نہیں
بنتی۔”
یہ
کہتے ہوئے اس کا دل ٹوٹا۔
مگر
اس بار وہ ٹوٹ کر بکھری نہیں۔
وہ
سیدھی بیٹھی رہی۔
اذلان
کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر چپ چاپ کیفے سے باہر نکل گیا۔
دروازہ
بند ہوا۔
ماہ
نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
دعا
نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
حیدر
آہستہ سے اس کے سامنے چائے رکھ گیا۔
“آج
والی چائے free ہے۔”
ماہ
نور نے آنسوؤں میں مسکرانے کی کوشش کی۔
“کیوں؟”
حیدر
نے کہا:
“کیونکہ
آج تم نے خود کو واپس خرید لیا۔ کافی مہنگا سودا تھا، مگر worth
it۔”
ماہ
نور رو بھی رہی تھی، ہنس بھی رہی تھی۔
اور
شاید یہی healing تھی۔
درد
بھی موجود۔
مسکراہٹ
بھی موجود۔
مگر
اس بار وہ زندہ تھی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Yadon se agay by Ayesha Saddiqa Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment